• Thu, 01 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کرشنا جنم بھومی تنازع: مقدمے کے بار بار التواء ہونے سے سپریم کورٹ پریشان

Updated: October 01, 2026, 9:15 AM IST | New Delhi

سپریم کورٹ نے کرشنا جنم بھومی شاہی عیدگاہ مسجد تنازع سے متعلق درخواست کی سماعت وقت کی کمی کے باعث ۶؍ نومبر تک ملتوی کردی۔ عدالت نے بار بار التوا پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ ایک کے بعد دوسری تاریخ پر ملتوی ہوتا جا رہا ہے۔

Supreme Court of India. Photo: INN
سپریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این

سپریم کورٹ نے کرشنا جنم بھومی شاہی عیدگاہ مسجد تنازع سے متعلق ایک معاملے کی سماعت کے دوران بار بار تاریخیں آگے بڑھائے جانے اور التواء پر تبصرہ کرتے ہوئے بدھ کو کہا کہ ’’یہ معاملہ اس لحاظ سے منحوس لگتا ہے جو ایک کے بعد دوسری تاریخ پر ملتوی ہی ہوتا جا رہا ہے۔‘‘ بنچ نے یہ تبصرہ اس وقت کیا جب اسے بتایا گیا کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے سامنے مرکزی مدعی بننے کے حوالے سے مدعی فریقین کے درمیان کوئی اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا ہے۔ جسٹس سنجے کمار اور جسٹس سنجیو سچدیوا پر مشتمل بنچ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے اس حکم کے خلاف دائر ایک درخواست پر سماعت کر رہی تھی جس میں ایک ہندو فریق کو بھگوان شری کرشنا کے تمام عقیدت مندوں کا نمائندہ مقرر کیا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ اب اسے تمام فریقین کو سننا پڑے گا۔عدالت کو آگاہ کیا گیا تھا کہ ہائی کورٹ کے سامنے موجود مدعی فریقین کسی مشترکہ نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہے ہیں، جبکہ اس سے پہلے ہندو فریقین نے اپنے ہی گروہ کے درمیان پیدا ہونے والے اس اختلاف کو آپسی تصفیے سے حل کرنے کے امکان کا اشارہ دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اب وہ تمام فریقین کو کیس کے میرٹ کی بنیاد پر سنے گی۔ تاہم، وقت کی کمی کی وجہ سے عدالت نے اس درخواست کی سماعت ۶؍ نومبر تک کیلئے ملتوی کر دی۔

یہ بھی پڑھئے: دو الیکشن کمشنروں کی ’غیر قانونی‘ قرار دی گئی فارم ۶؍ کی تبدیلی ختم

عمارت کو لے کر تنازع اس وقت شروع ہوا تھا جب ہندو فریق نے سول کورٹ میں ایک دعویٰ دائر کرتے ہوئے یہ الزام لگایا تھا کہ شاہی عیدگاہ مسجد اصل میں کرشنا جنم بھومی کی زمین پر بنائی گئی ہے۔ یہ سول مقدمہ بھگوان شری کرشنا براجمان اور کچھ ہندو عقیدت مندوں کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جس میں مسجد کو اس کی موجودہ جگہ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔مدعیان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ایسے کئی شواہد اور نشانات موجود ہیں جو اس نظریے کی حمایت کرتے ہیں کہ شاہی عیدگاہ مسجد دراصل ایک ہندو مندر ہے۔ اسی بنیاد پراس جگہ کا تفصیلی معائنہ کرنے کیلئےہائی کورٹ کے سامنے ایک کمشنر مقرر کرنے کی درخواست بھی کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: دہلی فسادات: عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں پھر مسترد

اس بنیادی سول مقدمے کو ابتدائی طور پر ستمبر ۲۰۲۰ءمیں ایک سول کورٹ نے پلیسیز آف ورشپ ایکٹ ۱۹۹۱ء (عبادت گاہوں کے تحفظ کا قانون) کے تحت مقدمہ قبول کرنے پر عائد پابندی کا حوالہ دیتے ہوئے خارج کر دیا تھا۔ تاہم، متھرا ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپیل کے بعد اس فیصلے کو منسوخ کر دیا گیا۔ متھرا ڈسٹرکٹ کورٹ نے مئی ۲۰۲۰ء میں یہ فیصلہ سنایا کہ یہ مقدمہ قانوناً سماعت کے قابل ہے۔ بعد میں ۲۰۲۳ء میں اس پورے معاملے کو الٰہ آباد ہائی کورٹ منتقل کر دیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK