Updated: June 12, 2026, 9:04 PM IST
| New York
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (UNHCR) کی بدھ کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر میں ہر۷۰؍ میں سے ایک شخص جبری طور پربے گھر کیا گیا ہے، رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دہائی میں پہلی بار بے گھروں کی تعداد میں کمی آئی ہے، تاہم یہ تعداد اب بھی تشویشناک حد تک بلند ہے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (UNHCR) کی بدھ کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر میں ہر۷۰؍ میں سے ایک شخص زبردستی بے گھر ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دہائی میں پہلی بار بے گھر افراد کی تعداد میں کمی آئی ہے، تاہم یہ تعداد اب بھی تشویشناک حد تک بلند ہے۔جنیوا میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین برہم صالح نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک نئی دہائی پر محیط اقدام کی حمایت کرے، جس کا مقصد طویل عرصے سے بے گھر رہنے والے مہاجرین کی تعداد کو نصف کرنا ہے۔رپورٹ کے مطابق۲۰۲۵ء میں عالمی مہاجرین کی تعداد میں۳؍ فیصد کمی ہوئی اور یہ۴؍ کروڑ ۱۶؍ لاکھ رہ گئی، جو بے گھروں کی بلند سطح کے باوجود ایک غیر معمولی کمی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اٹلی: جارجیا میلونی نے اسرائیلی آبادکاروں اوربین گویر پر پابندیوں کی حمایت کی
بعد ازاں رپورٹ میں مثبت پیش رفت یہ بھی بتائی گئی کہ اسی دوران تقریباً۴۶؍ ہزار بے ریاست افراد نے۲۴؍ ممالک میں شہریت حاصل کی۔۲۰۲۵ء میں۵۴؍ لاکھ افراد تشدد اور ظلم و ستم سے بچنے کے لیے سرحدوں کے پار فرار اختیار کی۔واپسی کی رفتار بھی بڑھی اورایک کروڑ ۴۷؍ لاکھ بے گھر افراد اپنے گھروں یا آبائی وطن لوٹے، جن میں۴۴ لاکھ مہاجر اورایک کروڑ ۳؍ لاکھ اندرونی طور پر بے گھر افراد شامل ہیں۔افغانستان، سوڈان اور شام کی صورتحال کی وجہ سے بے گھری میں اضافہ ہوا۔ جبکہ مہاجرین کی واپسی چھ دہائیوں کی دوسری بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، تاہم UNHCR نے خبردار کیا کہ یہ واپسی اکثر دباؤ اور غیر محفوظ حالات میں ہوئی۔۷۰؍ فیصد سے زائد مہاجرین اور بین الاقوامی تحفظ کے محتاج افراد کا تعلق چھ ممالک سے تھا افغانستان، جنوبی سوڈان، سوڈان، شام، یوکرین اور وینزویلا۔۲۰۲۵ء میں سب سے بڑے میزبان ممالک میں کولمبیا (۲۸؍لاکھ)، جرمنی (۲۷؍لاکھ)، ترکی( ۲۴؍لاکھ)، یوگنڈا (۱۹؍ لاکھ)، ایران (۱۷؍لاکھ)، چاڈ (۱۵؍ لاکھ) اور پاکستان (۳؍ لاکھ) شامل تھے۔اس کے علاوہ، تنازعات اور تشدد کے باعث بڑے پیمانے پر اندرون ملک لوگ بے گھر ہوتے رہے۔
یہ بھی پڑھئے: یہودی آبادکاروں پر پابندیاں ناکافی، اسرائیلی حکومت کو نشانہ بنایا جائے
اندرون ملک بے گھروں کی نگرانی کے مرکز کے مطابق،۲۰۲۵ء کے آخر تک اندازاً۶؍ کروڑ ۸۶؍ لاکھ افراد اندرونی طور پر بے گھر تھے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں۷؍ فیصد کم ہے۔ سوڈان اب بھی دنیا کے سب سے بڑے اندرونی بے گھری کے بحران کا شکار ہے، جہاں۹۱؍ لاکھ افراد بے گھر ہیں۔ رپورٹ میں مشرق وسطیٰ کی جنگ (جو فروری۲۰۲۶ء میں شروع ہوئی) کے اثرات بھی اجاگر کیے گئے، جس سے وسط مئی تک لبنان میں اندازاً ۱۰؍ لاکھ اور مارچ کے آخر تک ایران میں۳۲؍ لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔برہم صالح نے کہا کہ ’’بہت سے مہاجرین کے لیے بے گھری زندگی بچاتی ہے مگر یہی زندگی بھر کی قید بن جاتی ہے۔ انسانی امداد جانیں بچاتی ہے، لیکن یہ آخری منزل نہیں اور نہ ہی یہ مہاجرین کو اپنے مستقبل کا فعال طور پر فیصلہ کرنے کے قابل بناتی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: یورپ، مہاجرین کی اموات گننے کو عمومی عادت نہیں بنا سکتا: پوپ لیو
بعد ازاں برہم نے ایک نئے نمونے کی تبدیلی پر زور دیا جو جنگ اور ظلم سے فرار ہونےوالوں کے لیے امید اور مواقع پیدا کرے۔صالح نے طویل مدتی بے گھری کے پیمانے پر خاص توجہ دلاتے ہوئے خبردار کیا کہ۷۰؍ فیصد مہاجرین طویل مدتی جلاوطنی میں زندگی گزار رہے ہیں، جن میں سے بہت سے خط غربت سے نیچے ہیں، جبکہ ان کے دوبارہ آبادکاری کے راستے ختم ہو رہے ہیں۔ جبکہ رپورٹ کی معمولی پیش رفت پر۲۰۲۶ء میں ابھرنے والے نئے بے گھری کے بحرانوں نے گہن لگا دی ہے۔ مارچ۲۰۲۶ء کے آخر میں ایران پر امریکہ-اسرائیل جنگ شروع ہونے کے بعد، اسرائیلی حملوں نے لبنان میں۱۰؍ لاکھ سے زائد افراد کو جبراًبے گھر کر دیا، جبکہ ایران میں مزید۳۲؍ لاکھ افراد اندرونی طور پر بے گھر ہوئے۔