جمعرات کی دوپہر صدام وزیر علی کی لاش برآمد ہوئی۔ بی ایم سی کا ۱۶۰؍ وارننگ نوٹس جاری کرنے کا دعویٰ۔نوٹس ملنے کے باوجود مکان خالی نہیں کئے گئے۔
EPAPER
Updated: August 14, 2026, 10:36 AM IST | Shahab Ansari | Ghatkopar
جمعرات کی دوپہر صدام وزیر علی کی لاش برآمد ہوئی۔ بی ایم سی کا ۱۶۰؍ وارننگ نوٹس جاری کرنے کا دعویٰ۔نوٹس ملنے کے باوجود مکان خالی نہیں کئے گئے۔
یہاں منگل اور بدھ کی درمیانی شب چٹان کھسکنے کے واقعہ کے بعد بدھ کو سورج ڈوبنے کے بعد کھاڑی نمبر ۳؍ میں راحت کاری بند کردی گئی تھی اور جمعرات کو صبح ملبہ ہٹانے کا کام دوبارہ شروع کیا گیا جس میں ۲۸؍ سالہ صدام وزیر علی خان کی لاش برآمد ہوئی جس کے ساتھ اس حادثہ میں متوفیوں کی تعداد ۸؍ ہوگئی ہے۔ اس دوران بی ایم سی نے دعویٰ کیا ہے کہ یہاں کے مکینوں کو لینڈسلائیڈنگ کے خدشہ کے پیش نظر مختلف اوقات میں ۱۶۰؍ نوٹس جاری کئے گئے تھے۔
صدام وزیرعلی خان
جمعرات کو دوپہر کے وقت صدام خان ملبے کے نیچے دبا ہوا پایا گیا جس کے بعد اسے راجا واڑی اسپتال لے جایا گیا جہاں اسسٹنٹ میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ہنومنت نے داخلے سے قبل ہی اسے مردہ قرار دے دیا۔ پوسٹ مارٹم کے بعد لاش اس کے اہلِ خانہ کے حوالے کردی جائے گی۔ مقامی افراد کے مطابق صدام خان ہی تنہا لاپتہ تھا اور اسی کے ملبے میں دبے ہونے کا خدشہ تھا۔ ’این ڈی آر ایف (نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس)‘ کے مطابق صدام کی لاش ملنے کے بعد بی ایم سی سے مشورہ کے بعد جمعرات کی دوپہر راحت کاری بند کردی گئی ہے۔ البتہ فائر بریگیڈ اور بی ایم سی کے عملہ کے ذریعہ ملبہ ہٹانے کی کارروائی جاری تھی۔ یاد رہے کہ اشوک نگر میں واقع غوثیہ چال پر بڑی چٹان اور مٹی کے تودے گرنے سے تقریباً ۶؍ مکان زد میں آگئے تھے جس کی وجہ سے اس کے نیچے دبنے سے ۸؍ افراد کی موت ہوگئی جبکہ دیگر ۷؍ زخمی ہوگئے۔
’’۱۶۰؍ نوٹس بھیجے گئے تھے‘‘
بی ایم سی کے مطابق ’ایل وارڈ‘ میں مانسون میں چٹان کھسکنے کے خدشہ کے پیش نظر ۵۰۰؍ نوٹس دیئے گئے تھے جن میں سے ۱۶۰؍ نوٹس کھاڑی نمبر ۳؍ میں بھیجے گئے تھے جہاں یہ حادثہ پیش آیا ہے۔البتہ مختلف وجوہات کی بنا ءپر نوٹس ملنے کے باوجود لوگ محفوظ مقام پر منتقل نہیں ہوتے۔
اس حادثہ میں زخمی ہونے والی فرحانہ کے شوہر دل بہار امان اللہ خان مزدوری کرتے ہیں اور کچرا وغیرہ اٹھا کر ٹرکوں میں بھرتے ہیں۔ دل بہار کے والدین کا کافی عرصہ قبل ہی انتقال ہوگیا تھا اور ان کی بیوی اور بچے ان کے گائوں یوپی میں ان کی ساس کے ساتھ رہتے تھے لیکن ساس کے انتقال کے بعد محض ایک مہینہ قبل ہی وہ اپنے بیوی بچوں کو ممبئی لے آئے تھے اور یہ حادثہ پیش آگیا۔
’’کھاناکھانے کیلئے بھی انتظام نہیں کرپارہے ہیں‘‘
جمعرات کو انقلاب سے گفتگو کرتے ہوئے دل بہار نے بتایا کہ اس حادثہ کی وجہ سے وہ بے گھر ہوگئے ہیں۔ وہ مزدوری کرکے یومیہ ۴۰۰؍ سے ۵۰۰؍ روپے کماتے تھے اس لئے اب کھانا کھانے کیلئے بھی انتظام نہیں کر پارہے ہیں۔ ان کی اہلیہ گھاٹ کوپر کے راجا واڑی اسپتال میں زیر علاج تھی لیکن ان کے ساڑھے ۳؍ سال اور ساڑھے ۴؍ سال کے بیٹوں کا ماں کے بغیر رو رو کر برا حال تھا جس کی وجہ سے انہوں نے ڈاکٹروں سے درخواست کرکے اسپتال سے چھٹی لے لی۔
دل بہار کے مطابق بدھ کی شام ان سے کسی نے فون پر رابطہ قائم کرکے ان کے بینک کی تفصیلات حاصل کی تھیں تاکہ معاوضہ کی رقم انہیں ادا کی جاسکے۔
واضح رہے کہ ممبئی کی میئر ریتو تائوڑے نے اس حادثہ میں ہلاک ہونے والوں کے پسماندگان کیلئے ۴؍ لاکھ روپے اور زخمی ہونے والوں کیلئے ۵۰؍ ہزار روپے معاوضہ کا اعلان کیا ہے۔
عارف اور بیوی بچوں کی آج تدفین
یوپی میں جونپور کے بدلا پور سے تعلق رکھنے والے محمد عارف نعیم شیخ (۳۰) ، ان کے بیوی اور دو بچوں کی اس حادثہ میں موت ہوگئی ہے۔ وہ حادثہ سے محض ۳؍ روز قبل اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ اس مکان میں منتقل ہوئے تھے۔ ان کے رشتہ دار محمد حسین نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم کے بعد ان چاروں کی لاشیں ماہم لے جائی گئی تھیں جہاں کیمیکل لگانے کے بعد انہیں بدھ کی شب تقریباً ساڑھے ۱۰؍ بجے ایمبولنس سے ان کے آبائی وطن لے جانے کیلئے روانہ کیا گیا۔ ایمبولنس جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب یا جمعہ کو علی الصباح وطن پہنچ سکتی ہے اور صبح ۹؍ بجے مقامی قبرستان میں ان کی تدفین کا وقت طے کیا گیا ہے۔ محمد حسین کے مطابق بدھ کو سرکاری افسران نے عارف کے پسماندگان سے فارم پُر کروا کر لیا ہے تاکہ معاوضہ کی رقم انہیں ادا کی جاسکے۔ البتہ باقی رشتہ دار ٹرین اور ہوائی جہاز سے وطن روانہ ہوگئے ہیں۔
وکیت یادو سالگرہ سے ایک دن قبل ہلاک ہوگیا
وکیت یادو
وکیت یادو عرف راہل(۳۰) کی ۱۳؍ اگست کو سالگرہ تھی لیکن اس سے محض ایک روز قبل چٹان کھسکنے کے حادثہ میں اس کی موت ہوگئی۔ اس کی والدہ چھایا یادو کے مطابق ان کا خاندان ہر سال مانسون میں کسی محفوظ مقام پر منتقل ہوجاتا ہے اور اس سال بھی وہ سب دیگر مقام پر منتقل ہوگئے تھے۔ تاہم ان کا بیٹا ’ورک فرام ہوم‘ کرتا تھا اور نئے گھر میں نیٹ ورک نہ ملنے کی وجہ سے وہ کام نہیں کرپا رہا تھا جس کی وجہ سے وہ ان کے پرانے مکان پر چلا گیا جہاں حادثہ میں اس کی موت ہوگئی۔