• Sat, 10 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کولکاتا:مسلم بستی میں پانی کی فراہمی پرروک، ٹی ایم سی ایم پی اقوام متحدہ سے رجوع

Updated: October 10, 2026, 2:59 PM IST | Kolkata

کولکاتا کی ایک مسلم بستی میں پانی کی فراہمی پر مبینہ طور پ رروک لگا دی گئی ہے۔ اس ضمن میں ٹی ایم سی کے ایک رکن پارلیمنٹ نے اقوام متحدہ کو خط لکھ کر مداخلت کی اپیل کی ہے۔ ایم پی کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت کی جانب سے یہ دانستہ طور پر کیا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے الزام عائد کیا کہ مذکورہ بستی میں پانی کی کٹوتی کا تعلق کالونی کے رہائشیوں کی مذہبی شناخت سے ہے، کیونکہ بی جے پی ان رہائشیوں کو اپنا ووٹ بینک نہیں سمجھتی۔

TMC MP Samirul Islam. Photo: X
ٹی ایم سی کے رکن پارلیمان سمیرالاسلام۔ تصویر: ایکس

 کولکاتا کی جیوتی نگر کالونی میں پینے کے پانی کا طویل بحران پیدا ہونے کے بعد ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی ) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ سمیر الاسلام نے اقوامِ متحدہ (یو این ) سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی ) کے اقتدار میں آنے کے بعد سے وہاں کے مسلم رہائشیوں کو پانی کی فراہمی سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: تمل ناڈو کی دوسیٹوں پرضمنی انتخابات میں وزیراعلیٰ وجے کی ’ٹی وی کے‘ کامیاب

سمیر الاسلام نے اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کو ایک خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے الزام لگایا کہ پانی کی اس کٹوتی کا تعلق کالونی کے رہائشیوں کی مذہبی شناخت سے ہے، کیونکہ بی جے پی ان رہائشیوں کو اپنا ووٹ بینک نہیں سمجھتی۔ ایم پی نے اس خط کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ پینے کے پانی تک رسائی محض شہری سہولیات کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک بنیادی انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔انہوں نے لکھا، ’’رہائشیوں نے کسی خاص رعایت یا خصوصی فائدے کی مانگ نہیں کی ہے۔ وہ صرف ایک ایسی چیز تک رسائی مطالبہ کررہے ہیں جو ان کی بقا اور زندگی کیلئے انتہائی ضروری ہے۔‘‘
سمیر الاسلام نے پینے کے صاف پانی اور سینیٹیشن (نکاسیِ آب) کو انسانی حقوق کے طور پر تسلیم کرنے کے اقوامِ متحدہ کے فیصلے کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی فراہمی میں اس تعطل نے مقامی لوگوں کی صحت،ان کی عزتِ نفس اور مناسب معیارِ زندگی کے بنیادی حقوق پر شدید سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیاکہ پینے کے پانی کی طویل قلت کی وجہ سے ہزاروں افراد، بالخصوص غریب اور محروم طبقے کے لوگ بیماریوں اور دیگر طبی خطرات کا شکار ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: جنترمنتر: صحافیوں، طلبہ اور وکلا کی گرفتاریوں پر اپوزیشن کا رد عمل

بعد ازاں ٹی ایم سی ایم پی نے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور کالونی کے رہائشیوں کو باقاعدہ اور مناسب مقدار میں پانی کی فراہمی یقینی بنانے میں ناکامی پر متعلقہ حکام سے معلومات اور جواب طلب کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK