مقامی کارپوریٹرنے بی ایم سی ہاؤس میں اس کا مسئلہ اٹھایا تھا ۔ شہری انتظامیہ نےدعویٰ کیا ہے کہ یہ ملکیت اس کی ہے جس پر غیرقانونی قبضہ کی کوشش کی جارہی ہے۔ وائی ایم سی اے نے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
EPAPER
Updated: August 14, 2026, 11:17 AM IST | Nadeem Asran | Madanpura
مقامی کارپوریٹرنے بی ایم سی ہاؤس میں اس کا مسئلہ اٹھایا تھا ۔ شہری انتظامیہ نےدعویٰ کیا ہے کہ یہ ملکیت اس کی ہے جس پر غیرقانونی قبضہ کی کوشش کی جارہی ہے۔ وائی ایم سی اے نے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
یہاں واقع ’ جھولا میدان‘ جس کا نام اب ’عبدالرحمٰن صوفی گراؤنڈ‘ ہے، انگریزوں کے دور میں یہ ولنگڈن گراؤنڈ ہوا کرتا تھا۔ اس میدان میں واقع ایک عمارت جس میں جمنازیم اور کشتی کا اکھاڑا ہے، سیاسی اور قانونی لڑائی کا شکار ہوگئی ہے۔ بی ایم سی نے مقامی کارپوریٹر امرین ابراہانی اور ان کے شوہر شہزاد ابراہانی کی مداخلت کرنے، عمارت کے خستہ حال ہونے اور ینگ مینز کرسچن اسوسی ایشن( وائی ایم سی اے) جس کے زیر نگرانی جمنازیم اور اکھاڑا ۸۰؍ سال سے چلایا جارہا تھا، پر قبضہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اسے بند کر دیا جس کے خلاف وائی ایم سی اے نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا جس نے بی ایم سی کے فیصلے پر اسٹے لگا دیا۔
گزشتہ روز جھولامیدان میں موجود اکھاڑا اور جمنازیم کو شہری انتظامیہ نے یہ کہتے ہوئےبند کر دیا کہ یہ پراپرٹی بی ایم سی کی ہے۔ تقریباً ۸۰؍ سال سے زائد عرصہ سے موجود جمنازیم اور اکھاڑا ’ینگ مینز کرسچن اسوسی ایشن( وائی ایم سی )‘ کے زیر نگرانی چلایا جارہا تھا۔ تاہم بی ایم سی کا دعویٰ ہے کہ یہ شہری انتظامیہ کی پراپرٹی ہے جس پر غیرقانونی قبضہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بی ایم سی کے بقول مذکورہ گراؤنڈ میں موجود جمنازیم اور اکھاڑے کی عمارت کی دیکھ ریکھ نہیں کی جارہی تھی اور وہ خستہ حال ہوچکی ہے جس کی وجہ سے بی ایم سی نے اسوسی ایشن کو بےدخل کرتے ہوئے اسے بند کر دیا ۔
اس ضمن میں شہزاد ابراہانی نے بی ایم سی کے اٹھائے گئے قدم کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ’’اسوسی ایشن نے اس پر قبضہ کررکھا تھا۔ کارپوریٹر امرین شیخ نے بی ایم سی ہاؤس اور پربھاگ سمیتی میں اس مسئلہ کو اٹھایا تھا۔ ‘‘ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’اب بی ایم سی کے اٹھائےگئے سخت قدم کے بعد کارپوریٹر امرین ابراہانی جلد ہی نہ صرف جمنازیم اور اکھاڑے کی خستہ حال عمارت کی کارپوریٹر فنڈ سےازسر نو تعمیر کرے گی بلکہ اکھاڑے اور جمنازیم کو جدید طرز کا بنایا جائے گا جس میں خواتین کیلئے بھی علاحدہ سیکشن رکھا جائے گا۔
بی ایم سی کی اس کارروائی کے خلاف وائی ایم سی اے نے بامبے ہائی کورٹ کی ۲؍ رکنی بنچ کے جسٹس اے ایس گڈکری اور جسٹس کمال کھاتاکے روبرو عرضداشت داخل کرتے ہوئے اس پر روک لگانے کی اپیل کی تھی۔ اسو سی ایشن کی جانب سے پیروی کرتے ہوئے وکیل جوئیل کارلوس نے کورٹ کو بتایا کے بی ایم سی نے مذکورہ جمنازیم اور اکھاڑے کی تحویل حاصل کرنے کے لئے جو نوٹس بھیجا تھا، اس کا جواب اپریل میں دیا گیاتھا لیکن دوبارہ بھیجے گئے نوٹس کے بعد صفائی پیش کرنے اور اپنا موقف رکھنے کا موقع دیئے بغیر شہری انتظامیہ نے پولیس کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے اسے بند کر دیا ۔
ہائی کورٹ نے عرضی کا جائزہ لینے کے بعد بی ایم سی کے اکھاڑے اور جمنازیم کو بند کرنے کے فیصلہ پر روک لگاتے ہوئے شہری انتظامیہ کو اس ضمن میں حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہلدوانی : کھرگے کے جلسے کے بعد رام لیلا اسٹیج کا ’’شدھی کرن ‘‘
دستاویزی ثبوت ہونے کا دعویٰ
دوران سماعت وائی ایم سی اے کے وکیل نے جمنازیم اور اکھاڑے کی ملکیت کے حقوق کے دستاویزی ثبوت ہونے کا بھی دعویٰ کیا ساتھ ہی انہوںنے کورٹ کو یہ بھی بتایا کہ مذکورہ گراؤنڈ ۱۹۲۸ء سے اس کی تحویل میں ہے جب اس کا نام ولنگڈن گراؤنڈ ہوا کرتا تھا ۔ وکیل نے عمارت کے خستہ حال ہونے کے جواب میں کہا کہ مذکورہ عمارت کاآڈٹ کرایا گیا ہے اور رپورٹ کے مطابق اس کا شمار انتہائی خستہ حال عمارتوں میں نہیں ہوتا ۔ البتہ اس کی مرمت ضروری ہے۔