ہائی کورٹ نے کرلا اور ٹرامبے میں ریلوے کی پٹریوں کے اطراف کے جھوپڑا واسیوں کو ہٹانے سے قبل غیرقانونی قبضہ کرنے والوں کی فہرست پیش کرنے اور متاثرین کی بازآباد کاری کو مد نظر رکھنے کی بھی ہدایت دی۔
EPAPER
Updated: August 14, 2026, 10:44 AM IST | Nadeem Asran | Mumbai
ہائی کورٹ نے کرلا اور ٹرامبے میں ریلوے کی پٹریوں کے اطراف کے جھوپڑا واسیوں کو ہٹانے سے قبل غیرقانونی قبضہ کرنے والوں کی فہرست پیش کرنے اور متاثرین کی بازآباد کاری کو مد نظر رکھنے کی بھی ہدایت دی۔
کرلا اور ٹرامبے ریلوے پٹریوں کے قریب ریلوے کی زمین پر موجود کچی آبادیاں اور غیر قانونی قبضہ جات کو ہٹانے کے خلاف بامبے ہائی کورٹ میں عرضداشت داخل کی گئی ہے۔ اس تعلق سے ریلوے نے ڈیولپمنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے غیر قانونی قبضہ جات اور کچی آبادیوں کو ہٹانے کا جواز پیش کیا جس پر کورٹ نے کارروائی کرنے کے ساتھ ساتھ کچی آبادیوں میں رہنے والوں کی بازآباد کاری پر غور کرنے اور متبادل جگہ فراہم کرنے کی بھی ہدایت دی۔
ہائیکورٹ کی دو رکنی بنچ کے جسٹس بھارتی ڈانگرے اور جسٹس آشیش چوان کے روبرو کرلا اور ٹرامبے ریل پٹریوں کے اطراف ریلوے کی زمینوں پر موجود کچی آبادی اورغیر قانونی قبضہ جات کو ہٹانے کے خلاف داخل کردہ عرضداشت کے ذریعہ کورٹ کو بتایا گیا کہ اس علاقے میں کئی برسوں سے لوگ آباد ہیں۔ اس زمین کو خالی کرنے کا فرمان جاری تو کر دیا گیا ہے لیکن متبادل جگہ فراہم کرنے کے تعلق سے کوئی اطلاع نہیں دی گئی ہے۔ ریلوے نے پٹریوں کی توسیع اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے تحت مذکورہ جگہ خالی کرانے کا کا نوٹس دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: چٹان کھسکنے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ۸؍ ہوگئی
دو رکنی بنچ نے عرضداشت کا جائز لینے اور ترقیاتی منصوبہ کے حوالہ سے فراہم کی گئی اطلاع کا معائنہ کرنے کے بعد کچی آبادی کو ہٹائے جانے کے جواز کو قبول کیا ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ریلوے پٹریوں کو وسیع کرنے کی فوری ضرورت کے پیش نظر سیفٹی زون میں تجاوزات ہٹانے کیلئے کارروائی کی ضرورت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ساتھ ہی برسوں سے آباد جھوپڑاواسیوں کو ہٹانے سے قبل سپریم کورٹ کے ذریعہ اس ضمن میں دیئے گئے احکامات پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ کورٹ نے اس ضمن میں غیر قانونی قبضہ جات کی فہرست کورٹ کے روبرو پیش کرنے کے ساتھ ہی کچی آبادی میں رہنے والوں کے خلاف کارروائی سے قبل ان کی متبادل رہائش کے تعلق سے بھی فیصلہ کرنے پر زور دیا۔
کورٹ نے اس ضمن میں ضلع کلکٹر کو فریق بنانے اور اس کی تفصیلات کلکٹر کو بھیجنے کا حکم دیا ہے اور سماعت کو ۲۰؍ اگست تک کیلئے ملتوی کر دیا۔