Updated: May 19, 2026, 3:02 PM IST
| New Delhi
نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے)اور سری نگر پولس سے منسلک متعدد ہندوستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان سے تعلق رکھنے والے لشکر طیبہ کے مبینہ دہشت گرد محمد عثمان جٹ عرف ’’چینی‘‘ نے کشمیر میں دراندازی کے بعد سری نگر میں ہیئر ٹرانسپلانٹ کرایا۔ حکام کے مطابق اس نے دورانِ تفتیش کہا کہ کشمیر کی زمینی حقیقت اسے پاکستان میں دی گئی تربیت سے مختلف لگی۔
پاکستان سے تعلق رکھنے والے لشکر طیبہ کے مبینہ دہشت گرد محمد عثمان جٹ عرف ’’چینی‘‘ کے بارے میں سامنے آنے والی رپورٹس نے سوشل میڈیا اور ہندوستانی میڈیا میں غیر معمولی توجہ حاصل کی ہے، خاص طور پر اس دعوے کے بعد کہ اس نے سری نگر میں خفیہ طور پر ہیئر ٹرانسپلانٹ کرایا تھا۔ یہ خبر سب سے پہلے ہندوستانی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے ذریعے مختلف میڈیا اداروں میں شائع ہوئی، جس کے بعد این ڈی ٹی وی، ٹائمز آف انڈیا، ہندوستان ٹائمز، اکنامک ٹائمز اور دیگر پلیٹ فارمز نے اسے تفصیل سے رپورٹ کیا۔ رپورٹس کے مطابق جٹ، جو لاہور کا رہائشی بتایا جاتا ہے، مبینہ طور پر جموں کشمیر میں دراندازی کے بعد شمالی اور وسطی کشمیر میں سرگرم رہا۔
یہ بھی پڑھئے: ۱۰؍ سال میں ایک لاکھ سرکاری اسکول بند، ۲۶ء۲؍ کروڑ بچوں کا داخلہ کم: رپورٹ
ہندوستانی حکام کا دعویٰ ہے کہ اسے ہندوستان کے مختلف حصوں میں ’’سلیپر سیلز‘‘ قائم کرنے اور دہشت گرد حملوں کی تیاری کا ٹاسک دیا گیا تھا۔ بعد ازاں اسے سری نگر پولیس نے اپریل ۲۰۲۶ء میں گرفتار کیا، جبکہ کیس بعد میں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کو منتقل کر دیا گیا۔ تاہم، اس خبر کے کئی اہم حصے ابھی تک صرف ہندوستانی تفتیشی اداروں کے بیانات پر مبنی ہیں۔ نہ تو پاکستان کی جانب سے اس پر باضابطہ ردعمل سامنے آیا ہے اور نہ ہی کسی آزاد بین الاقوامی ادارے نے ان دعوؤں کی تصدیق کی ہے۔ خاص طور پر ’’ہیئر ٹرانسپلانٹ‘‘ اور ’’مقاصد بدل جانے‘‘ جیسے دعوے تاحال آزادانہ طور پر ویریفائی نہیں ہو سکے۔ ہندوستانی میڈیا کے مطابق جٹ نے دورانِ تفتیش کہا کہ کشمیر میں عام زندگی اس تصور سے بالکل مختلف تھی جو اسے پاکستان میں عسکری تربیت کے دوران دکھایا گیا تھا۔ رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ وہ کئی برسوں سے شدید بال گرنے کے مسئلے سے دوچار تھا اور اس نے سری نگر میں ایک مقامی شخص کے ذریعے ہیئر ٹرانسپلانٹ کلینک تک رسائی حاصل کی۔ بعض رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے دوران کئی بار کلینک میں رات بھی گزارنی پڑی۔
حکام کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ جٹ نے دورانِ تفتیش مبینہ اوور گراؤنڈ ورکرز کے ایک نیٹ ورک کے بارے میں معلومات فراہم کیں، جس کے بعد سری نگر اور شمالی کشمیر میں کئی افراد کو حراست میں لیا گیا۔ اس کے علاوہ اس نے مبینہ طور پر جعلی آدھار اور پین کارڈ حاصل کرکے ہندوستان سے فرار ہونے کی منصوبہ بندی کا بھی ذکر کیا۔ رپورٹس میں ایک اور پاکستانی شہری ’’عمر عرف خرگوش‘‘ کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس کے بارے میں کہا گیا کہ اس نے جعلی دستاویزات کے ذریعے ہندوستان سے نکل کر انڈونیشیا اور پھر کسی خلیجی ملک جانے کی کوشش کی۔ تاہم ان دعوؤں کی بھی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔ یہ معاملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کشمیر میں عسکریت پسندی، سرحد پار دراندازی اور مبینہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے حوالے سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی پہلے ہی شدید ہے۔ لشکر کو ہندوستان، امریکہ، اقوام متحدہ اور کئی دیگر ممالک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’عدالتی فیصلوں میں شواہد اور حقائق کی جگہ عقیدے پر انحصار تشویشناک ہے‘‘
سوشل میڈیا پر اس خبر پر ملے جلے ردعمل ظاہر ہوئے۔ کچھ صارفین نے اسے ’’حقیقت اور پروپیگنڈے کے درمیان فرق‘‘ قرار دیا جبکہ بعض نے سوال اٹھایا کہ اتنے حساس سیکوریٹی آپریشن کی تفصیلات میڈیا میں کیسے آئیں۔ کئی مبصرین نے یہ بھی کہا کہ اس نوعیت کی کہانیوں کو احتیاط سے دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ان میں نفسیاتی جنگ یا بیانیاتی سیاست کا عنصر بھی شامل ہو سکتا ہے۔ فی الحال، اس پورے معاملے میں سب سے اہم حقیقت یہی ہے کہ خبر کے بنیادی دعوے ہندوستانی تحقیقاتی ایجنسیوں اور میڈیا ذرائع پر مبنی ہیں، جبکہ آزاد، بین الاقوامی یا عدالتی سطح کی مکمل تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی۔