سی ٹی اسکین کیلئے اپریل کا اپائنمنٹ دیا جارہا ہے۔مریض کیس پیپر نکالنے کیلئے علی الصباح ۶؍بجے قطار لگانےپر مجبورہیں۔ اسپتال کے۱۰۰؍ سال مکمل ہونے پر گزشتہ دنوں شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا۔
کے ای ایم اسپتال میں بڑی تعداد میں لوگ علاج کیلئےآتے ہیں۔ تصویر: آئی این این
یہاں واقع کے ای ایم اسپتال میں ایک طرف سال بھر سے وقتاًفوقتاً صدسالہ تقریبات کا انعقاد کیا جا رہاہے۔جمعرات ۲۲؍ جنوری کو اسپتال کے قیام کو ۱۰۰؍سال مکمل ہونےپربھی ایک شاندار تقریب منعقدکی گئی جس میں نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور دیگر کئی وزراء نے شرکت کی تھی۔ دوسری جانب اسپتال میںایم آرآئی اور سٹی اسکین مشینوںکی کمی سے مریضوںکو اپریل کا اپائنمنٹ دیا جا رہاہے۔ بنیادی طبی سہولیات کے فقدان سے مریض پریشان ہیں ۔کیس پیپر نکالنے کیلئے انہیں علی الصباح ۶؍بجے قطار لگانےپر مجبورہونا پڑرہا ہے۔
کے ای ایم میونسپل اسپتال کو ۱۰۰؍ سال مکمل ہوچکے ہیں ، اس کےباوجود آج بھی یہاں سی ٹی ا سکین اور ایم آر آئی کیلئے آنے والے مریضوں کو ۳؍مہینے تک انتظار کرنا پڑرہا ہے۔ اس اسپتال میں ممبئی اور آس پاس کے علاقوں سے بڑی تعداد میں مریض علاج کیلئے آتے ہیںلیکن طبی سہولیات کی کمی سے غریب مریضوںکو بڑی پریشانی ہورہی ہے۔سی ٹی اسکین اورایم آرآئی مشینیں کم ہونے سے ان محکموں میں کوئی مریض دکھائی نہیں دیتا ہےکیونکہ یہاں آنے والے مریضوں کو سی ٹی اسکین اور ایم آرآئی باہر سے کروانےکیلئے کہا جارہا ہے۔کئی مریضوں نے بتایاکہ اسپتال انتظامیہ آنے والے مریضوں کو ۱۵؍اپریل کے بعد کی تاریخ دے رہا ہے۔سی ٹی اسکین اور ایم آرآئی کی نئی مشینیں حاصل کرنے کی کارروائی جاری ہے۔
محکمہ صحت کے ڈپٹی کمشنر شرد اُگاڈے کےمطابق’’ مشینیں آنے کے بعد مریضوں کو کہیں اور نہیں جانا پڑے گا۔ فی الحال کے ای ایم اسپتال میں ایک ایم آر آئی مشین ہےجبکہ ایم آرآئی کرانےوالے مریضوں کی تعدادکافی زیادہ ہونے کی وجہ سے ٹیسٹ کیلئے انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔اس کےعلاوہ کیس پیپر کیلئےمریضوں یا ان کےلواحقین کو صبح ۶؍بجے قطار میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ کیس پیپر حاصل کرنےمیں کم از کم ۱۵؍ منٹ لگتے ہیں۔ اگرچہ یہ عمل کمپیوٹرائزڈ ہے،اس کےباوجودمریضوںکی بھیڑہونے سےکیس پیپر حاصل کرنےمیں بڑی دقت ہوتی ہے۔ دور دراز علاقوں سے آنے والوں کو صبح اپنے اہل خانہ کے ساتھ آنا پڑتا ہے اور قطار میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔
کے ای ایم اسپتال کی ڈین ڈاکٹرسنگیتا رائوت کےمطابق ’’ اسپتال میں ۲؍ہزار بستر ہیں لیکن روزانہ ۶؍ہزارمریض علاج کیلئے آتے ہیں۔ ان سب کو بستر فراہم کرنا ممکن نہیں ہے، علاوہ ازیں ایک ایم آر آئی مشین ہونے کی وجہ سے اسپتال پر بہت زیادہ دبائو ہے۔دوسری مشین حاصل کرنے کا عمل جاری ہے ۔ یہ مشین اگلے چار ماہ میں مل جائے گی جس کے بعد موجودہ صورتحال یکسر تبدیل ہو جائے گی۔ فی الحال ہم نے ۴؍ مراکز سےمعاہدہ کیاہے ،وہاں میونسپل کارپوریشن کی شرح پر جانچ کی جارہی ہے۔‘‘