Inquilab Logo Happiest Places to Work

کولکاتا میسی ایونٹ افراتفری: شائقین کو ری فنڈ، معاوضے کی امید، قانونی راستے واضح

Updated: December 16, 2025, 4:55 PM IST | Kolkata

سالٹ لیک اسٹیڈیم (کولکاتا) میں لیونل میسی کے متوقع ایونٹ کے دوران بدانتظامی اور افراتفری کے بعد ۶۰؍ ہزار سے زائد شائقین شدید مایوسی کا شکار ہیں۔ مرکزی منتظم کی گرفتاری کے باوجود شائقین صرف ٹکٹ کی واپسی نہیں بلکہ سفر، رہائش اور ذہنی اذیت کے ازالے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔ پولیس اور قانونی ماہرین کے مطابق ریفنڈ کا عمل شروع ہو چکا ہے اور متاثرہ افراد کے پاس قانونی چارہ جوئی کے واضح راستے موجود ہیں۔

Fans were furious at the stadium in Kolkata. Photo: INN
کولکاتا میں اسٹیڈیم میں شائقین کا غصہ پھوٹ پڑا تھا۔ تصویر: آئی این این

سنیچر کو سالٹ لیک اسٹیڈیم میں لیونل میسی کی جھلک دیکھنے کیلئے ۶۰؍ ہزار سے زائد شائقین جمع ہوئے، مگر متوقع فٹبال تماشے کے بجائے انہیں شدید افراتفری اور بدانتظامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اب یہ شائقین جواب، انصاف اور ازالے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مرکزی منتظم ستادرو دتہ کی گرفتاری اور ریاستی پولیس سربراہ کی جانب سے ٹکٹ کی رقم واپس کرنے کے دباؤ کے باوجود بیشتر شائقین مطمئن نہیں ہیں۔ خاص طور پر حیدرآباد اور ممبئی میں میسی سے متعلق دیگر شوز کے پُرامن اور کامیاب انعقاد نے ان کی مایوسی میں مزید اضافہ کیا ہے۔ متاثرہ شائقین میں سے کئی ملک کی دیگر ریاستوں سے آئے تھے، جنہوں نے ہوائی ٹکٹ، ہوٹل، کھانے اور دیگر اخراجات پر ہزاروں روپے خرچ کئے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف ٹکٹ کی رقم کی واپسی کافی نہیں، کیونکہ وہ خود کو دھوکہ کھایا ہوا محسوس کر رہے ہیں اور مکمل معاوضے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں ٹیلی گراف نے شائقین کے اہم سوالات کے جوابات جاننے کیلئے پولیس حکام اور قانونی ماہرین سے بات کی۔

سوال: کیا شائقین کو ان کے ٹکٹوں کی رقم واپس ملے گی؟
پولیس کے مطابق ری فنڈ کیلئے کارروائی شروع ہو چکی ہے۔ بیدھن نگر پولیس نے ہفتے کے روز GOAT ٹور کے آن لائن ٹکٹ فروخت کرنے والے پلیٹ فارم کو خط لکھ کر ہدایت دی ہے کہ ٹکٹوں کی فروخت سے جمع ہونے والی کوئی بھی رقم مرکزی منتظم ستادرو دتہ کو منتقل نہ کی جائے۔ بیدھن نگر سٹی پولیس کمشنر مکیش نے اتوار کو بتایا کہ ’’ہم نے زومیٹو کو خط لکھا ہے کہ وہ ٹکٹوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کو منجمد رکھے۔ کوئی رقم منتظم کو منتقل نہیں کی جانی چاہئے۔‘‘ پولیس ذرائع کے مطابق اب یہ جانچ کی جا رہی ہے کہ فروخت شدہ ٹکٹوں سے کتنی رقم جمع ہوئی اور آیا آن لائن پلیٹ فارم خریداروں کا مکمل ڈیٹا، بشمول ای میل اور فون نمبرز، فراہم کر سکتا ہے یا نہیں۔خیال رہے کہ اس سے قبل ریاست کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس راجیو کمار نے کہا تھا کہ منتظم کو ٹکٹوں کی واپسی کے لیے تحریری حلف نامہ جمع کرانے کی ہدایت دی گئی ہے، بصورت دیگر قانونی کارروائی کی جائے گی۔

سوال: دوسرے شہروں سے آنے والے شائقین کے سفر اور رہائش کے اخراجات کا ازالہ کون کرے گا؟
ہائی کورٹ کے وکیل پوجن چٹرجی کے مطابق، کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ ۲۰۱۹ء کے تحت متاثرہ تماشائی ٹکٹ کی رقم کے علاوہ سفر، رہائش اور ذہنی اذیت کا معاوضہ بھی طلب کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صارفین کی شکایات کیلئے کنزیومر ڈسپیوٹس ریڈریسل کمیشن میں درخواست دی جا سکتی ہے، جو تین سطحوں پر کام کرتا ہے: ضلعی، ریاستی اور قومی۔ کولکاتا میں اس کمیشن کے دفاتر سیالدہ، نیو ٹاؤن، علی پور اور باروئی پور میں واقع ہیں۔ قانون کے مطابق:ضلعی کمیشن ایک کروڑ تک کے معاملات سنتا ہے، ریاستی کمیشن ایک کروڑ سے ۱۰؍ کروڑ تک اور قومی کمیشن اس سے زائد رقم کے معاملات دیکھتا ہے۔ شکایت کنندہ کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ اس نے سفر، رہائش اور دیگر مدات میں واقعی اخراجات کئے تھے۔ چٹرجی کے مطابق،’’اگر متاثرہ صارفین کی تعداد زیادہ ہو تو اجتماعی شکایت بھی دائر کی جا سکتی ہے۔‘‘

سوال: ای گائیڈ میں میسی کی ماسٹر کلاس اور پینلٹی شوٹ آؤٹ کے وعدے پورے نہیں ہوئے۔ کیا اس پر بھی معاوضہ مل سکتا ہے؟
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہاں۔ ایک وکیل کے مطابق،’’یہ معاہدے کی خلاف ورزی کا واضح معاملہ ہے۔ اشتہارات یا ای گائیڈ میں کئے گئے وعدے پورے نہ ہونے پر متاثرہ افراد معاوضے کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔‘‘ پوجن چٹرجی نے کہا کہ یہ عمل ’’غیر منصفانہ تجارتی طریقوں‘‘ کے زمرے میں آتا ہے۔ اگرچہ آن لائن ٹکٹ بیچنے والا صرف سہولت کار ہے، لیکن اسے بھی فریق بنایا جا سکتا ہے، جبکہ بنیادی ذمہ داری منتظم پر عائد ہوتی ہے۔ قانونی کارروائی سے قبل متاثرہ شخص کو منتظم کو نوٹس بھیجنا چاہئے اور ادائیگی یا جواب کیلئے ۱۴؍ دن کا وقت دینا چاہئے۔ وکلاء کے مطابق، ای میل کے ساتھ ساتھ اسپیڈ پوسٹ کے ذریعے نوٹس بھیجنا بہتر ہے۔

سوال: جن لوگوں نے ’’معاون‘‘ یا ’’کمپلمنٹری‘‘ پاس خریدے تھے، ان کا کیا ہوگا؟
پولیس کے مطابق، وہ پاسز جو آن لائن ری سیلر کے ذریعے خریدے نہیں گئے، ان کی تصدیق مشکل ہے اور وہ ری فنڈ کے دائرے میں نہیں آئیں گے۔ بیدھن نگر سٹی پولیس کے ایک افسر نے واضح کیا کہ ’’کمپلمنٹری پاس فروخت کیلئے نہیں ہوتے۔ اگر کسی نے انہیں خریدا ہے تو یہ ابتدا ہی سے غیر قانونی عمل تھا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK