• Wed, 23 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

الیکشن کمیشن کے ایس آئی آر پر دو کمشنروں کے۱۴؍ اعتراضات، اپوزیشن کا شدید ردعمل

Updated: September 23, 2026, 3:10 PM IST | New Delhi

الیکشن کمیشن آف انڈیا کے خصوصی جامع نظرثانی (SIR) عمل پر اس وقت سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں، جب ایک رپورٹ کے مطابق دو الیکشن کمشنروں نے کئی اہم فیصلوں پر باقاعدہ اعتراضات درج کرائے۔ رپورٹ کے انکشافات کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر انتخابی عمل کی شفافیت اور غیر جانب داری کو متاثر کرنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

Vivek Joshi, Chief Election Commissioner Gyanesh Kumar and Sukhbir Singh Sindhu. Photo: INN
وویک جوشی، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اورسکھبیر سنگھ سندھو۔ تصویر: آئی این این

’دی انڈین ایکسپریس‘ کی جانب سے الیکشن کمیشن کے خصوصی جامع نظرثانی (Special Intensive Revision SIR) سے متعلق کی گئی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دو الیکشن کمشنروں نے۱۰؍ ماہ کے دوران کم از کم۱۴؍ مرتبہ ایسے فیصلوں پر باضابطہ اعتراضات درج کرائے، جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلے ان کی اطلاع یا رضامندی کے بغیر کئے گئے۔ اس رپورٹ کے بعد سیاسی حلقوں میں تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے بی جے پی کے اشارے پر ہندوستان کے انتخابی عمل کی ساکھ کو نقصان پہنچانے میں کردار ادا کیا۔ 

یہ بھی پڑھئے:آج سعودی نیشنل ڈے پر ایئر شو، بحری نمائش اور فوجی پریڈ کا اہتمام

ووٹر اندراج، ناموں کے اخراج اور انتخابی فہرستوں سے متعلق اعتراضات
رپورٹ کے مطابق الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کے اعتراضات انتخابی عمل کے اہم معاملات سے متعلق تھے، جن میں ووٹروں کا اندراج، ناموں کا اخراج اور دوبارہ بحالی، ایس آئی آر کے دوران کئے گئے فیصلوں کے خلاف اپیلیں، نیز انتخابی فہرستوں کے ڈیٹا بیس کی تحویل اور سیکوریٹی شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ دونوں کمشنروں نے نئے ووٹروں سے متعلق بعض اقدامات کو ’’غیر مجاز اور غیر قانونی‘‘ قرار دیا اور انتخابی فہرستوں کے ڈیٹا بیس کی ’’بتدریج مرکزیت‘‘ پر بھی تشویش ظاہر کی۔ 
فارم ۶ میں تبدیلی پر الیکشن کمشنروں کے اعتراضات
تحقیق کے مطابق جولائی میں نئے ووٹر کے اندراج کیلئے استعمال ہونے والے فارم۶؍ میں تبدیلی کی گئی۔ اس میں درخواست گزار سے یہ پوچھا جانے لگا کہ آیا وہ، اس کے والدین یا دادا دادی/نانا نانی سابقہ ایس آئی آر کی انتخابی فہرست میں شامل تھے۔ اس سے قبل وویک جوشی نے مئی میں اعتراض کیا تھا کہ قواعد میں ترمیم کئے بغیر فارم میں اس نوعیت کی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ بعد ازاں سکھبیر سنگھ سندھو نے اس تبدیلی کو ’’غیر مجاز اور غیر قانونی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے فوری طور پر ختم کیا جانا چاہئے۔ 
ووٹر ڈیٹا بیس کی مرکزیت پر بھی سوالات
دونوں الیکشن کمشنروں نے ووٹر ڈیٹا بیس کی ممکنہ مرکزیت پر بھی سوالات اٹھائے۔ وویک جوشی نے ’’انتخابی فہرست کے ڈیٹا بیس کی بتدریج مرکزیت‘‘ کی نشاندہی کی، جبکہ سندھو نے کہا کہ ریاستی سطح کے انتخابی حکام نے شکایت کی ہے کہ انہیں ERONet نظام تک ’’مکمل اور مناسب رسائی حاصل نہیں ‘‘ ہے۔ 
مغربی بنگال میں اپیلوں کے اختیار پر سندھو کے سوالات
تحقیق کے مطابق سکھبیر سنگھ سندھو نے مغربی بنگال میں ان ووٹروں کے خلاف دائر کی جانے والی اپیلوں پر بھی سوال اٹھایا جنہیں عدالتی افسران نے انتخابی فہرستوں میں شامل کیا تھا۔ انہوں نے پوچھا کہ ’’الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ اپیلیں دائر کرنے کا اختیار کس نے دیا اور کس کے ذریعے دیا گیا؟‘‘ اور یہ بھی سوال کیا کہ ’’آخر الیکشن کمیشن کی طرف سے یہ اپیلیں کس نے دائر کیں ؟‘‘الیکشن کمیشن نے دونوں کمشنروں کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات سے متعلق بھیجے گئے سوالنامے کا کوئی جواب نہیں دیا، جبکہ سندھو اور جوشی سے بھی جواب کیلئے بھیجے گئے ای میلز کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ 

یہ بھی پڑھئے:اسپین: سرکاری نشریاتی ادارے کا اسرائیل کی شرکت پر یوروویژن کے بائیکاٹ کا منصوبہ

آئینی حیثیت اور کمیشن میں اجتماعی فیصلہ سازی
الیکشن کمیشن آئین کے آرٹیکل۳۲۴؍ کے تحت قائم ایک آئینی ادارہ ہے، جس میں چیف الیکشن کمشنر اور دو الیکشن کمشنر شامل ہوتے ہیں اور تینوں کا عہدہ یکساں درجہ رکھتا ہے۔ رپورٹ میں چیف الیکشن کمشنر کو ’’برابر کے درمیان اول‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ 
کمیشن سے متعلق۲۰۲۳ء کے قانون کی دفعہ۱۸؍ کے تحت کمیشن کے امور کو حتی الامکان اتفاقِ رائے سے چلایا جانا چاہئے، تاہم کمشنروں کے درمیان اختلاف کی صورت میں معاملہ اکثریتی فیصلے سے طے کیا جاتا ہے۔ 
کانگریس کا چیف الیکشن کمشنر پر سنگین الزامات
رپورٹ کے نتائج پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے گیانیش کمار کو ’’دیمک‘‘ قرار دیا اور الزام لگایا کہ بی جے پی انہیں ’’کھانا اور تحفظ فراہم کر رہی ہے تاکہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کو اندر سے کھوکھلا کیا جا سکے‘‘۔ کھیڑا نے کہا کہ رپورٹ نے ان کے بقول الیکشن کمیشن کے اندر موجود ’’انتہائی بدنظم، غیر فعال اور، سچ کہا جائے تو، تشویشناک‘‘ صورت حال کو بے نقاب کردیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گیانیش کمار کمیشن پر ’’غیر معمولی کنٹرول‘‘ رکھتے ہیں، حالانکہ الیکشن کمشنروں کو ادارے کو اجتماعی طور پر چلانا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ گیانیش کمار نے بی جے پی کے اشارے پر ہندوستان کے انتخابی عمل کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی نگرانی کی۔ 
ابھیشیک بنرجی کا چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے اور عدالتی تحقیقات کا مطالبہ
ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی نے چیف الیکشن کمشنر کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے اور ان الزامات کی عدالتی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’لاکھوں ووٹروں کو مبینہ طور پر کسی ایک سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانے کیلئے حقِ رائے دہی سے محروم کرنا ہماری جمہوریت کی بنیاد پر حملہ ہے۔ ‘‘مغربی بنگال کے انتخابات کے بعد انڈیا اتحاد کی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے بنرجی نے کہا کہ انہوں نے چیف جسٹس آف انڈیا اور سپریم کورٹ کے دیگر ججوں کو خط لکھا تھا، لیکن ان کے بقول ان معاملات کا نہ تو جائزہ لیا گیا اور نہ ہی وہ توجہ دی گئی جس کے وہ مستحق تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب ’’جمہوری عمل کو متاثر کرنے والے سنگین سوالات بار بار اٹھائے جائیں اور پھر بھی ان پر توجہ نہ دی جائے‘‘ تو اس سے ’’اداروں کی غیر جانب داری‘‘ پر سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے کارروائی کی اپیل کرتے ہوئے کہا، ’’سپریم کورٹ آنکھیں بند نہیں کر سکتی۔ آخر ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ کیا چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ کارروائی کرے گی؟‘‘
سی پی آئی (ایم) کا الیکشن کمیشن کو ’’شخصی آمریت‘‘ قرار دینے کا الزام
سی پی آئی (ایم) کے رکن پارلیمنٹ جان برٹاس نے کہا کہ یہ اب ’’الیکشن کمیشن نہیں رہا‘‘ بلکہ ’’چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے ماتحت ایک شخصی آمریت‘‘ بن چکا ہے۔ برٹاس نے کہا، ’’یہ الیکشن کمیشن اور ہماری جمہوریت کو کھلے عام کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ ‘‘ انہوں نے پارلیمنٹ سے چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹانے کا عمل شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے یہ بھی اپیل کی کہ پورے ایس آئی آر عمل کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تین میں سے دو کمشنروں نے ریکارڈ پر اعتراضات اٹھائے ہیں تو عدالتی خاموشی ’’ملی بھگت‘‘ کے مترادف ہوگی۔ برٹاس نے ان پیش رفت کو ’’ایک جمہوری ملک کیلئے خطرے کی گھنٹی‘‘ قرار دیتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے اور ایس آئی آر عمل کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: پانچ دنوں تک پولیس حراست میں رکھنا بھاری پڑا، ہائی کورٹ برہم، یوگی سرکار پر۵۰؍ ہزار کا جرمانہ

جے رام رمیش اور کیجریوال کی جانب سے ردعمل
کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے کہا کہ ان کی جماعت ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹ میں سامنے آنے والے ’’حیران کن انکشافات‘‘ کے بارے میں میڈیا کو تفصیلات فراہم کرے گی۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بھی اس معاملے پر پریس کانفرنس کا اعلان کیا۔ 
پریانک کھرگے کا چیف الیکشن کمشنر پر من مانی کا الزام
کرناٹک کے وزیر پریانک کھرگے نے کہا، ’’چیف الیکشن کمشنر ایک من مانی طریقے سے کام کرنے والے ایجنٹ کی طرح برتاؤ کر رہے ہیں۔ ‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر دیگر الیکشن کمشنروں کو نظرانداز کرکے کمیشن کے اجتماعی فیصلہ سازی کے عمل کو کمزور کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ’’حیران کن نہیں ‘‘ کیونکہ وہ ’’کس کے اشارے اور کس کی سرپرستی‘‘ میں کام کر رہے ہیں، یہ سب جانتے ہیں۔ 
سنجے سنگھ کا چیف الیکشن کمشنر کی گرفتاری کا مطالبہ
عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی گرفتاری اور انہیں جیل بھیجنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی، ہریانہ، مہاراشٹر، بہار اور مغربی بنگال کے انتخابات ’’بے ایمانی‘‘ کے ذریعے جیتے گئے اور ان انتخابات کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے انتخابات ’’مقبولیت‘‘ کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان کے بقول ’’لوٹ کی وابستگی‘‘ کے ذریعے جیتے۔ 
پرمود تیواری کا استعفے کا مطالبہ
کانگریس لیڈر پرمود تیواری نے گیانیش کمار سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا، ’’چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو استعفیٰ دینا چاہئے، یہ ہندوستانی جمہوریت کا قتل ہے۔ ‘‘ انہوں نے دونوں الیکشن کمشنروں کے تمام بیانات کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ وہ یہ معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھائیں گے۔ 
مہوا موئترا کا ڈیٹا میں مبینہ تبدیلی کا الزام
ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے کہا کہ ان کی پارٹی نے بنگال میں ایس آئی آر کے عمل کے دوران کم از کم چار مرتبہ مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل افسر سے ملاقات کرکے اپنے خدشات سے آگاہ کیا تھا۔ 
ان کے مطابق ’’سیما کھنہ کے مرکزی سافٹ ویئر نے زمینی سطح پر ERONet تک رسائی محدود کردی تھی‘‘ اور ڈیٹا میں ’’اپنی مرضی سے تبدیلی‘‘ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ’’دو الیکشن کمشنروں نے بھی بالکل وہی بات کہی جو ہم نے کہی تھی۔ ‘‘
سچن پائلٹ نے انتخابی عمل میں شفافیت اور جواب دہی پر زور دیا
کانگریس لیڈر سچن پائلٹ نے کہا کہ یہ رپورٹ ایس آئی آر میں موجود ’’خامیوں ‘‘ کے بارے میں مزید معلومات فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے اس سے قبل بھی انتخابی فہرستوں کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے سامنے اعتراضات اٹھائے تھے۔ انہوں نے مغربی بنگال، کرناٹک، مہاراشٹر اور ہریانہ میں پیدا ہونے والے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انتخابی عمل اور ڈیٹا بیس کو ’’جانچ، شفافیت اور جواب دہی‘‘ کی ضرورت ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: جموئی میں طالبہ کے ساتھ بدسلوکی کرنےوالے ۲؍ ملزمین کاانکاؤنٹر، ملزم کے پیر میں گولی لگی

رویش کمار اور پرکاش راج کا بھی ردعمل
صحافی رویش کمار نے کہا کہ یہ ’’ایک اور ثبوت ہے کہ ہندوستان کی جمہوریت محفوظ نہیں ہے‘‘۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کی جانچ ہونی چاہئے کہ انتخابات عوام کے ووٹوں کا نتیجہ ہیں یا ’’جی پرنٹر‘‘ سے نکلنے والا نتیجہ۔ اداکار اور سماجی کارکن پرکاش راج نے سوال اٹھایا کہ جب تین میں سے دو الیکشن کمشنروں نے ایس آئی آر کے عمل پر سوالات اٹھائے تو تیسرے کمشنر نے اسے آگے کیوں بڑھایا۔ انہوں نے لکھا، ’’وہ دو ساتھیِ جرم کون ہیں ؟ کوئی اندازہ؟‘‘
جون ۲۰۲۵ء میں بہار سے شروع ہوا تھا ایس آئی آر عمل
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کا خصوصی جامع نظرثانی (SIR) عمل جون۲۰۲۵ء میں بہار سے شروع ہوا تھا۔ اسے ابتدائی طور پر انتخابی فہرستوں کی صفائی کیلئے معمول کی مشق قرار دیا گیا تھا۔ تاہم، اس عمل کے تحت۳۰؍ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی مسودہ انتخابی فہرستوں سے۱۳؍ کروڑ سے زیادہ نام خارج کئے جا چکے ہیں۔ 
گیانیش کمار فروری ۲۰۲۵ء میں چیف الیکشن کمشنر مقرر ہوئے
گیانیش کمار۱۹۸۸ء بیچ کے کیرالاکیڈر کے آئی اے ایس افسر ہیں۔ انہوں نے۱۹؍ فروری۲۰۲۵ء کو چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ سنبھالا اور۲۰۲۳ءکے نئے قانون کے تحت اس عہدے پر مقرر ہونے والے پہلے چیف الیکشن کمشنر بنے۔ 
۷۳ اپوزیشن ارکان پہلے ہی ہٹانے کی تحریک کا نوٹس دے چکے ہیں 
قابل ذکر ہے کہ رواں سال اپریل میں راجیہ سبھا کے۷۳؍ اپوزیشن ارکان نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کیلئے تحریک کا نوٹس بھی جمع کرایا تھا۔ ارکان نے۱۵؍ مارچ۲۰۲۶ء کے بعد ان کی جانب سے مبینہ طور پر کئے گئے اقدامات اور کوتاہیوں کو ’’ثابت شدہ بدسلوکی‘‘ قرار دیتے ہوئے آئین کے آرٹیکل۳۲۴(۵)، آرٹیکل۱۲۴(۴)، الیکشن کمشنر سے متعلق ۲۰۲۳ء کے قانون کی دفعہ۱۱(۲) اور ججز (انکوائری) ایکٹ۱۹۶۸ء کا حوالہ دیا تھا۔ 
چیف الیکشن کمشنر کے خلاف نوٹس راجیہ سبھا چیئرمین کے پاس زیر التوا
یہ نوٹس اب بھی راجیہ سبھا کے چیئرمین کے پاس زیر التوا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے گیانیش کمار پر سیاسی جانب داری اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کی غیر جانب داری کو نقصان پہنچانے کے الزامات عائد کئے ہیں۔ 
انتخابی فہرستوں، ووٹر فراڈ اور ڈیٹا کی شفافیت پر بھی سوالات
اس کے ساتھ ہی انتخابی بے ضابطگیوں سے متعلق بھی کئی سوالات اٹھائے گئے ہیں، جن میں فرضی یا دوہرے ووٹروں کی موجودگی، انتخابی فہرستوں میں تضادات، شکایات سے نمٹنے میں مبینہ امتیازی رویہ، تحقیقات میں شفافیت کا فقدان اور مبینہ ووٹر فراڈ کے معاملات میں آئی پی تفصیلات جیسے اہم ڈیٹا فراہم کرنے سے گریز شامل ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK