Updated: April 07, 2026, 11:59 AM IST
| Thiruvananthapuram
کیرالا میں جنوری ۲۰۲۵ء سے مارچ ۲۰۲۶ء تک اسلاموفوبیا کے ۹۰۹؍ واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں نفرت انگیز تقاریر، امتیازی اقدامات اور آن لائن مہمات شامل ہیں۔ اسلاموفوبیا ریسرچ کلیکٹیو کی رپورٹ کے مطابق صرف ۲۰۲۶ء کے ابتدائی تین ماہ میں ۲۵۰؍ واقعات سامنے آئے۔ ماہرین نے اس رجحان کو ’’خطرناک‘‘ قرار دیتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مبینہ بے عملی پر سوال اٹھائے ہیں، جبکہ آنے والے انتخابات کے تناظر میں صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
جنوبی ہند ریاست کیرالا میں اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے واقعات نے ایک بار پھر تشویش کو جنم دیا ہے، جہاں اسلاموفوبیا ریسرچ کلیکٹیو (آئی آر سی) کی تازہ رپورٹ کے مطابق جنوری ۲۰۲۵ء سے مارچ ۲۰۲۶ء کے درمیان کم از کم ۹۰۹؍ واقعات دستاویزی شکل میں سامنے آئے ہیں۔ ان میں نفرت انگیز تقاریر، امتیازی سلوک، اور منظم آن لائن مہمات شامل ہیں، جو ایک مسلسل بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۲۵ء میں ۶۵۹؍ واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ ۲۰۲۶ء کے پہلے تین مہینوں میں ۲۵۰؍ واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ رفتار اس بات کی علامت ہے کہ مسئلہ کم ہونے کے بجائے مزید شدت اختیار کر رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ریاست انتخابی ماحول میں داخل ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹی ایم سی، بی جے پی ٹکراؤ: الیکشن کمیشن نے ڈپٹی کمشنر اور ۳؍ افسران کو معطل کیا
رپورٹ میں کئی معروف شخصیات کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ویلاپلی ناتیسن جو ایس این ڈی پی یوگم کے جنرل سیکریٹری ہیں، ۲۰۲۵ء میں کم از کم ۶۰؍ نفرت انگیز تقاریر کے ساتھ سرفہرست ہیں۔ اسی طرح اے جے شنکر اور پی سی جارج کے خلاف بھی ۵۰؍ سے زائد واقعات رپورٹ کیے گئے۔ اسلاموفوبیا کے خلاف کام کرنے والے معروف سماجی رضاکار بابو راج بھگوتی نے اس صورتحال کو ’’انتہائی خطرناک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ قانونی کارروائی کا فقدان ہے۔ ان کے مطابق کئی معاملات میں نہ تو ایف آئی آر درج کی جاتی ہے اور نہ ہی پولیس مؤثر کارروائی کرتی ہے، حالانکہ سپریم کورٹ حکام کو نفرت انگیز تقاریر پر از خود نوٹس لینے کی ہدایت دے چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نفرت انگیز مہمات میں مسلم لیڈروں، مذہبی علامات، اور عبادت گاہوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔ بابوراج نے خبردار کیا کہ ۹؍ اپریل کو ہونے والے انتخابات کے پیش نظر ایسی مہمات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ کئی متاثرین نے نہ صرف پولیس کی بے عملی بلکہ ہراساں کیے جانے کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ مثال کے طور ریحاناتھ کپن ، جو صحافی صدیق کپن کی رہائی کے لیے سرگرم رہیں، نے مبینہ نفرت انگیز مواد کے خلاف متعدد شکایات درج کروائیں، تاہم کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اسی طرح ایک اور کیس میں کے آر اندرا کے متنازع بیانات کے باوجود محدود قانونی پیش رفت ہوئی، جبکہ شکایت کنندہ کو ہی مبینہ طور پر دباؤ اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک اور سماجی کارکن عثمان کٹاپنا کے خلاف بھی کارروائی کی گئی، حالانکہ انہوں نے نفرت انگیز بیانات کی مذمت کی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ڈنکن ڈونٹس کا ۲۰۲۶ء تک ہندوستان میں فرنچائز ختم کرنےکا فیصلہ، جانئے وجہ
واضح رہے کہ آئی آر سی نے ۲۰۲۴ء میں بھی ۲۶۰؍ واقعات ریکارڈ کیے تھے، جو تقریباً ہر ۳۶؍ گھنٹے میں ایک واقعہ بنتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ رپورٹ ہندوستان میں اسلاموفوبیا کو منظم انداز میں دستاویزی شکل دینے کی ابتدائی کوششوں میں شامل ہے۔ سیاسی سطح پر بھی اس معاملے نے تنازع کو جنم دیا ہے۔ پنارائی وجین کو بعض حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ اپوزیشن لیڈر وی ڈی ستھیسن نے الزام لگایا کہ ریاست میں فرقہ وارانہ تقسیم کو بڑھنے دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی بلکہ وسیع تر سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی ایک چیلنج بن چکی ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو انتخابات کے دوران کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔