شہر میں بنیادی طبی سہولتوں کی فراہمی کیلئے کی گئی منصوبہ بندی پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ شانتی نگر میں ممبئی پائپ لائن کے قریب محض۱۰۰؍ میٹر کے دائرے میں ۳؍ اربن ہیلتھ اینڈ ویلنیس سینٹر (یو ایچ ڈبلیو سی) قائم کئے گئے ہیں جن میں ۲؍ مراکز بند پائے گئے جبکہ راجیو گاندھی فلائی اوور کے نیچے ایک اور طبی کیبن کئی ماہ سے غیر استعمال شدہ پڑا ہے۔
شہر میں بنیادی طبی سہولتوں کی فراہمی کیلئے کی گئی منصوبہ بندی پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ شانتی نگر میں ممبئی پائپ لائن کے قریب محض۱۰۰؍ میٹر کے دائرے میں ۳؍ اربن ہیلتھ اینڈ ویلنیس سینٹر (یو ایچ ڈبلیو سی) قائم کئے گئے ہیں جن میں ۲؍ مراکز بند پائے گئے جبکہ راجیو گاندھی فلائی اوور کے نیچے ایک اور طبی کیبن کئی ماہ سے غیر استعمال شدہ پڑا ہے۔ ان حالات میں طبی مراکز کے قیام، اخراجات اور کارکردگی پر سوالات اٹھنے کے بعد اسٹینڈنگ کمیٹی نے محکمۂ صحت سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔
جمعہ کو اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں بلال نگر، سنجے نگر اور نیو آزاد نگر میں اتنے کم فاصلے پر ۳؍ طبی مراکز قائم کرنے کی ضرورت پر سوال اٹھائے گئے۔ دستیاب معلومات کے مطابق ہر کیبن پر تقریباً۲۱ء۵۰؍ لاکھ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ تاہم اصل اخراجات کی تصدیق سرکاری ریکارڈ سے ہونا باقی ہے۔ اسٹینڈنگ کمیٹی نے یہ جاننا چاہا کہ طبی مراکز کے مقامات کا انتخاب کس بنیاد پر کیا گیا اور کیا اس سے پہلے مقامی آبادی، مریضوں کی ضرورت اور طبی سہولتوں کی دستیابی کا جائزہ لیا گیا تھا۔بتایا جاتا ہے کہ کمیٹی کو اطمینان بخش وضاحت نہیں مل سکی۔ محکمۂ صحت سے آئندہ میٹنگ میں تفصیلی معلومات پیش کرنے کی توقع ہے۔
مراکز کے مقررہ اوقات صبح۹؍ بجے سے شام ۵؍بجے تک بتائے گئے ہیںلیکن جب ذرائع ابلاغ کے نمائندے مراکز کا جائزہ لینے پہنچے تو سنجے نگر مرکز کا دروازہ بند ملا۔ دستک دینے پر ایک ملازم نے بتایا کہ مرکز بند ہوچکا ہے اور مریضوں کو دوپہر۲؍ بجے تک دیکھا جاتا ہے۔ اس کے بعد دروازہ دوبارہ بند کردیا گیا۔ نیو آزاد نگر مرکز پر تالا لگا ہوا تھا۔میونسپل محکمۂ صحت میں تعینات ڈاکٹر افضل شیخ نے کہا کہ انہیں مراکز بند ملنے کی اطلاع نہیں تھی اور اگر کوئی مرکز بند پایا گیا تو کارروائی کی جائے گی۔ تاہم عملے کی حاضری اور ڈیوٹی کے اوقات کی تصدیق سرکاری ریکارڈ سے ہونا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھئے:شاندار کارکردگی کے سبب انجمن خیر الاسلام ایلیٹ لیگ میں پہنچ گئی
دوسری جانب دستیاب معلومات کے مطابق ہر مرکز میں روزانہ۲۰؍ سے۴۵؍ مریض آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے جبکہ بلال نگر مرکز میں ماہانہ مریضوں کی تعداد ایک ہزار سے کم بتائی گئی ہے۔ ان اعداد و شمار کی سرکاری ریکارڈ سے تصدیق ہونا باقی ہے۔ کمیٹی نے مریضوں کی تعداد کے ساتھ عملے کی حاضری اور ادویات کی تقسیم کا حساب بھی طلب کیا ہے۔
اسٹینڈنگ کمیٹی میٹنگ میں مریضوں کے اندراج اور ادویات کے اسٹاک میں ممکنہ بے ضابطگیوں سے متعلق خدشات بھی سامنے آئےہیں۔ ان شکایات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ نگرانی بہتر بنانے کیلئے موبائل ایپ تیار کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے جس میں مریض کا نام، موبائل نمبر اور ڈاکٹر کا نسخہ درج کرکے ادویات کی تقسیم کا ریکارڈ رکھا جاسکے گا۔ تاہم اس نظام کے نفاذ اور مریضوں کی ذاتی معلومات کے تحفظ سے متعلق تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔
راجیو گاندھی فلائی اوور کے نیچے، ایس ٹی ڈپو کے سامنے موجود ایک اور طبی کیبن کئی ماہ سے غیر استعمال شدہ پڑا ہونے کی اطلاع ہے۔ دوسری جانب وارڈ نمبر۱۱؍کے کارپوریٹر حذیفہ حلیم انصاری نے قدوائی نگر تالاب کے اطراف واقع بڑی کچی آبادی میں ہیلتھ سینٹر قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ایک طرف چند سو میٹر کے اندر ۳؍طبی مراکز اور دوسری طرف غیر استعمال شدہ کیبن اور طبی سہولتوں کے منتظر علاقے، میونسپل کارپوریشن کی منصوبہ بندی کا جائزہ لینے کیلئے کافی ہیں۔