Updated: May 18, 2026, 8:04 PM IST
| the hague
وزارت خارجہ نے اقلیتوں کے حقوق اور میڈیا کی آزادی سے متعلق ڈچ خدشات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے ہندوستان کے مذہبی، لسانی اور ثقافتی تنوع کو اجاگر کیا ہے۔ وزارت خارجہ میں سیکریٹری (مغرب) صوبی جارج نے کہا کہ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے جہاں ہر شہری کو اظہارِ رائے اور پریس کی آزادی حاصل ہے۔
وزارت خاجہ نے اقلیتوں کے حقوق اور میڈیا کی آزادی سے متعلق ڈچ خدشات کو سخت الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان کا جمہوری، مذہبی اور ثقافتی تنوع دنیا کے سامنے ایک واضح حقیقت ہے۔ یہ ردعمل وزارت خارجہ میں سیکریٹری (مغرب) صوبی جارج کی جانب سے اس وقت سامنے آیا جب ڈچ میڈیا نے نیدرلینڈز کے وزیر اعظم روب جیٹن سے منسوب ایک بیان کا حوالہ دیا، جس میں مبینہ طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے کے دوران میڈیا آزادی اور اقلیتوں کے حقوق پر خدشات کا اظہار کیا گیا تھا۔ دی ہیگ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبی نے کہا کہ اس قسم کے سوالات اکثر ہندوستان کے بارے میں کم فہمی کے باعث اٹھائے جاتے ہیں۔ انہوں نے ہندوستان کے مذہبی، لسانی اور ثقافتی تنوع کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے کئی بڑے مذاہب نے ہندوستان میں پناہ پائی اور یہاں ترقی کی۔
یہ بھی پڑھئے : نیدرلینڈ میں وزیر اعظم کا پرتپاک استقبال
انہوں نے کہا کہ یہودیت دو ہزار پانچ سو برس سے زائد عرصے تک ہندوستان میں موجود رہی اور یہ دنیا کے چند ممالک میں شامل ہے جہاں یہودی برادری کو کبھی ظلم و ستم کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اسی طرح عیسائیت حضرت عیسیٰؑ کے بعد بہت جلد ہندوستان پہنچی اور اسلام بھی تاریخی طور پر بہت پہلے یہاں آیا اور پھلا پھولا۔ صوبی نے کہا کہ ہندوستان ہمیشہ ان لوگوں کے لیے پناہ گاہ رہا ہے جو دنیا کے مختلف حصوں میں ظلم و ستم کا شکار ہوئے۔ ان کے مطابق یہی ہندوستان کی بنیادی تہذیبی روح ہے۔ انہوں نے ملک میں اظہارِ رائے کی آزادی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں تقریباً ۹۰۰؍ ملین اسمارٹ فون استعمال کیے جا رہے ہیں اور ہر شہری کو اظہارِ خیال اور پریس کی آزادی حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ہندوستان ایک شور مچانے والی جمہوریت ہے اور ہمیں اس پر فخر ہے۔ ہم نے اپنی جمہوری اقدار پر سمجھوتہ کیے بغیر اقتصادی ترقی حاصل کی ہے اور آج ہم دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت ہیں۔‘‘ صوبی جارج نے یہ بھی واضح کیا کہ انہوں نے خود وہ اصل بیان نہیں دیکھا جس کا حوالہ دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے کی اصل اہمیت دوطرفہ تعلقات کو ایک نئی اسٹریٹجک شراکت داری تک لے جانا تھی۔ دورے کے دوران کئی اہم اقتصادی اور تکنیکی معاہدے بھی طے پائے۔ ٹاٹا الیکٹرانکس نے ڈچ ٹیکنالوجی کمپنی اے ایس ایم ایل کے ساتھ گجرات کے دھولیرا میں ایک بڑے سیمی کنڈکٹر پلانٹ کی تعمیر کے لیے معاہدہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے : بلغاریہ کی گلوکارہ نےاسرائیل مخالف مظاہروں کےدرمیان یوروویژن۲۰۲۶ء کا مقابلہ جیتا
اس کے علاوہ پانی کے انتظام اور آبی وسائل سے متعلق کئی معاہدوں پر بھی دستخط ہوئے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک نے ہندوستان کی آبی ضروریات اور نیدرلینڈز کی تکنیکی مہارت کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے میں پیش رفت کا جائزہ لیا۔ مغربی ایشیا کی صورتحال پر بھی دونوں لیڈروں نے تشویش ظاہر کی۔ مشترکہ بیان میں آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کی آزادی اور عالمی تجارت کے تسلسل کی اہمیت پر زور دیا گیا جبکہ کسی بھی قسم کی پابندیوں یا رکاوٹوں کی مخالفت کی گئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس دورے نے واضح کیا ہے کہ ہندوستان اور نیدرلینڈز اقتصادی، تکنیکی اور جغرافیائی سیاسی شعبوں میں تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں، اگرچہ انسانی حقوق اور میڈیا آزادی جیسے موضوعات پر اختلافات بدستور موجود ہیں۔