Inquilab Logo Happiest Places to Work

ابوظہبی: کویتی فائٹر کا اسرائیلی فائٹر سے ہاتھ ملانے سے انکار، پوڈیم چھوڑ دیا

Updated: May 18, 2026, 10:00 PM IST | Abu dhabi

متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت میں جاری Abu Dhabi Grand Slam Jiu-Jitsu Tour میں اس وقت تنازع کھڑا ہو گیا جب ایک اسرائیلی کھلاڑی کے ساتھ تمغہ تقریب میں شریک ہونے سے کویتی ایتھلیٹ نے انکار کر دیا۔ اسرائیلی مدمقابل یووال منور نے انڈر ۷۷؍ کلوگرام کیٹیگری میں کانسہ جیتا جبکہ کویت کے جاسم الحاتم نے گولڈ میڈل حاصل کیا۔ اسرائیلی وفد کے مطابق الحاتم نے ہاتھ ملانے اور روایتی پوڈیم تصویر سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’’تم اسرائیلی، بچوں کو مارتے ہو۔‘‘

Photo : X
تسویر : ایکس

یو اے ای میں جاری Abu Dhabi Grand Slam Jiu-Jitsu Tour کے دوران ایک میڈل تقریب اس وقت سیاسی تنازع میں بدل گئی جب ایک کویتی ایتھلیٹ نے اسرائیلی کھلاڑی کے ساتھ پوڈیم شیئر کرنے اور روایتی اسپورٹس مین شپ تقریب میں حصہ لینے سے انکار کر دیا۔ متحدہ عرب امارات میں منعقد ہونے والے اس بین الاقوامی جیو جِتسو ایونٹ میں یووال منور نے انڈر ۷۷؍ کلوگرام کیٹیگری میں چار میں سے تین مقابلے جیت کر کانسہ حاصل کیا۔ گولڈ میڈل کویت کے جاسم الحاتم نے جیتا۔ تنازع اس وقت سامنے آیا جب میڈل تقریب کے دوران الحاتم نے مبینہ طور پر منور سے ہاتھ ملانے اور مشترکہ پوڈیم تصویر بنوانے سے انکار کر دیا۔ اسرائیلی وفد کے مطابق، کویتی ایتھلیٹ نے کہا کہ ’’تم اسرائیلی، بچوں کو مارتے ہو۔‘‘

یہ بھی پڑھئے : لندن: فلسطین کی حمایت میں ہزاروں شہری سڑکوں پر اترے

وفد نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ الحاتم نے کہا اگر وہ فائنل میں اسرائیلی مدمقابل کے سامنے آتے تو وہ مقابلہ ہی نہ کرتے۔ رپورٹس کے مطابق، اماراتی منتظمین نے صورتحال کو سنبھالنے اور تقریب کی روایتی شکل برقرار رکھنے کی کوشش کی، لیکن الحاتم پوڈیم ایریا چھوڑ کر چلے گئے۔ بعد ازاں تقریب ان کی غیر موجودگی میں مکمل کی گئی۔ اس واقعے نے سوشل میڈیا پر فوری ردعمل کو جنم دیا، جہاں ایک طرف بعض صارفین نے کویتی کھلاڑی کے اقدام کو ’’فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی‘‘ قرار دیا، وہیں دوسروں نے اسے کھیلوں کے آداب اور بین الاقوامی اسپورٹس مین شپ کے خلاف رویہ کہا۔
عرب دنیا میں کئی صارفین نے غزہ میں جاری جنگ اور فلسطینی ہلاکتوں کا حوالہ دیتے ہوئے الحاتم کی حمایت کی۔ کچھ پوسٹس میں لکھا گیا کہ ’’عام عرب کھلاڑی اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات قبول نہیں کرتے‘‘، جبکہ ناقدین نے کہا کہ کھیل کو سیاسی تنازعات سے الگ رہنا چاہیے۔ یہ پہلا موقع نہیں جب عرب یا مسلم اکثریتی ممالک کے کھلاڑی اسرائیلی مدمقابلوں کے ساتھ کھیلنے یا پوڈیم شیئر کرنے سے انکار کرتے دکھائی دیے ہوں۔ ماضی میں اولمپکس، جوڈو، کشتی اور دیگر مقابلوں میں بھی اس نوعیت کے واقعات سامنے آ چکے ہیں، خاص طور پر غزہ اور فلسطین سے متعلق کشیدگی کے دوران۔ اسرائیلی وفد نے یووال منور کے رویے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ’’کشیدگی کے باوجود مکمل پیشہ ورانہ انداز برقرار رکھا اور صرف کھیل پر توجہ دی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے : فلسطین کا مسجدِ اقصیٰ کے قریب املاک پر قبضے کے اسرائیلی منصوبے کی مذمت

دوسری جانب، اس واقعے نے ایک بار پھر اس سوال کو زندہ کر دیا ہے کہ آیا بین الاقوامی کھیل واقعی سیاست سے الگ رہ سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب غزہ جنگ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں پر عالمی سطح پر شدید تقسیم موجود ہے۔ متحدہ عرب امارات، جس نے ۲۰۲۰ء میں ابراہیمی معاہدے کے تحت اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے، حالیہ برسوں میں کئی مشترکہ اسپورٹس اور ثقافتی تقریبات کی میزبانی کر چکا ہے۔ تاہم، خطے میں عوامی سطح پر اسرائیل مخالف جذبات اب بھی نمایاں ہیں، خاص طور پر فلسطینی مسئلے کے تناظر میں۔ ابوظہبی کے اس واقعے نے اسی تضاد کو نمایاں کیا ہے — ایک طرف سرکاری سطح پر سفارتی تعلقات اور کھیلوں میں شمولیت، اور دوسری طرف فلسطین کے معاملے پر شدید عوامی حساسیت۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK