کینیڈی سینٹر نے عدالتی حکم کے بعد عمارت سے ٹرمپ کا نام ہٹا دیا، آرٹس کے اس ادارے نے اپیل کورٹ کے حکم پر عمل کیا، جبکہ مقام کے نام تبدیل کرنے کا تنازع عدالتوں میں زیرِ سماعت ہے۔
EPAPER
Updated: June 14, 2026, 9:05 PM IST | Washington
کینیڈی سینٹر نے عدالتی حکم کے بعد عمارت سے ٹرمپ کا نام ہٹا دیا، آرٹس کے اس ادارے نے اپیل کورٹ کے حکم پر عمل کیا، جبکہ مقام کے نام تبدیل کرنے کا تنازع عدالتوں میں زیرِ سماعت ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، کینیڈی سینٹر نے واشنگٹن ڈی سی میں واقع اپنی عمارت سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام ہٹا دیا ہے، اور عدالتی حکم کی تعمیل کی۔ یہ قانونی جنگ پرفارمنگ آرٹس کے اس ادارے کے نام کو لے کر جاری ہے۔سی این این کی رپورٹ کے مطابق، ایگزیکٹو ڈائریکٹر میٹ فلوکا نے بتایا کہ جج کے حکم کے بعد ٹرمپ کا نام عمارت سے ہٹا دیا گیا ہے۔ سنیچر کی صبح مزدوروں نے نام ہٹانے کا کام شروع کیا، اس سے قبل جمعہ کو عملے نے عمارت کے اگلے حصے کو ترپال سے ڈھانپ دیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: البانیہ: ایوانکا ٹرمپ، جیرڈ کشنر ریزارٹ پلان کے خلاف احتجاج ۱۳؍ ویں دن میں داخل
واضح رہے کہ یہ اقدام امریکی ضلعی جج کرسٹوفر کوپر کے فیصلے کے بعد کیا گیا، جنہوں نے کہا تھا کہ اس ادارے کے نام میں تبدیلی کی اجازت صرف کانگریس دے سکتی ہے، اور عمارت اور متعلقہ مواد سے ٹرمپ کے حوالے ہٹانے کا حکم دیا۔رپورٹ کے مطابق، ایک اپیل کورٹ نے جمعہ کو کینیڈی سینٹر کی درخواست کو مسترد کر دیا جس میں عدالتی کارروائی جاری رہنے تک اس حکم کو روکنے کی استدعا کی گئی تھی۔مزید برآںکینیڈی سینٹر کا مؤقف تھا کہ اصل نام بحال کرنے سے عوام میں الجھن پیدا ہو سکتی ہے اور ممکنہ طور پر نام کی تبدیلی سے منسلک نجی عطیات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گوگل کے سیکوریٹی ڈائریکٹر کا استعفیٰ، کمپنی پر ’’اخلاقی سمت کھونے‘‘ کا الزام
ذہن نشین رہے کہ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب کینیڈی سینٹر کے بورڈ نے اس مقام کو ٹرمپ کے نام سے موسوم کرنے اور عمارت کے اگلے حصے پر ان کا نام شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔اس قانونی چیلنج کی قیادت نمائندہ جوائس بیٹی کر رہی ہیں، جنہوں نے اس پیشرفت کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ حامی کینیڈی سینٹر کی اصل شناخت کا دفاع جاری رکھیں گے۔ تاہم عدالتی جنگ ابھی جاری ہے اور اس ماہ کے آخر میں مزید قانونی دلائل متوقع ہیں۔