Updated: September 23, 2026, 10:02 PM IST
| Thiruvananthapuram
”سینیٹائزڈ ریپبلک“ کو باضابطہ طور پر آئی ڈی ایس ایف ایف کے کیلئے منتخب کیا گیا تھا، جس کے بعد فیسٹیول انتظامیہ نے فلم سازوں کو مطلع کیا کہ وہ ضروری چھوٹ کے بغیر اس فلم کی نمائش نہیں کرسکتے۔ فلم سازوں کے مطابق، وزارت نے سب سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی کے کووڈ-۱۹ لاک ڈاؤن کا اعلان کرنے والے چند سیکنڈ کے آڈیو پر اعتراض اٹھایا۔ انہوں نے وہ آڈیو ہٹا دی، لیکن پھر انہیں بتایا گیا کہ فلم میں اب بھی "وزیر اعظم کے مخصوص حوالے" موجود ہیں۔ ایک مزید ترمیم شدہ ورژن کو بھی مسترد کر دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق وزارت نے کہا کہ اس کیلئے دفتر وزیر اعظم کی منظوری درکار ہے۔
فلم ساز ادارے ’کاؤ بیلٹ اسٹوڈیوز‘ (Cowbelt Studios) کے ایک بیان کے مطابق، دہلی کے صفائی ملازمین کی جدوجہد پر مبنی دستاویزی فلم، ”سینیٹائزڈ ریپبلک: کاسٹ اینڈ کانٹریکٹس“ (Sanitised Republic: Cast(e) & Contracts)، کو مرکزی وزارت اطلاعات و نشریات سے سینسر چھوٹ نہ ملنے کی وجہ سے ۱۸ ویں بین الاقوامی دستاویزی اور شارٹ فلم فیسٹیول آف کیرالا (IDSFFK) میں نمائش کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ فلم ان ۳۱ دستاویزی فلموں میں شامل ہے جنہیں مرکزی حکومت کی جانب سے سینسر کی چھوٹ نہ ملنے کے بعد فیسٹیول میں نمائش سے روک دیا گیا ہے۔ متاثرہ فلموں کے موضوعات میں صفائی کا کام، ذات پات، سیاسی یادداشتیں اور غزہ نسل کشی شامل ہیں۔ آئی ڈی ایس ایف ایف کے (IDSFFK) کا انعقاد ۲۵ سے ۳۰ ستمبر تک ترواننت پورم میں شیڈول ہے۔ اگرچہ فیسٹیول اسکریننگ کیلئے عموماً سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن سے مکمل سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہوتی، لیکن انہیں وزارت سے سینسر چھوٹ درکار ہوتی ہے۔ اس ضابطے کی وجہ سے ماضی میں بھی اسی قسم کی پابندیاں دیکھنے ملی ہیں۔ جیسے ۲۰۲۵ء کے انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف کیرالا میں ابتدا میں ۱۹ فلموں کو چھوٹ دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: الیکشن کمیشن کے ایس آئی آر پر دو کمشنروں کے۱۴؍ اعتراضات، اپوزیشن کا شدید ردعمل
”سینیٹائزڈ ریپبلک“ کو باضابطہ طور پر آئی ڈی ایس ایف ایف کے کیلئے منتخب کیا گیا تھا، جس کے بعد فیسٹیول انتظامیہ نے فلم سازوں کو مطلع کیا کہ وہ ضروری چھوٹ کے بغیر اس فلم کی نمائش نہیں کرسکتے۔ کاؤ بیلٹ اسٹوڈیوز کا کہنا ہے کہ اس فلم کو درگاپور انٹرنیشنل فلم فیسٹیول اور ریتو رنگم انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں منتخب ہونے کے باوجود نمائش سے روک دیا گیا تھا۔
فلم سازوں کے مطابق، وزارت نے سب سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی کے کووڈ-۱۹ لاک ڈاؤن کا اعلان کرنے والے چند سیکنڈ کے آڈیو پر اعتراض اٹھایا۔ انہوں نے وہ آڈیو ہٹا دی، لیکن پھر انہیں بتایا گیا کہ فلم میں اب بھی "وزیر اعظم کے مخصوص حوالے" موجود ہیں۔ ایک مزید ترمیم شدہ ورژن کو بھی مسترد کر دیا گیا، جس میں اطلاعات کے مطابق وزارت نے کہا کہ اس کیلئے دفتر وزیر اعظم کی منظوری درکار ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پانچ دنوں تک پولیس حراست میں رکھنا بھاری پڑا، ہائی کورٹ برہم، یوگی سرکار پر۵۰؍ ہزار کا جرمانہ
عافیہ خالد اور رضوان رحمان کی ہدایت کاری میں بنی یہ فلم دہلی کے دو اسپتالوں کے صفائی ملازمین کے گرد گھومتی ہے جنہیں کووڈ وبا کے دوران اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے بعد جون ۲۰۲۲ء میں ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ یہ دستاویزی فلم ان کی بعد میں ہونے والی سال بھر کی ہڑتال اور قانونی جنگ کو پیش کرتی ہے۔ یہ دستاویزی فلم اس سے قبل دادا صاحب پھالکے فلم فیسٹیول اور کولکتہ شارٹس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں ایوارڈز جیت چکی ہے۔