سی جی ایس ٹی حکام سے ملاقات میں عملی مشکلات گنوائیں گئیں، چھوٹے بُنکروں پر اضافی دستاویزی و مالی بوجھ نہ ڈالنے کا مطالبہ، پیداواری لاگت، کاروبار اور روزگار متاثر ہونے کا خدشہ۔
EPAPER
Updated: August 28, 2026, 11:09 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
سی جی ایس ٹی حکام سے ملاقات میں عملی مشکلات گنوائیں گئیں، چھوٹے بُنکروں پر اضافی دستاویزی و مالی بوجھ نہ ڈالنے کا مطالبہ، پیداواری لاگت، کاروبار اور روزگار متاثر ہونے کا خدشہ۔
جی ایس ٹی کے تحت جاب ورک سے متعلق آئی ٹی سی- ۰۴؍کی مجوزہ دفعات نے بھیونڈی کی ٹیکسٹائل صنعتکاروں میں تشویش پیدا کردی ہے۔ صنعتکاروں اور نمائندوں کا کہنا ہے کہ مجوزہ نظام موجودہ شکل میں نافذ ہونے کی صورت میں چھوٹے بُنکروں اور کاروباریوں پر اضافی دستاویزی اور مالی بوجھ پڑ سکتا ہے جس سے پیداواری لاگت، کاروبار اور روزگار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی سلسلے میں صنعت کے نمائندوں نے ممبئی میں سی جی ایس ٹی کے اعلیٰ افسران سے ملاقات کرکے اپنے اعتراضات اور تجاویز پر مشتمل تحریری یادداشت پیش کی۔ میٹنگ ممبئی سی جی ایس ٹی کی کمشنر دیپ شکھا اروڑا، سی جی ایس ٹی آڈٹ کمشنر پریا گوئل اور سی جی ایس ٹی بھیونڈی کے کمشنر سنجیو کمار سنگھ کی قیادت میں ہوئی۔ اس دوران آئی ٹی سی-۰۴؍ کی مجوزہ دفعات اور ان کے ٹیکسٹائل صنعت پر ممکنہ اثرات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے:کین بیتوا ریوَر لنک پروجیکٹ کے خلاف قبائلی برادری آخراحتجاج کیوں کررہی ہے؟
صنعتی نمائندوں نے افسران کو بتایا کہ ٹیکسٹائل صنعت کا کام کئی مراحل میں ہوتا ہے۔ کپڑا رنگائی، پرنٹنگ، پروسیسنگ اور دیگر کاموں کے لئے مختلف یونٹوں کو بھیجا جاتا ہے۔ ایسے میں ہر مرحلے پر قیمت سے متعلق بل اور دیگر دستاویزات پیش کرنے کی شرط چھوٹے کاروباریوں کے لئے عملی دشواری کا باعث بن سکتی ہے۔ نمائندوں کے مطابق چھوٹے یونٹ محدود وسائل کے ساتھ کام کرتے ہیں، اس لئے پیچیدہ کاغذی کارروائی سے ان کے انتظامی اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ ضوابط کی تعمیل میں معمولی غلطی یا کمی پر بھاری جرمانہ عائد ہونے کی صورت میں چھوٹے بُنکروں کے لئے اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا مشکل ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: گوا میں انسداد تبدیلی مذہب بل کو کابینہ کی منظوری ،عمر قید تک سزا کی تجویز
صنعتکاروں نے کہا کہ مجوزہ نظام کا اثر صرف بھیونڈی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ملک کے دیگر ٹیکسٹائل مراکز بھی اس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ اس لئے انہوں نے سی جی ایس ٹی حکام سے مطالبہ کیا کہ نئے ضوابط نافذ کرنے سے قبل ٹیکسٹائل صنعت کی زمینی صورتحال، جاب ورک کے طریقۂ کار اور چھوٹے بُنکروں کی مشکلات کو مدنظر رکھا جائے۔ انہوں نے حکومت سے ایسا آسان اور قابلِ عمل نظام وضع کرنے کا مطالبہ کیا جس سے جی ایس ٹی قوانین کی تعمیل بھی یقینی ہو اور صنعت پر غیر ضروری دستاویزی و مالی بوجھ بھی نہ پڑے۔ نمائندوں نے مجوزہ دفعات میں ضروری ترمیم کے ساتھ صنعت سے مزید مشاورت کی بھی اپیل کی۔ میٹنگ میں بھیونڈی سے تروپتی وی سِری پورم، چندولال سمریہ، جاوید اعظمی، سی اے آشوتوش ترویدی، سی اے اجے نندال، محبوب خان، گڈم منوہر، بیری سریش اور شری دھر وڈے پلی اور ٹیکسٹائل صنعت سے وابستہ بڑی تعداد میں نمائندے موجود تھے۔
تروپتی وی سِری پورم نے بتایا کہ نمائندوں کو امید ہے کہ سی جی ایس ٹی محکمہ ان کی تجاویز اور مسائل پر سنجیدگی سے غور کرے گا اور ٹیکسٹائل صنعت کے مفاد میں ضروری راحت اور عملی ترمیمات کی جائیں گی۔
آئی ٹی سی- ۰۴؍کیا ہے؟
آئی ٹی سی- ۰۴؍ جی ایس ٹی کا ایک فارم ہے، جس میں جاب ورک کے لئے بھیجے گئے سامان اور کام مکمل ہونے کے بعد واپس آنے والے سامان کی تفصیلات درج کی جاتی ہیں۔ ٹیکسٹائل صنعت میں کپڑا رنگائی، پرنٹنگ اور پروسیسنگ کے لئے مختلف یونٹوں کو بھیجا جاتا ہے، اس لئے اس سامان کی آمد و رفت کا ریکارڈ رکھنے میں یہ فارم اہم ہے۔