• Thu, 29 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کسانوں اور مزدوروں کے مطالبات ماننے کے بعد کسان سبھاکاگاڑی مارچ ملتوی

Updated: October 29, 2026, 1:00 PM IST | Saadat Khan | New Delhi

کسان اکولہ سے نکل کر شاہ پورتک آگئے تھے۔ وزیر اعلیٰ دیویندرفرنویس نے کسان سبھاکےمتعدد مطالبات کو پورا کرنےکی یقین دہانی کرائی ،ساتھ ہی۸۱؍ لاکھ لاڈلی بہنیں جو کے وائی سی کی کمی کی وجہ سے اسکیم سے محروم رہ گئی ہیں، انہیں دوبارہ اسکیم میں شامل کرنے کا اعلان کیا۔

Chief Minister Fadnavis, Deputy Chief Minister Shinde, Sunetra Pawar, and other ministers and officials with a delegation of farmers. Photo: INN
کسانوں کے وفد کے ساتھ وزیراعلیٰ فرنویس،نائب وزیراعلیٰ شندے، سونیترا پوار اور دیگروزراء و افسران۔ تصویر: آئی این این

کسانوں، زرعی مزدوروں، قبائلیوں، عام مزدوروں، خواتین اور محنت کشوں کے مطالبات کے تحت کسان سبھا کی جانب سے اکولہ سے ممبئی تک شروع کئے گئے لانگ گاڑی مارچ کو وزیر اعلیٰ دیویندرفرنویس کی یقین دہانی کے بعدمنگل ۲۶؍ اکتوبر کو تھانے کےشاہ پور میں ملتوی کر دیا گیا ۔

وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کی صدارت میں  نائب وزرائے اعلیٰ ایکناتھ شندے اور سونیترا پوار، ۵؍ وزراء، متعلقہ محکموں کے سیکریٹریوں اور کسان سبھا کے وفد کے مابین سہیادری گیسٹ ہاؤس میں تقریباً ۲؍ گھنٹے میٹنگ جاری رہی ۔جس میں وزیر اعلیٰ فرنویس نے وفد کو یقین دلایا کہ اسکول نیوٹریشن ورکرز کیلئے ماہانہ ایک ہزار روپے کی تنخواہ میں اضافے پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ تعمیراتی کارکنوں کیلئے میڈی کلیم اسکیم دوبارہ متعارف کرائی جائے گی۔ طلبہ کیلئے اسکالرشپ اسکیم شروع کی جائے گی۔ پی ای ایس اے موبلائزر کے ملازمین کی تنخواہیں بھی سیلف ہیلپ گروپس کے بجائے براہ راست انکے کھاتوں میں جمع کی جائیں گی۔ ۸۱؍ لاکھ ڈالی بہنیں جو کے وائی سی کی کمی کی وجہ سے مالی اسکیم سے محروم رہ گئی ہیں ، انہیں دوبارہ اس اسکیم میں شامل کیا جائے گا اور کےوائی سی کا عمل جاری رہے گا۔ اس کیلئے بند پورٹل کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ وہ لاڈلی بہنیں جنہیں کے وائی سی ہو نے کےباوجود اعزازیہ نہیں مل رہا ہے، انہیںفوری طورپراعزازیہ دیا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ متفقہ مطالبات پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کیلئے۴؍ نومبر کو ایک اور میٹنگ رکھی جائے گی۔

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: ۱۰۰؍میٹر کے دائرہ میں۳؍ ہیلتھ سینٹر۔ اسٹینڈنگ کمیٹی میں سوالات

کسان سبھاکے گاڑی مارچ میں ۲۰؍ اضلاع کے ۱۲؍ہزار کسانوں اور ایک ہزار گاڑیوں کا قافلہ شامل تھا۔ وفد میں آل انڈیا کسان سبھا کے صدر ڈاکٹر اشوک دھاولے، جنرل سیکریٹری ڈاکٹر وجو کرشنن، جوائنٹ سیکریٹری ڈاکٹر اجیت نوالے، ریاستی صدر یشونت زادے، ریاستی سیکریٹری اُمیش دیشمکھ، ریاستی نائب صدر اور ایم ایل اے ونود نکولے، سابق ایم ایل اے جے پی گاویت اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا،مارکسوادی (سی پی آئی ایم) کے دیگر لیڈران شامل تھے۔

اس موقع پر وزیر محنت آکاش فنڈکر نے یقین دلایاکہ خشک سالی سے متاثرہ کسانوں کو این ڈی آر ایف کے اُصولوں سے ہٹ کر اضافی امداد فراہم کی جائے گی اور نمو شیتکاری مہاسمن ندھی کی ۲؍ زیر التواء قسطیں جلد ہی ادا کر دی جائیں گی۔  وزیر اعلیٰ فرنویس نے وفد کو یقین دلایا کہ قرض معافی کی ذیلی کمیٹی کیساتھ بات چیت کے بعد ان کسانوں کیلئے ۵۰؍ہزار روپے کی مراعاتی گرانٹ میں اضافہ کے مطالبے پر فیصلہ کیا جائے گا جو اپنے قرضوں کی باقاعدگی سے ادائیگی کرتے ہیں ۔حکومت آئندہ سال فصل انشورنس اسکیم کے منسوخ شدہ فیصلہ کو دوبارہ نافذ کرنے پر بھی مثبت موقف اختیار کرے گی۔  میٹنگ میں جنگلاتی زمین، بنجر زمین، غیر کاشت شدہ زمین، مندر کی زمین، مکانات کے تہہ خانے اور دوسرے درجے کی زمینوں کے مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اس سلسلے میں ضروری قوانین اور حکومتی فیصلے کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK