سرور اچانک بند ہو جانے سے پراپرٹی ٹیکس ادا کرنے کے لیے آنے والے شہریوں کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑا۔
EPAPER
Updated: July 30, 2026, 12:47 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Kalyan
سرور اچانک بند ہو جانے سے پراپرٹی ٹیکس ادا کرنے کے لیے آنے والے شہریوں کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑا۔
کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) کے ہیڈکوارٹر میں واقع شہری سہولت مرکز ( سی ایف سی) کا سرور اچانک بند ہو جانے سے جائیداد ٹیکس (پراپرٹی ٹیکس) ادا کرنے کیلئے آنے والے شہریوں کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑا۔ٹیکس وصولی کا پورا عمل مفلوج ہو جانے کے باعث لوگوں کو طویل قطاروں میں کھڑا رہنا پڑا جس پر شہریوں نے میونسپل انتظامیہ کی ناقص کارکردگی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔تفصیلات کے مطابق کے ڈی ایم سی کا سرور اچانک ڈاؤن ہوتے ہی پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کا پورا نظام مفلوج ہو گیا اور شہری سہولت مرکز کے تمام کاؤنٹروں پر کام ٹھپ ہو کر رہ گیا۔ عملہ بھی تکنیکی خرابی کے باعث بے بس دکھائی دیا جبکہ ٹیکس جمع کرانےکیلئے آنے والے شہریوں کو گھنٹوں انتظار کے بعد مایوس ہو کر بغیر کام کرائے واپس لوٹنا پڑا۔ اس صورتحال پر شہریوں نے میونسپل انتظامیہ کی ناقص کارکردگی اور غیر مؤثر انتظامات پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ متاثرہ ٹیکس دہندگان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے روزمرہ کے کاروبار اور ملازمت سے وقت نکال کر ٹیکس ادا کرنے آئے تھے مگر انتظامیہ کی نااہلی اور تکنیکی بدانتظامی کے سبب انہیں ذہنی اذیت اور قیمتی وقت کے ضیاع کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اور پائیدار اقدامات کیے جائیں۔ دوسری جانب معاملے کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے ٹیکس محکمہ کے ڈپٹی کمشنر ویراج لبدھے نے وضاحت کی کہ سرور ڈاؤن ہونے کی اصل وجہ معلوم کرنے کیلئے متعلقہ شعبوں کے سربراہان سے رپورٹ طلب کرلی گئی ہے اور اس ضمن میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ میونسپل کارپوریشن کی ویب سائٹ اندرونی سطح پر فعال تھی تاہم بیرونی صارفین اس تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے تھے۔ تکنیکی خرابی کو جلد از جلد دور کرنے کیلئے متعلقہ ماہرین کام کر رہے ہیں۔ادھر اس واقعہ نے اسمارٹ سٹی پروجیکٹ کے تحت کیے گئے کروڑوں روپے کے اخراجات پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔دستیاب معلومات کے مطابق میونسپل انتظامیہ کی ویب سائٹ کی تیاری پر ۱۳؍ کروڑ روپے خرچ کیے گئےجبکہ آن لائن نظام کو چلانے اور آپریٹ کرنے پر مزید ۱۳؍ کروڑ روپے صرف کیے گئے۔ اس طرح گزشتہ پانچ برسوں کے دوران اسمارٹ سٹی پروجیکٹ کے تحت مجموعی طور پر ۲۶؍ کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔اس کے باوجود اگر شہریوں کو بار بار سرور ڈاؤن جیسے بنیادی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ آخرکروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود عوام کو ایک قابل اعتماد اور مؤثر ڈیجیٹل نظام کیوں فراہم نہیں کیا جا سکا؟