Updated: January 19, 2026, 5:16 PM IST
| Damascus
شامی صدر احمد الشرع نے حکومت اور ایس ڈی ایف کے درمیان ایک تاریخی معاہدے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ملک کے شمال مشرقی علاقوں میں فوری جنگ بندی اور ریاستی اختیار کی بحالی کا عمل شروع ہوگا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں اہم صوبے شامی حکومت کے کنٹرول میں آئیں گے اور فوجی و سول اداروں کو ریاستی ڈھانچے میں ضم کیا جائے گا۔
شام کے صدر احمد الشرع۔ تصویر: آئی این این
شامی صدر احمد الشرع نے اتوار کو شامی حکومت اور ایس ڈی ایف کے درمیان ایک جامع جنگ بندی اور مکمل انضمام کے معاہدے کا اعلان کیا، جس میں ملک کے شمال مشرقی حصے میں ریاستی اختیار بحال کرنے کیلئے وسیع اقدامات کی وضاحت کی گئی ہے۔ شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’سانا‘ (SANA) کے مطابق، معاہدے کی شرائط کے تحت حکومت کی افواج اور ایس ڈی ایف کے درمیان تمام محاذوں اور رابطہ لائنوں پر فوری اور جامع جنگ بندی نافذ ہوگی۔
یہ معاہدہ اس شرط کے ساتھ نافذ العمل ہوگا کہ ایس ڈی ایف سے وابستہ تمام فوجی دستے تیاری کے طور پر دریائے فرات کے مشرق میں واقع علاقوں کی جانب واپس منتقل ہوں گے۔
یہ بھی پڑھئے: ناسا چاند کی پرواز سے قبل اپنا طاقتور ترین راکٹ متعارف کرائے گا
معاہدے کے تحت دیر الزور اور رقہ کے صوبے انتظامی اور فوجی طور پر مکمل اور فوری طور پر شامی حکومت کے حوالے کر دیے جائیں گے۔ اس میں دونوں صوبوں کے تمام سول اداروں اور سہولیات کی منتقلی بھی شامل ہے۔ معاہدے میں یہ بھی طے پایا ہے کہ دیر الزور اور رقہ میں موجود موجودہ ملازمین کو متعلقہ شامی سرکاری وزارتوں میں باضابطہ طور پر برقرار رکھا جائے گا، اور حکومت ایس ڈی ایف کے اہلکاروں یا ان صوبوں کی سول انتظامیہ کے ارکان کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہیں کرے گی۔ اس کے علاوہ، الحسکہ صوبے کے تمام سول اداروں کو شامی ریاستی اداروں اور انتظامی ڈھانچے میں ضم کرنے کی بھی شق شامل ہے۔ معاہدے کے ایک حصے کے طور پر شامی حکومت علاقے کے تمام سرحدی گزرگاہوں اور تیل و گیس کے تمام میدانوں کا کنٹرول سنبھال لے گی۔ سانا کے مطابق، ان مقامات کو شامی فورسیز محفوظ بنائیں گی تاکہ ان سے حاصل ہونے والی آمدنی ریاست کو واپس لوٹائی جا سکے۔