• Sat, 10 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنتر منتر: احتجاج سے قبل دہلی پہنچتے ہی سی جے پی لیڈران حراست میں

Updated: October 10, 2026, 11:23 AM IST | New Delhi

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرِ ثانی (ایس آئی آر) کے عمل کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر آج دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اور طلبہ تنظیموں کے احتجاج کے پیشِ نظر دارالحکومت میں سیکوریٹی سخت کردی گئی ہے۔ دہلی پولیس نے مظاہرے کی اجازت نہیں دی ہے، جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں ناکہ بندی، گاڑیوں کی جانچ اور اضافی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔

Dhruv Rathee. Photo: INN
دھرو راٹھی۔ تصویر: آئی این این

سی جے پی احتجاج: دہلی پہنچتے ہی دِپکے، داس اور رنکا طیارے سے اترتے ہی حراست میں

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے لیڈروں ابھیجیت دِپکے، سورَو داس اور آشوتوش رنکا کو دہلی میں احتجاج میں شرکت کے لیے پہنچنے پر طیارے سے اترتے ہی حراست میں لے لیا گیا۔ پارٹی نے ان تینوں لیڈروں کی حراست کی مذمت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ دہلی پولیس نے انہیں مجوزہ پُرامن مظاہرے کے مقام تک پہنچنے سے روکنے کے لیے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت کارروائی کی۔ سی جے پی نے اس اقدام کو نقل و حرکت کی آزادی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے تینوں لیڈروں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج سے قبل یوٹیوبر دھرو راٹھی کو بھی حراست میں لیے جانے کی اطلاع ہے۔

دھرو راٹھی کو حراست میں لیے جانے کی اطلاع

لائیو میڈیا رپورٹس کے مطابق، یوٹیوبر دھرو راٹھی کو جنتر منتر احتجاج سے قبل گروگرام میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سی جے پی اور اس سے وابستہ طلبہ تنظیمیں احتجاج میں شرکت کے لیے دہلی پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ تاہم، دھرو راٹھی کی حراست کی وجہ اور ان کے خلاف کسی قانونی کارروائی کی تفصیلات کی سرکاری تصدیق سامنے آنا ضروری ہے۔

دہلی میں ہزاروں اہلکار تعینات، پولیس کی سخت نگرانی

احتجاج کے پیشِ نظر دہلی میں بڑے پیمانے پر سیکوریٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ مختلف رپورٹوں کے مطابق، پولیس اور نیم فوجی دستوں کے ہزاروں اہلکار تعینات ہیں، جبکہ اہم مقامات پر نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ پولیس نے جنتر منتر اور اطراف کے علاقوں میں اجتماع کو روکنے کے لیے پابندیاں نافذ کی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد امن و امان برقرار رکھنا اور ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانا ہے۔

ملک بھر میں ۱۰؍ ہزار افراد کی حراست کا دعویٰ

کاکروچ جنتا پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ احتجاج سے قبل ملک بھر میں طلبہ، کسانوں، دلت تنظیموں اور سیاسی گروپوں سے وابستہ کم از کم ۱۰؍ ہزار افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ پارٹی کے مطابق، کئی ریاستوں میں کارکنوں کو دہلی جانے سے روکا گیا۔ دوسری جانب، دہلی میں کم از کم ایک ہزار افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاع پولیس کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔ ملک بھر میں ۱۰؍ ہزار افراد کی حراست کے دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

طلبہ کو ٹرینوں سے اتارنے کا الزام

احتجاج میں شرکت کے لیے پونے سے دہلی روانہ ہونے والے کم از کم ۱۴؍ طلبہ کو مدھیہ پردیش کے اٹارسی ریلوے اسٹیشن پر حراست میں لیے جانے کی اطلاع ہے۔ یہ طلبہ مختلف طلبہ تنظیموں سے وابستہ تھے۔ رپورٹ کے مطابق، انہیں گووا ایکسپریس سے اتارا گیا اور بعد میں ایک مقام پر لے جایا گیا۔ اس معاملے میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے حکام کو طلبہ کو ۱۳؍ اکتوبر تک پیش کرنے اور ان کی بحفاظت واپسی یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔

پولیس نے احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کیا

دہلی پولیس نے جنتر منتر پر ۱۰؍ اکتوبر کو ہونے والے احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق، اجازت کی درخواست مقررہ وقت سے بہت کم پہلے دی گئی تھی اور گزشتہ احتجاج کے دوران قواعد کی خلاف ورزیوں کے خدشات بھی موجود تھے۔ پولیس نے نئی دہلی ضلع میں امتناعی احکامات نافذ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی سلامتی، امن و امان اور ٹریفک کے انتظام کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

میٹرو، ٹرینوں اور انٹرنیٹ خدمات پر پابندیاں

احتجاج کے باعث دارالحکومت میں آمدورفت پر بھی اثر پڑا ہے۔ مختلف رپورٹوں کے مطابق، کئی میٹرو اسٹیشنوں پر داخلے اور اخراج پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جبکہ طویل فاصلے کی بعض ٹرینیں منسوخ یا ان کے اوقات میں تبدیلی کی گئی ہے۔ جنپتھ اور کرتویہ پتھ کے چوراہے کے اطراف چار کلومیٹر کے علاقے میں موبائل انٹرنیٹ خدمات بھی عارضی طور پر معطل کی گئی ہیں۔ مسافروں کو سفر سے قبل تازہ ترین ٹریفک اور ٹرانسپورٹ معلومات حاصل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیوں؟

سی جے پی اور اس سے وابستہ تنظیمیں ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرِ ثانی کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں پر سوال اٹھا رہی ہیں۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ اس عمل سے حقیقی ووٹروں کے نام فہرستوں سے خارج ہونے اور ان کے حقِ رائے دہی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ وہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ایس آئی آر کے عمل کو روکنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے اس عمل سے متعلق سوالات اور تجاویز کو معمول کی انتظامی کارروائی کا حصہ قرار دیا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کی حمایت

سی جے پی کے احتجاج کو بائیں بازو کی جماعتوں اور عام آدمی پارٹی سمیت بعض اپوزیشن گروپوں کی حمایت حاصل ہے۔ مظاہرین اسے انتخابی شفافیت اور ووٹروں کے حقوق کا معاملہ قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب، پولیس کی جانب سے اجازت نہ دیے جانے اور بڑے پیمانے پر سیکوریٹی انتظامات کے باعث احتجاج کے انعقاد اور شرکا کی نقل و حرکت پر غیر یقینی صورتِ حال برقرار ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK