Inquilab Logo Happiest Places to Work

گوگل کے سیکوریٹی ڈائریکٹر کا استعفیٰ، کمپنی پر ’’اخلاقی سمت کھونے‘‘ کا الزام

Updated: June 13, 2026, 9:47 PM IST | California

گوگل کے اینڈرائیڈ پلیٹ فارم سیکوریٹی ڈائریکٹر رینی مائرہوفر نے تقریباً نو سال بعد کمپنی سے استعفیٰ دینے کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ گوگل اپنی سابقہ اخلاقی اقدار سے دور ہو چکی ہے۔ انہوں نے اپنے استعفے کی بنیادی وجہ امریکی محکمہ دفاع کے ساتھ مصنوعی ذہانت سے متعلق معاہدوں کو قرار دیا اور کہا کہ ایک امن پسند کے طور پر وہ ایسے منصوبوں کا حصہ نہیں بن سکتے جو عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتے ہوں۔

Rene Mayrhofer - Photo: X
رینی مائرہوفر ۔ تصویر: ایکس

گوگل کے اینڈرائیڈ پلیٹ فارم سیکوریٹی ڈائریکٹر رینی مائرہوفر نے تقریباً ایک دہائی بعد کمپنی سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے انتظامیہ پر ’’اخلاقی کمپاس کھو دینے‘‘ کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا استعفیٰ خط، جو انہوں نے ۷؍ جون کو اپنے ذاتی بلاگ پر شائع کیا، اس ہفتے بین الاقوامی میڈیا میں وسیع توجہ حاصل کر رہا ہے۔ رینی مائرہوفر ۲۰۱۷ء میں گوگل میں شامل ہوئے تھے، جب انہیں اینڈرائیڈ پلیٹ فارم سیکوریٹی کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق اس وقت گوگل ایک ایسی عالمی کمپنی تھی جہاں شفافیت، متنوع آرا اور اخلاقی اصولوں کو اہمیت دی جاتی تھی۔ اپنے استعفیٰ کے خط میں انہوں نے لکھا کہ ’’گوگل ایک ایسی عالمی کمپنی تھی جہاں مختلف آرا کا احترام کیا جاتا تھا اور ملازمین کو اپنی شناخت اور اقدار کے ساتھ کام کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل دنیا کا سب سے زیادہ بائیکاٹ کا شکار ملک بن گیا: اسرائیلی اخبارکی رپورٹ

مائرہوفر نے کہا کہ گوگل چھوڑنے کا فیصلہ ان کے لیے بیک وقت ’’انتہائی مشکل‘‘ اور ’’انتہائی آسان‘‘ تھا۔ مشکل اس لیے کہ وہ کمپنی اور اپنے ساتھیوں سے وابستہ تھے، جبکہ آسان اس لیے کہ ان کے بقول موجودہ انتظامیہ نے ایسے فیصلے کیے جو ان کے ذاتی اخلاقی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ انہوں نے خاص طور پر امریکی محکمہ دفاع کے ساتھ مصنوعی ذہانت سے متعلق معاہدوں پر اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گوگل نے ماضی میں ایسے اصول متعارف کرائے تھے جن کے مطابق کمپنی ایسی ٹیکنالوجی تیار نہیں کرے گی جس کا بنیادی مقصد انسانوں کو نقصان پہنچانا ہو۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ۲۰۱۸ء میں گوگل کے سی ای او سندر پچائی نے اے آئی سے متعلق اصول جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ کمپنی ایسے ہتھیار یا ٹیکنالوجیز تیار نہیں کرے گی جن کا مقصد لوگوں کو نقصان پہنچانا ہو یا جو بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں سے متصادم ہوں۔

یہ بھی پڑھئے: دنیا بھر میں ہر۷۰؍ میں سے ایک شخص جبری طور پر بے گھرکیا گیا: اقوام متحدہ

مائرہوفر نے لکھا کہ ’’گوگل کی موجودہ انتظامیہ اب امریکی محکمہ دفاع کے ساتھ ایسے معاہدوں میں شامل ہو رہی ہے جبکہ موجودہ امریکی حکومت کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کے متعدد الزامات سامنے آ چکے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ایک امن پسند ہونے کے ناطے وہ کسی بھی ایسی سرگرمی کا حصہ نہیں بن سکتے جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر فوجی کارروائیوں میں معاونت کرے۔ ان کے مطابق، ’’میں ایسے اقدامات کی حمایت نہیں کر سکتا جو زیادہ سے زیادہ مہلکیت کے تصور سے جڑے ہوں۔ میرے اخلاقی اصول مجھے اس کی اجازت نہیں دیتے۔‘‘ مائرہوفر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ گوگل کے سینکڑوں ملازمین نے امریکی محکمہ دفاع کے ساتھ مصنوعی ذہانت کے منصوبوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق ۶۰۰؍ سے زائد ملازمین نے ایک خط پر دستخط کیے تھے جس میں انتظامیہ سے ایسے معاہدوں سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: بارسلونا: ’ساگرادا فیمیلیا‘ کی تعمیر ۱۴۴ سال بعد مکمل؛ پوپ لیو چہاردہم نے افتتاحی تقریب میں شرکت کی

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان اہم پالیسی تبدیلیوں کے بارے میں ملازمین کو مناسب معلومات فراہم نہیں کی گئیں اور کئی فیصلے اعلیٰ انتظامیہ کی سطح پر کیے گئے۔ رینی مائرہوفر اس وقت آسٹریا کی جوہانس کیپلر یونیورسٹی لنز میں پروفیسر بھی ہیں اور انسٹی ٹیوٹ فار نیٹ ورکس اینڈ سیکوریٹی کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوگل چھوڑنے کے بعد وہ پرائیویسی، اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن، ڈیجیٹل شناخت، آپریٹنگ سسٹم سیکوریٹی اور سپلائی چین سیکوریٹی جیسے شعبوں میں اپنی تحقیق جاری رکھیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے معاہدے کے مطابق وہ ۳۱؍ اگست ۲۰۲۶ء تک گوگل سے رسمی طور پر وابستہ رہیں گے، تاہم امریکی محکمہ دفاع سے متعلق اے آئی منصوبوں پر کام فوری طور پر بند کر دیں گے۔

یہ بھی پڑھئے: دنیا کے محفوظ ترین ممالک ۲۰۲۶ء کی فہرست جاری، جانئے ہندوستان کا مقام

دوسری جانب گوگل نے تاحال مائرہوفر کے استعفیٰ یا ان کے الزامات پر باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔ البتہ کمپنی ماضی میں یہ مؤقف اختیار کر چکی ہے کہ قومی سلامتی سے متعلق منصوبوں میں شمولیت پر اسے فخر ہے۔ ایک سابق بیان میں گوگل نے کہا تھا کہ ’’ہم اس بات کے لیے پُرعزم ہیں کہ مصنوعی ذہانت کو مناسب انسانی نگرانی کے بغیر نہ تو بڑے پیمانے کی داخلی نگرانی کے لیے استعمال کیا جائے اور نہ ہی خودکار ہتھیاروں کے لیے۔‘‘ مائرہوفر کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے عسکری استعمال، اخلاقی حدود اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حکومتی معاہدوں پر بحث مزید شدت اختیار کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK