Updated: October 07, 2026, 10:06 PM IST
| New Delhi
اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی اے آئی انڈیکس رپورٹ کے مطابق، ہندوستان میں اے آئی کی مہارتوں کا نفوذ (skill penetration) عالمی اوسط سے تین گنا زیادہ ہے، اس کے باوجود اس کے محققین دنیا بھر میں سب سے بڑی تعداد میں ملک چھوڑ رہے ہیں۔ اس کا بنیادی سبب کمپیوٹ (compute) اور بنیادی ڈھانچے کا شدید فقدان ہے؛ جس کے باعث اگر بہترین محققین فرنٹیر ماڈلز بنانا چاہتے ہوں تو ان کے پاس ملک میں رکنے کیلئے بہت کم ترغیب بچتی ہے۔
معاشی اور تکنیکی اشاریوں کے مطابق، ہندوستان اپنے ہائی ٹیک منظر نامے میں ایک گہرے تضاد کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ ایک طرف اس کے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے میدان کے بہترین اور باصلاحیت افراد ملازمت و بہتر مواقع کی تلاش میں ملک چھوڑ رہے ہیں جسے ’’ٹیک ایکسوڈس‘‘ کا نام دیا گیا ہے؛ دوسری طرف، متوازی طور پر اس کی عالمی ترسیلاتِ زر میں زبردست اضافہ دیکھنے ملا ہے جو سالانہ ۱۴۰ ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان میں ڈیٹا سینٹرس کی تیز رفتار توسیع سے مختلف خطرات بڑھنے لگے
اگرچہ ہندوستان اے آئی ٹیلنٹ کیلئے دنیا کی سب سے بڑی نرسری بن چکا ہے، لیکن وہ اپنے انتہائی قابل محققین کو برقرار رکھنے کیلئے جدوجہد کر رہا ہے۔ اس وقت ہندوستان دنیا بھر میں اے آئی ٹیلنٹ کے سب سے زیادہ اخراج (net AI talent outflow) کا اسکور درج کر رہا ہے، جس کا مطلب ہے کہ بڑے پیمانے پر ٹیک گریجویٹس پیدا کرنے کے باوجود، وہ فرنٹیر اے آئی ماڈلز بنانے والے ذہنوں کو مسلسل غیر ملکی ماحولیاتی نظاموں کے ہاتھوں کھو رہا ہے۔ جیسے جیسے ملکی سطح پر انٹرپرائز اے آئی کی طلب بڑھ رہی ہے، ہندوستانی کمپنیاں صلاحیت کے بحران کا سامنا کر رہی ہے، جہاں اہل مقامی اے آئی پیشہ ور افراد کی کمی ۱۴ لاکھ سے تجاوز کرنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بجلی، زمین اور تیز منظوریوں کی دوڑ، ریاستیں ڈیٹا سینٹرکی سرمایہ کاری کے لیے سرگرم
اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی اے آئی انڈیکس رپورٹ کے مطابق، ہندوستان میں اے آئی کی مہارتوں کا نفوذ (skill penetration) عالمی اوسط سے تین گنا زیادہ ہے، اس کے باوجود اس کے محققین دنیا بھر میں سب سے بڑی تعداد میں ملک چھوڑ رہے ہیں۔ اس کا بنیادی سبب کمپیوٹ (compute) اور بنیادی ڈھانچے کا شدید فقدان ہے۔ ہندوستان کے اندر تحقیق و ترقی (R&D) کے قومی اخراجات جی ڈی پی کے تقریباً ۶۴ء۰ فیصد اور اپنی نچلی سطح پر ہیں، جس کے باعث اگر بہترین محققین فرنٹیر ماڈلز بنانا چاہتے ہوں تو ان کے پاس ملک میں رکنے کیلئے بہت کم ترغیب بچتی ہے۔ دولت کا ایک واضح فرق اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتا ہے، کیونکہ سلیکون ویلی، یورپ اور متحدہ عرب امارات میں انجینئرز ایسے معاوضے کے پیکیجز حاصل کرتے ہیں جن کا ہندوستانی فرمیں مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ ہندوستان کے کئی معروف بانی اب اپنے ملک کے بجائے براہِ راست امریکہ میں جنریٹو اے آئی اسٹارٹ اپس شروع کر رہے ہیں۔
ملکی سطح پر، ”کے-شکل“ (K-shaped) روزگار کی منڈی ابھری ہے: آٹومیشن آئی ٹی اور مالیاتی خدمات میں روایتی کرداروں کو ختم کر رہی ہے، لیکن مجموعی ٹیک بھرتیوں میں ۳ فیصد کمی کے باوجود خصوصی سینئر اے آئی آسامیوں میں ۱۶ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ کریئر کے ابتدائی مراحل میں موجود تقریباً ۹۰ فیصد پیشہ ور افراد اے آئی ٹولز کا استعمال کرتے ہیں، لیکن صرف ۲۳ فیصد کے پاس آزادانہ طور پر پیچیدہ اے آئی سسٹمز تیار کرنے کیلئے گہری تکنیکی مہارت موجود ہے۔
یہ بھی پڑھئے: وہائٹ ہاؤس کی اے آئی کے خطرات، مواقع کے جائزے کیلئے ٹاسک فورس کی تشکیل: رپورٹ
ہندوستان کیلئے ۱۴۰ ارب ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر ایک اہم معاشی استحکام کار کے طور پر کام کر رہی ہیں، جو ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو سہارا دیتی ہیں۔ علیحدہ طور پر، مغربی ممالک میں ملازمین کی برطرفیوں اور ایچ-1 بی ویزا کی غیریقینی صورتحال کے باعث حال ہی میں اندازاً ۲ لاکھ سے زائد ٹیک ورکرز ہندوستان واپس آئے ہیں، اگرچہ ان میں سے بیشتر ڈیپ ٹیک ریسرچ کے عہدوں کے بجائے انتظامی (managerial) کردار سنبھال رہے ہیں۔ صنعتی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ حکومت کے ۲۵ء۱ ارب ڈالر کے ’انڈیا اے آئی مشن‘ سمیت ملکی تحقیقی ڈھانچے کو جارحانہ انداز میں وسعت دیئے بغیر، ہندوستان فرنٹیر اے آئی اختراع کا ذریعہ بننے کے بجائے محض ڈیٹا اینوٹیشن (data annotation) کا مرکز بن کر رہ جانے کے خطرے سے دوچار ہے۔