انسانیت کی نفع رسانی نبی اکرمؐ کا بنیادی مشن تھا۔ عید میلادالبنیؐ کی مناسبت سے اتوار کو سنی مسجد بلال عید گاہ میدان میں بچوں اور خواتین کے لئے فری ہیلتھ کئیر کیمپ کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا اور فرمان مصطفے کی روشنی میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ اسلام میں خدمتِ خلق کو بہت اہم مقام حاصل ہے۔
خدمات پیش کرنے پر ڈاکٹروں کی پزیرائی کی جارہی ہے۔ تصویر:انقلاب
انسانیت کی نفع رسانی نبی اکرمؐ کا بنیادی مشن تھا۔ عید میلادالبنیؐ کی مناسبت سے اتوار کو سنی مسجد بلال عید گاہ میدان میں بچوں اور خواتین کے لئے فری ہیلتھ کئیر کیمپ کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا اور فرمان مصطفے کی روشنی میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ اسلام میں خدمتِ خلق کو بہت اہم مقام حاصل ہے۔ اس کیمپ میں میں مختلف امراض کے ماہر ڈاکٹروں (مرد وخواتین) کی ٹیم موجود تھی۔ ان میں چائلڈ اسپیشلسٹ، امراض نسواں کی ماہر خواتین ڈاکٹرس نے اپنی خدمات انجام دیں۔
ڈاکٹروں کی ٹیم میں ڈاکٹر محتشم سولکر، چائلڈ اسپیشلسٹ زرین زہرا، ڈاکٹر عارفین جنرل فزیشین، ڈاکٹر مدیحہ گائیناکولوجسٹ، ڈاکٹر انم سید گائیناکولوجسٹ، ڈاکٹر سنیتا جنرل فزیشین اور ڈاکٹر علی اصغر آرتھو پیڈک نے اپنی خدمات پیش کیں۔ کیمپ سے چھوٹا سونا پور اور اطراف کی خواتین، بچوں اور والدین نے بڑی تعداد میں استفادہ کیا۔ علاقے کے لوگوں اور نوجوانوں نے اس کی ستائش کی۔ اتوار کی صبح۱۰؍ بجے سے دوپہر ایک بجے تک یہ سلسلہ جاری رہا اور۲۰۰؍ سے زائد مریضوں نے فائدہ اٹھایا۔
یہ بھی پڑھئے: وزیراعظم ٹیلی پرامپٹر کے بغیرپورا وندے ماتر گاکر دکھائیں : سنجے راؤت
اس میڈیکل کیمپ کے تعلق سے مولانا سید معین الدین اشرف عرف معین میاں نے کہا کہ یہ بہت بڑی خدمت ہے اور آقائے کریمؐ نے ہمیشہ انسانیت کی نفع رسانی کی فکر فرمائی اور آپؐ نے فرمایا کہ تم میں بہتر وہ ہے جو انسانوں کو نفع پہنچائے۔ اسی فرمان مصطفے پر عمل کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ کسی درجے میں عید میلاد النبیؐ کی مناسبت سے غریب مریضوں کا علاج ہوسکے۔
میڈیکل کیمپ میں خواتین کے استفادہ کرنے پر معین میاں نے کہا کہ خدمتِ خلق ایک عظیم انسانی اور اسلامی تعلیمات کا حصہ اور رضائے الٰہی کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف اپنی ذات کے فائدے کے لئے نہیں، دوسروں کے کام آنے اور ان کی مدد کرنے کے لئے بھی پیدا فرمایا اور اس کا حکم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مہاراشٹر سرکار بھی حرکت میں آئی، تعلیمی نظام کو بہتر کرنے کیلئے ’’مشن موڈ‘‘ میں کام
انہوں نے یہ بھی کہا کہ خدمتِ خلق سے معاشرے میں محبت، اخوت اور ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔ اگر ہر شخص اپنے آس پاس موجود ضرورت مندوں کا خیال رکھے تو معاشرے سے بہت سی پریشانیاں کم ہو سکتی ہیں۔ جو شخص ضرورت مند، غریب، بیمار، یتیم، مسکین اور پریشان حال انسانوں کی مدد کرتا ہے، وہ حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ قرآنِ کریم میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ خدمتِ خلق صرف مالی مدد کا نام نہیں کسی بھوکے کو کھانا کھلانا، پیاسے کو پانی پلانا، بیمار کی عیادت کرنا، ضرورت مند کا علاج کرانا، یتیم کے سر پر شفقت کا ہاتھ پھیرنا، کسی کی پریشانی دور کرنا، یہ سب خدمتِ خلق کے مدارج ہیں۔ آج ہمارے معاشرے میں ایسے بے شمار لوگ موجود ہیں جو ہماری توجہ اور مدد کے مستحق ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ اپنی استطاعت کے مطابق ان کی مدد کریں اور اپنے بچوں کو بھی خدمتِ خلق کی ترغیب دیں۔ یاد رکھنا چاہئے کہ دوسروں کے کام آنا بہت بڑی سعادت ہے۔ حضور اکرمؐ نے ہمیں صرف عبادات ہی کی تعلیم نہیں دی بلکہ مخلوقِ خدا کے ساتھ حسنِ سلوک اور ہمدردی کا درس بھی دیا۔ آپ غریبوں، مسکینوں، یتیموں اور بیواؤں کا خاص خیال رکھتے تھے۔ اس لئے عیدمیلاد النبیؐ کے موقع پر ہمیں چاہئے کہ اپنے آقاؐ کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے رفاہی اور فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔
علاقہ کے ایم ایل اے امین پٹیل، کارپوریٹر جاوید جنیجا، جو اس کیمپ کے انعقاد میں پیش پیش تھے نے بھی کیمپ کا جائزہ لیا اور خوشی کا اظہار کیا کہ بڑی تعداد میں خواتین آئیں اور میڈیکل کیمپ سے فائدہ اٹھایا۔
اس موقع پر اسلم لاکھا، یوسف پنجابی، محمد تاج قریشی اور دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔