کیرالا کے اسکول کالوٹسوم ۲۰۲۶ء میں طلبہ کی جانب سے فلسطین سے اظہارِ یکجہتی پر مبنی فنکارانہ پیشکش نے حاضرین، ججز اور سوشل میڈیا پر وسیع پذیرائی حاصل کی۔
EPAPER
Updated: January 19, 2026, 9:04 PM IST | Thiruvananthapuram
کیرالا کے اسکول کالوٹسوم ۲۰۲۶ء میں طلبہ کی جانب سے فلسطین سے اظہارِ یکجہتی پر مبنی فنکارانہ پیشکش نے حاضرین، ججز اور سوشل میڈیا پر وسیع پذیرائی حاصل کی۔
کیرالا اسکول کالوٹسوم ۲۰۲۶ء میں اس سال ثقافتی مقابلوں کے ساتھ ساتھ انسانی ہمدردی اور عالمی شعور کی جھلک بھی نمایاں رہی۔ ریاست بھر سے شریک طلبہ نے مختلف فنون کے ذریعے فلسطین کے عوام کے ساتھ یکجہتی، ظلم کے خلاف آواز اور انسانی درد کو اسٹیج پر پیش کیا، جس نے ناظرین کو گہرے طور پر متاثر کیا۔ یہ پانچ روزہ فیسٹیول، جو ایشیا کے سب سے بڑے اسکول ثقافتی میلوں میں شمار ہوتا ہے، ہمیشہ فن، موسیقی اور رقص کا جشن رہا ہے، مگر اس بار کچھ پرفارمنسز نے فن کو سماجی شعور کے ساتھ جوڑ دیا۔ مختلف اسکولوں کے طلبہ نے گیتوں، ڈراموں اور گروپ پرفارمنسز میں فلسطین کے حالات، بچوں کے دکھ اور امن کی خواہش کو علامتی انداز میں پیش کیا۔
یہ بھی پڑھئے: شامی حکومت اور ایس ڈی ایف میں جنگ بندی و انضمام کے معاہدہ کا اعلان
ایک نمایاں پرفارمنس ایک طالبہ کی تھی جس نے روایتی ملیالم لوک انداز میں فلسطین کے موضوع پر گیت پیش کیا۔ کہا جاتا ہے کہ اسے ابتدا میں مشورہ دیا گیا تھا کہ حساس موضوع انتخاب پر اس کے نمبروں پر اثر پڑ سکتا ہے، مگر اس کے باوجود اس نے اپنی پیشکش جاری رکھی۔ ججز نے اس کارکردگی کو فنی پختگی اور جذباتی اثر کے باعث اعلیٰ درجہ دیا، جبکہ سامعین نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔ اسی طرح عربی ڈرامے اور گروپ سنگنگ مقابلوں میں بھی فلسطین سے متعلق موضوعات سامنے آئے، جن میں مہاجرین، جنگ کے اثرات اور امن کی اپیل کو علامتی مناظر کے ذریعے پیش کیا گیا۔ کئی طلبہ فلسطینی ثقافت کی علامت سمجھے جانے والے رومال کے ساتھ اسٹیج پر نظر آئے، جسے حاضرین نے یکجہتی کی خاموش مگر طاقتور علامت کے طور پر دیکھا۔
یہ بھی پڑھئے: ناسا چاند کی پرواز سے قبل اپنا طاقتور ترین راکٹ متعارف کرائے گا
ان پرفارمنسز کے ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئے اور ملک بھر میں طلبہ کے اس اظہار کو سراہا گیا۔ ناقدین کے مطابق یہ پیشکشیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ نئی نسل نہ صرف فن میں مہارت رکھتی ہے بلکہ عالمی مسائل پر حساس اور باشعور بھی ہے۔ واضح رہے کہ کیرالا میں فلسطین کے ساتھ یکجہتی کی ایک طویل سماجی و ثقافتی روایت رہی ہے، اور اسکول کالوٹسوم میں اس رجحان کا نظر آنا اس روایت کے تسلسل کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر یہ فیسٹیول نہ صرف فنونِ لطیفہ کا جشن رہا بلکہ انسانیت، انصاف اور عالمی یکجہتی کا پیغام بھی بن کر ابھرا۔