• Fri, 30 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جلگاؤں: کن گاؤں معاملےمیں سیاسی مداخلت کیخلا ف آواز بلند، کلکٹر سے کارروائی کا مطالبہ

Updated: October 30, 2026, 4:09 PM IST | Sharjeel Qureshi | Jalgaon

ایکتاسنگٹھن نے کریٹ سومیا کے کن گاؤں دورے پر دئیے گئے اشتعال انگیز بیانات کی تحقیقات کا مطالبہ۔ مختلف وفود نے کلکٹر سے ملاقات کی۔

A delegation from the organization, led by Abdul Karim Salar, submitting a memorandum of demands to the District Collector. Photo: INN
ایکتاسنگھٹن کاوفد عبدالکریم سالار کی قیادت میں ضلع کلکٹر کو مطالباتی مکتوب دیتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

بیاول کے کن گاؤں میں پیش آنیوالے واقعے کو ۵؍ دن گزرنے کے بعد بھی معاملہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ سیاسی مداخلت اور پولیس کارروائی کے خلاف مختلف وفود نے ضلع کلکٹر روہن گھوگھے اور ضلع ایس پی سے ملاقات کرکے الگ الگ مطالباتی مکتوب پیش کیے۔ ایکتا سنگٹھن نے مطالبہ کیا کہ کن گاؤں میں دفعہ ۳۷؍نافذ ہونے کے باوجود بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا کے دورے، نعرے بازی اور اشتعال انگیز بیانات کی تحقیقات کرکے کارروائی کی جائے۔

وفد نے کہا کہ اگر دفعہ ۳۷؍کے تحت جاری پابندیوں کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو مہاراشٹر پولیس ایکٹ کی دفعہ ۱۳۵؍کے تحت کارروائی کی جائے۔ اسی طرح مذہبی برادریوں کے درمیان نفرت پھیلانے والے بیانات ثابت ہونے پر بی این ایس کی دفعہ ۱۹۶؍سمیت متعلقہ دفعات کے تحت کیس درج کیا جائے۔مکتوب میں کہا گیا کہ قانون کا نفاذ عام شہریوں اور سیاسی طور پر بااثر افراد پر یکساں ہونا چاہیے۔ شکایت کسی مذہب کے خلاف نہیں بلکہ قانون کے یکساں اطلاق کے اصول کیلئے ہے۔ انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ واضح کرے کہ کیا قانون واقعی سب کیلئے برابر ہے۔

یہ بھی پڑھئے:کسانوں کی خودکشی کے معاملے پر شندے سینا کے رکن اسمبلی کا متنازع بیان

 جان لیوا حملے کی دفعات ہٹانے کا مطالبہ

کن گاؤں معاملے میں سابق ڈپٹی میئر ڈاکٹر عبدالکریم سالار نے سماجی تنظیموں کے کارکنان کے ہمراہ ضلع کلکٹر روہن گھوگھے اور ضلع ایس پی شری کانت دھیوارے سے ملاقات کرکے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کے معاملے میں درج مقدمے سے جان لیوا حملے(اقدام قتل) کی دفعات ہٹانے کا مطالبہ کیا۔عبدالکریم سالار نے کہا کہ ان کا مطالبہ نہ پتھ سنچلن کی مخالفت میں ہے اور نہ ہی اس کی حمایت میں، بلکہ کن گاؤں معاملے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے۔

مذہبی تنازع پیدا نہ کیا جائے

وہیں آل انڈیا سنت سمیتی کے قومی خزانچی اور فیض پور کے مہامنڈلیشور جناردن ہری جی مہاراج کی قیادت میں سکل ہندو سماج کے وفد نے ضلع کلکٹر کو مطالباتی مکتوب پیش کیا۔ وفد نے فساد میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی، خصوصی کمیٹی کے ذریعے تحقیقات اور سوشل میڈیا پر نفرت انگیز بیانات دینے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ہری جی مہاراج نے کہا کہ یہ معاملہ ہندو مسلم تنازع نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی مذہبی جلوس میں ڈی جے پر فلمی گانے بجا کر دوسرے مذہب کی توہین کی جاتی تو وہ اسکی مذمت کرتے۔ پولیس پرمیشن لے کر پتھ سنچلن کیا جارہا تھا تو روکنے کی کوشش نہیں ہونی چاہئے تھی ،اگر ہندو دھرم کے لوگ ڈی جے پر فلمی گانے بجاتے ہوئے اس مقام سے ریلی لیجاتے تو ہم اپنے لڑکوں کی حمایت نہیں کرتے تھے ہم اسکی مذمت کرتے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK