• Sat, 24 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانیہ: ۱۶؍ سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی تیاری

Updated: January 24, 2026, 1:10 PM IST | Agency | London

آسٹریلیا اس طرح کی پابندی عائد کر چکا ہے جبکہ ڈنمارک میں ۱۵؍ سال سے کم عمر بچوں پر پابندی زیر غور ہے۔

74 percent of Britons support the ban. Picture: INN
برطانیہ کے۷۴؍ فیصد افراد اس پابندی کے حامی ہیں۔ تصویر: آئی این این
آسٹریلیا اور ڈنمارک  کے بعد اب برطانیہ میں بھی۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں کے لئے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
واضح رہےکہ آسٹر یلیا میں ۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہےجبکہ ڈنمارک میں ۱۵؍ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی زیر غور ہے۔دیگر ممالک بھی ا س طرح کی پابندیاں عائد کرنے پر غور کررہے ہیںجن میں فرانس بھی شامل ہے۔ گزشتہ دنوں برطانیہ میں آسٹریلیا کے طرز پر ۱۶؍ سے سال کم بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگانے کا بل پیش کیا گیا۔ اپوزیشن جماعت کے پیش کردہ اس بل کو ہاؤس آف لارڈز کی حمایت حاصل ہو گئی ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا نے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے سے روکنے کے حق میں ووٹ دیا ہے جس کے بعد حکومت پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ آسٹریلیا میں نافذ کردہ قانون کو اپنائے۔ کنزرویٹیو پارٹی کے رکن جان نیش کی پیش کردہ ترمیم بدھ کو ایوانِ بالا میں منظور کر لی گئی جس کے حق میں بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے گئے۔ برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے پیر کو کہا تھا کہ وہ کسی بھی آپشن کو رد نہیں کر رہے ہیں اور انہوں نے بچوں کے تحفظ کے لئے اقدامات کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن ان کی حکومت قانون سازی سے پہلے موسمِ گرما میں متوقع مشاورت کے نتائج کا انتظار کرنا چاہتی ہے۔ 
برسراقتدار جماعت اور اپوزیشن دونوں میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ برطانیہ بھی آسٹریلیا کی پیروی کرے جہاں۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں کو گزشتہ دسمبر سے سوشل میڈیا ایپس کے استعمال سے روک دیا گیا ہے۔ 
مشہور شخصیات جن میں ایک معروف اداکار بھی شامل ہیں، نے حکومت سے اس تجویز کی حمایت کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ والدین اکیلے سوشل میڈیا کے نقصانات کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ بچوں کے تحفظ سے وابستہ کچھ تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ ایسی پابندی عوام کو تحفظ کا غلط احساس دے سکتی ہے۔ دسمبر میں کئے گئے ایک عوامی سروے کے مطابق برطانیہ کے۷۴؍ فیصد افراد اس پابندی کے حامی ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK