Updated: August 08, 2026, 3:04 PM IST
| New Delhi
رپورٹ میں نوٹ کیا گیا ہے کہ زیادہ حکومتی اخراجات لازمی طور پر بہتر نتائج کے ضامن نہیں ہیں کیونکہ اس کا اثر اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ فنڈز کا استعمال کتنے مؤثر طریقے سے کیا جاتا ہے۔ اخراجات کی ساخت اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے جتنی کہ کل رقم، جہاں کچھ ممالک حفظانِ صحت، تعلیم اور فلاح و بہبود کو ترجیح دیتے ہیں، وہیں دیگر انفراسٹرکچر، دفاع یا قرض کی ادائیگی پر زیادہ توجہ مرکوز کرتے ہیں۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک حالیہ رپورٹ میں جی ڈی پی کے لحاظ سے ممالک کے حکومتی اخراجات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے اعدادوشمار، اس بات میں شدید تفاوت کو ظاہر کرتے ہیں کہ ممالک عوامی فنڈز کو کس طرح مختص کرتے ہیں۔ زیر جائزہ ممالک میں غیرملکی امداد پر منحصر جزیرہ نما ممالک اور چھوٹی معیشتوں سے لے کر وسیع تر فلاحی نظام والے امیر ممالک شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بچوں کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچانے پر میٹا کو ۵۶۷؍ ملین ڈالر جرمانہ
اپنی جی ڈی پی کے لحاظ سے سب سے زیادہ حکومتی اخراجات کرنے والے ممالک کی فہرست میں کیریباتی (Kiribati) کو پہلا مقام حاصل ہوا ہے۔ اوقیانوسیا میں واقع اس ملک کے حکومتی اخراجات اس کی جی ڈی پی کے ۱ء۹۸ فیصد کے برابر ہیں۔ اس فہرست میں دوسرے نمبر پر مارشل آئی لینڈز (Marshall Islands) ہے جہاں جی ڈی پی کا ۶ء۷۱ فیصد حصہ حکومتی اخراجات میں خرچ ہو جاتا ہے۔ یوکرین ۳ء۷۱ فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ اس کے بعد فن لینڈ (۷ء۵۷ فیصد)، فرانس (۲ء۵۷ فیصد)، مائیکرونیشیا (۵۷ فیصد)، آسٹریا (۵۶ فیصد) اور بیلجیم (۵ء۵۴ فیصد) کا نمبر آتا ہے۔
اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ کیریباتی اور مارشل آئی لینڈز جیسی چھوٹی جزیرہ نما ریاستوں کیلئے حکومتی اخراجات غیرملکی امداد اور بین الاقوامی گرانٹس سے شدید متاثر ہوتے ہیں۔ بیرونی فنڈنگ، نسبتاً چھوٹی ملکی معیشتوں کے ساتھ ساتھ عوامی خدمات اور ترقیاتی منصوبوں کے بڑے حصے کو سہارا دیتی ہے جس سے جی ڈی پی کے فیصد کے طور پر ناپے جانے پر حکومتی اخراجات ان کی پوری سالانہ معاشی پیداوار کے حجم کے قریب پہنچ جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اوپن اے آئی ۲۰۲۷ء میں چیٹ جی پی ٹی اسمارٹ اسپیکر متعارف کرانے کی تیاری میں
یہ درجہ بندی سب سے زیادہ خرچ کرنے والوں میں یورپی فلاحی ریاستوں کی مضبوط موجودگی کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ فن لینڈ، فرانس، بیلجیئم، اٹلی (۶ء۵۰ فیصد) اور جرمنی (۴ء۴۹ فیصد) جیسے ممالک جی ڈی پی کا نمایاں حصہ حکومتی پروگراموں کیلئے مختص کرتے ہیں۔ ان پروگراموں میں معمر ہوتی آبادی اور حفظانِ صحت کے بڑھتے ہوئے اخراجات شامل ہیں جو بہت سے ممالک میں زیادہ عوامی اخراجات کا باعث بنتے ہیں۔
ہندوستان اپنی جی ڈی پی کا کتنا حصہ خرچ کرتا ہے؟
آئی ایم ایف کے اعداد و شمار کے مطابق، ہندوستان اپنی جی ڈی پی کا ۴ء۲۸ فیصد حکومتی اخراجات پر خرچ کرتا ہے۔ دیگر بڑی معیشتوں میں، جاپان ۱ء۳۹ فیصد، آسٹریلیا ۹ء۳۸ فیصد، روس ۹ء۳۶ فیصد، چین ۳۳ فیصد، میکسیکو ۳ء۳۰ فیصد اور جنوبی کوریا ۵ء۲۲ فیصد حصہ خرچ کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: آر بی آئی کا فیصلہ: ماہرین کے مطابق کاروباری اعتماد اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا
رپورٹ میں نوٹ کیا گیا ہے کہ زیادہ حکومتی اخراجات لازمی طور پر بہتر نتائج کے ضامن نہیں ہیں کیونکہ اس کا اثر اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ فنڈز کا استعمال کتنے مؤثر طریقے سے کیا جاتا ہے۔ اخراجات کی ساخت اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے جتنی کہ کل رقم، جہاں کچھ ممالک حفظانِ صحت، تعلیم اور فلاح و بہبود کو ترجیح دیتے ہیں، وہیں دیگر انفراسٹرکچر، دفاع یا قرض کی ادائیگی پر زیادہ توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ نتیجتاً جی ڈی پی کے حصے کے طور پر اخراجات کی ایک جیسی سطح رکھنے والے ممالک بھی بہت مختلف معاشی اور سماجی نتائج دیکھ سکتے ہیں، جس کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ ان فنڈز کو کس طرف لگایا جاتا ہے اور ان کا نظام کیسے چلایا جاتا ہے۔