مودی سرکار نے ریاستوں کیلئے سخت احکامات جاری کئے،ایک بار پھر صفائی پیش کی کہ اتھنال کی تیاری کیلئے گنے کا استعمال قیمتوں میں اضافہ کی وجہ نہیں ہے۔
EPAPER
Updated: August 24, 2026, 12:53 PM IST | Agency | New Delhi
مودی سرکار نے ریاستوں کیلئے سخت احکامات جاری کئے،ایک بار پھر صفائی پیش کی کہ اتھنال کی تیاری کیلئے گنے کا استعمال قیمتوں میں اضافہ کی وجہ نہیں ہے۔
ملک میں شکر کی قیمتوں میں چند دنوں میں بے تحاشہ اضافہ کیلئے مودی حکومت نےشکر کی صنعت سے وابستہ بعض حلقوں کی قیاس آرائیوں اور ذخیرہ اندوزی کو قرار دیا ہے۔ حکومت نے ایک بار پھر تردید کی کہ اتھنال کیلئے گنے کے استعمال شکر کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ نہیں ہے۔اس کے ساتھ ہی حکومت نے ریاستوں کو چینی کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹ میں فروخت کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دی ہے۔ شکر ملوں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ کرشنگ سیزن تقریباً۱۵؍ اکتوبر سے پہلے شروع کرنے کی تیاری کریں تاکہ جلد مارکیٹ میں شکر کی سپلائی بڑھائی جاسکے ۔ قیمتوں میں مزید اضافے کو روکنے اور رسد کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے حکومت تاجروں کیلئے شکر کے ذخیرہ کی حد مزید سخت کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: راج ناتھ سنگھ نے مغربی بنگال میں۳۵۰۰؍کروڑ کے شپ بلڈنگ منصوبہ کا سنگ بنیاد رکھا
فوڈ سیکریٹری سنجیو چوپڑا نے دہلی میں کہا کہ’’ ایکس -مل قیمتیں ۷؍ سے ۱۰؍ دنوں میں بلاوجہ ۴۷-۴۸؍ روپے فی کلو سے بڑھ کر۶۲؍ روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ’’قیمتوں میں اس طرح اضافہ کی کوئی وجہ نہیں ہے اور حکومت نے صنعت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کر دیا ہے۔‘‘ ’ایکس-مل قیمت ‘ سے مراد وہ قیمت ہے جس پر شوگر مل اپنی تیار کردہ شکر خریدار، ڈیلر یا ہول سیلر کو مل کے گیٹ سے فروخت کرتی ہے۔ سنجیوچوپڑا نے کہا کہ مصنوعی قلت پیدا کرنے کیلئے کچھ شوگر ملیں صرف کاغذوں پر اپنا اسٹاک فروخت کر رہی تھیں لیکن حقیقت میں بازار میںشکر فراہم نہیں کر رہی تھیں۔ اسی لیے انہوں نے ہدایت دی ہے کہ فروخت کی جانے والی چینی کی مقدار حقیقت میں مارکیٹ تک پہنچنی چاہیے تاکہ اسے خردہ فروخت کے لیے دستیاب کرایا جا سکے۔
اس سے قبل مودی سرکار نے کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے ان الزامات کو ایک بار پھر مسترد کیا ہے جن میں چینی کی قیمتوں میں اضافے کیلئے بی جے پی حکومت کی پیٹرول میں اتھنال ملانے کی پالیسی کو ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔ بہرحال حکومت کی بار بار کی صفائی کے باوجود عوام کا بڑا طبقہ شکر کی قیمتوں میں اضافہ کیلئے اتھنال کی تیاری کو ہی ذمہ دار سمجھتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گوگل فائربیس اسکیم: فشنگ اور فراڈ کے لیے پلیٹ فارم کا غلط استعمال کیاگیا
اتھنال وجہ نہ ہونے کیلئے حکومت کی دلیل
حکومت نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ اتھنال پالیسی شکر کی مہنگائی کی ذمہ دار نہیں ہے، دلیل پیش کی ہے کہ اتھنال کی تیاری کیلئے منتقل کی جانے والے گنے کا حصہ ۲۳-۲۰۲۲ء میں تقریباً۱۲؍ فیصد تھا جو۲۶-۲۰۲۵ء میں کم ہو کر تقریباً۹؍ فیصد رہ گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں پیدا ہونے والے اتھنال کا تقریباً تین چوتھائی حصہ اب اناج، خصوصاً مکئی سے حاصل کیا جا رہا ہے جارہا ہے اس لئے شکر سے متعلق الزام غلط ہے۔
۱۰؍ لاکھ ٹن شکر درآمد کرنے کافیصلہ
مودی سرکار نے جہاں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں چینی کی پیداوار میں کمی کے باوجود مجموعی پیداوار اب بھی گھریلو کھپت سے زیادہ رہے گی وہیں اس نے ۱۰؍ لاکھ ٹن خام چینی درآمد کرنے اور ذخیرہ رکھنے کی حد کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔امید کی جارہی ہے اس سے قیمتوں میں کمی آئے گی۔ ملک میں چینی کی اوسط خوردہ قیمت۲۰؍جولائی کو۴۸؍ روپے فی کلو تھی جو ۷۰؍ تک پہنچ چکی ہے۔