سپریم کورٹ لکھیم پور کھیری تشدد معاملے میں آشش مشرا کی ضمانت کی شرائط میں نرمی سے انکار کردیا،مشرا پر الزام ہے کہ زرعی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے ۸؍ کسانوں کو اپنی گاڑی سے کچل کر ہلاک کردیا تھا۔
EPAPER
Updated: August 06, 2026, 8:05 PM IST | New Delhi
سپریم کورٹ لکھیم پور کھیری تشدد معاملے میں آشش مشرا کی ضمانت کی شرائط میں نرمی سے انکار کردیا،مشرا پر الزام ہے کہ زرعی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے ۸؍ کسانوں کو اپنی گاڑی سے کچل کر ہلاک کردیا تھا۔
بار اینڈ بینچ کی خبر کے مطابق سپریم کورٹ نے جمعرات کو۲۰۲۱ء کے لکھیم پور کھیری تشدد معاملے کے مرکزی ملزم آشش مشرا پر عائد ضمانت کی شرائط میں مزید نرمی کرنے سے انکار کر دیا۔یہ بات اس وقت سامنے آئی جب سابق مرکزی وزیر اجے مشرا ٹینی کے بیٹے اشیش مشرا کے وکیل نے بینچ کو بتایا کہ سفر پر پابندی کی ضمانتی شرائط مشرا کو خاندانی تقریبات، بشمول ان کی بیٹی کی سالگرہ کی تقریبات میں شرکت سے روکتی ہیں۔چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی میں بنچ نے مشاہدہ کیا کہ اس درخواست پر سماعت کی کوئی بنیاد نہیں ہے اور اسے خارج کر دیا۔واضح رہے کہ ۳؍اکتوبر۲۰۲۱ء کو لکھیم پور کھیری میں اس وقت تشدد پھوٹ پڑا جب مبینہ طور پر آشش مشرا کی گاڑی نے مظاہرین کے ایک گروپ کو روند دیا، جس کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔ وہ مظاہرینمرکزی حکومت کے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ اجے کمار ٹینی اس وقت مرکزی وزیر مملکت برائے امور داخلہ تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ’ملک میں جوابدہی طے کرنے کیلئے ایک عوامی تحریک کی ضرورت ہے‘
آشش مشرا کو۹؍ اکتوبر۲۰۲۱ء کو گرفتار کیا گیا تھا۔ چار ماہ بعد، الہ آباد ہائی کورٹ نے انہیں ضمانت دے دی۔ تاہم، تشدد میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ نے عدالت عظمیٰ میں اس ضمانت کے حکم کو چیلنج کیا، جس پر عدالت عظمیٰ نے اپریل۲۰۲۲ء میں مشرا کی ضمانت منسوخ کر دی۔ ہائی کورٹ کے ضمانت کے حکم کو منسوخ کرنے کے بعد، عدالت عظمیٰ نے کہا کہ ایک اور بنچ ان کی اپیل پر سماعت کرے۔بعد ازاں اس نئے بنچ نے جولائی۲۰۲۲ء میں مشرا کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی، جس کے بعد انہوں نے اس حکم کو چیلنج کرنے کے لیے ایک بار پھر سپریم کورٹ کا رخ کیا۔بالآخر جولائی۲۰۲۴ء میں، عدالت نے مشرا کو ضمانت تو دے دی، لیکن انہیں صرف دہلی یا لکھنؤ میں رہنے تک محدود رکھا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: ایوت محل میں صرف ۶؍ ماہ میں ۱۵۲؍ کسانوں کی خود کشی، کئی کسان معاوضوں سے محروم
بعد ازاں مئی۲۰۲۶ء میں ضمانت کی شرائط میں معمولی نرمی کرتے ہوئے انہیں ہر سنیچرکو شام کو لکھیم پور کھیری جانے اور اتوار کو لکھنؤ واپس آنے کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم، اب عدالت عظمیٰ نے ان شرائط میں مزید کسی بھی قسم کی نرمی سے صاف انکار کر دیا ہے۔