Updated: January 24, 2026, 10:07 PM IST
| New Delhi
ہندوستان میں بڑھتے ہوئے سائبر اور ڈجیٹل فراڈ کے واقعات کو روکنے کے لیے وزارتِ داخلہ کی اعلیٰ سطحی کمیٹی نے ’’کل سوئچ‘‘ (Kill Switch) نظام متعارف کرانے پر غور شروع کر دیا ہے۔ اس نظام کے تحت مشتبہ لین دین یا فراڈ کی اطلاع ملتے ہی متعلقہ بینک اکاؤنٹ فوراً بلاک کر دیا جائے گا، تاکہ نقصان کو فوری طور پر روکا جا سکے۔
ملک میں ڈجیٹل اور سائبر فراڈ کے بڑھتے ہوئے معاملات کے پیشِ نظر وزارتِ داخلہ نے ایک اہم قدم اٹھانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ فراڈ کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے وزارت کی اعلیٰ سطحی کمیٹی ایک ایسے نظام پر غور کر رہی ہے جسے ’کل سوئچ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس نظام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جیسے ہی کسی اکاؤنٹ میں مشتبہ سرگرمی یا ڈجیٹل فراڈ کی نشاندہی ہو، اس اکاؤنٹ کو فوری طور پر لاک کر دیا جائے۔خبروں کے مطابق سائبر فراڈ کے واقعات میں گزشتہ چند برسوں کے دوران تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ صرف گزشتہ مالی سال میں سائبر فراڈ کے ذریعے ۵۲؍ ہزار ۹۷۶؍ کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا، جبکہ ۲۰۲۵ء میں ۱۹؍ ہزار ۸۱۳؍ کروڑ روپے کی رقم شہریوں نے گنوائی ہے۔ مزید یہ کہ ۲۰۲۵ء میں ۷۷ء۲۱؍ لاکھ سے زائد شکایات سائبر فراڈ سے متعلق درج کی جا چکی ہیں، جو صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ڈالر کے مقابلے روپیہ ۹۳ء۹۱؍ کی ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گیا
’کل سوئچ‘ نظام کے تحت جیسے ہی کسی صارف، بینک یا ایجنسی کی جانب سے فراڈ کی اطلاع دی جائے گی، ایک مرکزی پلیٹ فارم کے ذریعے متعلقہ اکاؤنٹ پر فوری پابندی عائد کر دی جائے گی۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ فراڈ کرنے والے افراد رقم کو آگے منتقل نہ کر سکیں اور متاثرہ صارف کو ہونے والے نقصان کو کم سے کم رکھا جا سکے۔ وزارتِ داخلہ کے ذرائع کے مطابق، یہ نظام ڈجیٹل گرفتاری (Digital Arrest)، جعلی کالز، فشنگ، آن لائن اسکیمنگ اور دیگر جدید سائبر جرائم پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کیلئے بینکوں، ٹیلی کام کمپنیوں، فِن ٹیک اداروں اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے درمیان ریئل ٹائم کوآرڈینیشن کو مضبوط کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: بھیم ایپ نے اعتماد میں اضافہ کیا، ۲۰۲۵ء میں ماہانہ لین دین میں ۳۰۰؍ فیصد بڑھا
حکام کا کہنا ہے کہ اس مجوزہ نظام میں صارفین کی سہولت اور قانونی تحفظ کا بھی خاص خیال رکھا جائے گا تاکہ کسی بے قصور شہری کو غیر ضروری پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اکاؤنٹ بلاک ہونے کی صورت میں متاثرہ فرد کو فوری اطلاع دی جائے گی اور تصدیق کے بعد اکاؤنٹ بحال کرنے کا طریقہ بھی واضح ہوگا۔ ماہرین کے مطابق، اگر ’کل سوئچ‘ نظام کو مؤثر طریقے سے نافذ کیا گیا تو یہ ڈجیٹل فراڈ کے خلاف ایک اہم حفاظتی ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت کا مقصد یہی ہے کہ ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال کے ساتھ شہریوں کے مالی مفادات کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔