کیرالا ہائی کورٹ نے فلم ’’دی کیرالا اسٹوری ۲‘‘ کے پروڈیوسر کو ہدایت دی کہ دلائل مکمل ہونے تک فلم کی ریلیز مؤخر رکھی جائے، کیونکہ درخواست گزاروں کے خدشات بظاہر حقیقی ہو سکتے ہیں۔
EPAPER
Updated: February 26, 2026, 12:04 PM IST | Mumbai
کیرالا ہائی کورٹ نے فلم ’’دی کیرالا اسٹوری ۲‘‘ کے پروڈیوسر کو ہدایت دی کہ دلائل مکمل ہونے تک فلم کی ریلیز مؤخر رکھی جائے، کیونکہ درخواست گزاروں کے خدشات بظاہر حقیقی ہو سکتے ہیں۔
کیرالا ہائی کورٹ نے فلم ’’دی کیرالا اسٹوری ۲‘‘ کے پروڈیوسر کو ہدایت دی کہ دلائل مکمل ہونے تک فلم کی ریلیز مؤخر رکھی جائے، کیونکہ درخواست گزاروں کے خدشات بظاہر حقیقی ہو سکتے ہیں۔
جسٹس بیچو کُریان تھامس نے مشاہدہ کیا تھا کہ فلم کے ٹیزر اور ٹریلرز میں کیرالا کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فلم کے عنوان میں ریاست کا نام استعمال کرنا اور یہ دعویٰ کرنا کہ فلم حقائق پر مبنی ہے، فرقہ وارانہ کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے۔ تین علیحدہ درخواستوں میں فلم کو عوامی نمائش کے لیے دیے گئے سرٹیفکیٹ کو منسوخ کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ فلم ۲۷؍ فروری کو ریلیز ہونا طے ہے۔
فلم کے پروڈیوسر، وِپُل امرت لال شاہ، نے عدالت کو بتایا کہ فلم کی ریلیز کی مخالفت میں دائر درخواستیں ’’قبل از وقت، غلط فہمی پر مبنی اور ناقابلِ سماعت‘‘ ہیں۔شاہ نے اپنے حلف نامے میں مؤقف اختیار کیا کہ سنیماٹوگراف ایکٹ ۱۹۵۲ء کے تحت سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن (سی بی ایف سی )ہی وہ واحد ماہر ادارہ ہے جو فلموں کا مکمل جائزہ لے کر انہیں عوامی نمائش کے لیے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا مجاز ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’اس عدالت کا نگران اختیار اس حد تک نہیں کہ وہ سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے ماہر ادارے کے فیصلے کی جگہ خود فلم کے مواد کا جائزہ لے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:مسلم خاتون کو رہائش سے انکار اور دلت باورچی پر اعتراض: سپریم کورٹ جج کی تشویش
پہلے درخواست گزار، سری دیو نمبودیری (ضلع کنّور کے علاقے کنّوام کے رہائشی) کی درخواست کا حوالہ دیتے ہوئے شاہ نے دعویٰ کیا کہ یہ درخواست ’’بدنیتی اور مالی فائدہ حاصل کرنے کے مذموم مقصد‘‘ سے دائر کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:منموہن دیسائی نے مسالا فلموں کا سلسلہ شروع کیا تھا
پروڈیوسر نے کہا کہ فلم کے ٹیزر درخواست دائر ہونے سے ۱۶؍ دن پہلے جاری کیے گئے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ صرف دو منٹ کے ٹیزر کی بنیاد پر، مکمل فلم دیکھے بغیر، کسی تصدیق شدہ فلم کی نمائش نہیں روکی جا سکتی۔شاہ کے مطابق کہ ’’یہ فلم ہندوستان اور بیرونِ ملک ۱۸۰۰؍سے زائد سنیما گھروں میں ریلیز ہونے والی ہے۔‘‘ہائی کورٹ جمعرات کو دوبارہ اس معاملے کی سماعت کرے گی۔