وزیر اعظم مودی نے مختلف حوالوں سے بتایاکہ آج بچائی گئی ہر بوندآنے والی نسلوں کے مستقبل کا سب سے بڑا سرمایہ ثابت ہوگی۔
EPAPER
Updated: July 27, 2026, 10:26 AM IST | New Delhi
وزیر اعظم مودی نے مختلف حوالوں سے بتایاکہ آج بچائی گئی ہر بوندآنے والی نسلوں کے مستقبل کا سب سے بڑا سرمایہ ثابت ہوگی۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو لوگوں سے پانی کے تحفظ اور ’ایک پیڑ ماں کے نام ‘مہم سے جڑنے کی اپیل کی اور بہار کے سیتامڑھی میں پلاسٹک سے بینچ تیار کرنے کی کوششوں کی ستائش کی۔ مودی نے اتوار کو اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات ‘ میں۴؍ جولائی سے شروع کی گئی’ کیچ دی رین ‘ مہم کو عوامی تحریک بنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جہاں اور جب بارش ہو، وہیں اس پانی کا تحفظ کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم کے تحت بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے، زیر زمین پانی کی ریچارجنگ، پرانے تالابوں کی بحالی اور شجر کاری کو نئی رفتار دی جا رہی ہے۔ انہوں نے مہم میں لوگوں کی بڑھتی ہوئی شراکت داری پر مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ کہیں پرانے تالابوں سے مٹی نکالی جا رہی ہے، تو کہیں کنوؤں اور باؤلیوں کی بحالی کی جا رہی ہے۔ جو بورویل اب استعمال میں نہیں ہیں، انہیں زیر زمین پانی کی ریچارجنگ کے ذریعے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مدھیہ پردیش کے سیدھی ضلع، مہاراشٹر کے ناسک، آندھرا پردیش کے نند یال، چھتیس گڑھ کے کوربا، ادیشہ کے بھونیشور اور آندھرا پردیش کے وجیا نگرم میں تالابوں کو پھر سے زندہ کرنے کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’آئیے، ہم بھی اپنے آس پاس کسی ایک تالاب، کنویں یا باؤلی کی ذمہ داری لیں ، پانی کی ہر بوند بچائیں۔ آج بچائی گئی ہر بوند، آنے والی نسلوں کے مستقبل کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔‘‘وزیر اعظم نے بہار کے سیتامڑھی میں ماحولیاتی تحفظ کی سمت میں کی جا رہی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ہی بار استعمال ہونے والے پلاسٹک کے کچرے سے نپٹنے کے لیے مقامی لوگوں نے انتظامیہ کی مدد سے کچرے کی ری سائیکلنگ کر کے اس سے پُرکشش بینچ بنانے کا کام شروع کیا ہے۔ ایک بینچ تیار کرنے میں تقریباً۴۰؍کلوگرام پلاسٹک استعمال ہو جاتا ہے۔ یہ مضبوط، پائیدار اور آرام دہ ہونے کے ساتھ ساتھ ماحول کو نقصان سے بھی بچاتی ہے۔ اسے سرکاری اسکولوں، پارکوں اور عوامی مقامات پر لگایا جاتا ہے۔ مودی نے کہا کہ اس کے ذریعے لوگوں میں ماحولیاتی تحفظ سے متعلق بیداری میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ اس کوشش میں مقامی اکائی کے ساتھ ہی ضلع انتظامیہ کا اہم رول ہے۔ اس سے مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: تلنگانہ :الیکشن میں حصہ لینے کی عمر ۲۵؍سے ۲۱؍ کرنے پر غور
` ’ایک پیڑ ماں کے نام ‘مہم کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے لوگوں سے اس سے جڑنے کی اپیل کی۔ انہوں نے بتایا کہ احمد آباد کے بھاڑج علاقے میں ایک گھنٹے کے اندر ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ پودے لگائے گئے۔ پچیس ہزار سے زیادہ اسکول کے بچوں، این سی سی کیڈٹس، رضاکاروں اور عام شہریوں کی یہ کوشش گینز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں درج کی گئی ہے۔ آنے والے برسوں میں یہی پودے ایک گھنے شہری جنگل کی شکل اختیار کرلیں گے۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ اتر پردیش میں بھی اس مہم کے تحت ایک ہی دن میں ۱۲؍جولائی کو ۳۵؍کروڑ سے زیادہ پودے لگائے گئے۔ مودی نے گجرات میں’ گر‘ کے جنگلات میں تقریباً۶۰؍ سال بعد انڈین گرے ہارن بل (ایک پرندہ) کی واپسی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یہ گر میں سالوں سے ہو رہی تحفظ اور بحالی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ہارن بل کو جنگلوں کا کسان کہا جاتا ہے۔ وہ پھل کھاتے ہیں اور بیجوں کو دور دور تک پہنچاتے ہیں۔ انہی بیجوں سے جنگل میں نئے پیڑ اگتے ہیں۔