• Mon, 19 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ووٹ چوری چھپانے کیلئے بدلے گئے قانون‘‘

Updated: October 19, 2026, 12:51 PM IST | Agency | New Delhi

کانگریس کا الزام ، جے رام رمیش نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے اور ایس آئی آر روکنے کا مطالبہ کیا۔

Congress Member of Parliament and General Secretary in-charge of the Communications Department, Jairam Ramesh. Photo: INN
کانگریس کے رکن پارلیمان اور کمیونی کیشن شعبے کے جنرل سیکریٹری انچارج جئے رام رمیش۔ تصویر: آئی این این

کانگریس نے ایک بار پھر الیکشن کمیشن اور مودی حکومت پر ’ووٹ چوری‘ کے حوالے سے سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ کانگریس کے سینئر لیڈر جئے رام رمیش نے اتوار کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی(ایس آئی آر)کے عمل کو فوری طور پر روکنے کی اپیل کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن نے گزشتہ ۸؍سال سے سیاسی پارٹیوں کو ووٹر لسٹیں ایسے فارمیٹ میں فراہم نہیں کیں، جن میں ناموں کو تلاش کیا جا سکے۔ اس سے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔ 

کانگریس نے کیا الزامات لگائے؟

جئے رام رمیش نے کہا کہ لوک سبھا میں قائدِ حزب اختلاف راہل گاندھی اور کانگریس مسلسل الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ ووٹر لسٹیں ایسے فارمیٹ میں فراہم کی جائیں، جن میں نام آسانی سے تلاش کیے جا سکیں۔ ان کے مطابق، کمیشن نے بار بار اس مطالبے کو مسترد کیا۔ جئے رمیش نے دعویٰ کیا کہ۲۰۱۸ء میں مدھیہ پردیش میں کانگریس کو لاکھوں مبینہ فرضی ووٹروں کا پتہ چلا تھا، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے سرچ کی جا سکنے والی ووٹر لسٹیں فراہم کرنا بند کر دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایسا ’ووٹ چوری‘ کو ممکن بنانے کے لئے کیا گیا۔

۱۷؍ ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں ایس ایس آرکی تیاری

کانگریس لیڈر نے۱۵؍ اکتوبر۲۰۲۶ء کو الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ حکم کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن نے۱۷؍ ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں خصوصی خلاصہ نظرثانی (ایس ایس آر) کے تحت سیاسی جماعتوں کو ووٹر لسٹیں سرچ کی جا سکنے والے فارمیٹ میں فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:’’جمہوریت کی بازیابی‘‘ کیلئے ملک گیر مارچ

اس سے قبل الیکشن کمیشن نے ان ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی خلاصہ نظرثانی کا عمل شروع کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ اس کے لیے یکم جنوری۲۰۲۷ء کو اہلیت کی تاریخ مقرر کیا گیا ہے۔

 وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے اشاروں پر کام کرنے کا الزام

جئے رام رمیش نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی ہدایات کے مطابق کام کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ مبینہ ووٹ چوری کے معاملات سامنے آنے پر مرکزی حکومت نئے طریقے اختیار کرتی ہے۔ جئے رمیش نے ووٹر لسٹوں میں مبینہ فرضی نام شامل کیے جانے اور ایس آئی آر کے عمل پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان واقعات سے الیکشن کمیشن پر عوام کا اعتماد کمزور ہوا ہے۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ صرف چیف الیکشن کمشنر کا استعفیٰ کافی نہیں ہوگا، بلکہ الیکشن کمیشن اور اس کے آئی ٹی نظام میں بھی بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی جانی چاہئیں۔

۱۳؍ کروڑ سے زیادہ ووٹروں کے حقوق پر تشویش

جے رام رمیش نے ایس آئی آر کے عمل کو فوری طور پر معطل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اس عمل سے۱۳؍ کروڑ سے زیادہ ہندوستانیوں کے آئینی حقِ رائے دہی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ انہوں نے انتخابی عمل میں شفافیت یقینی بنانے اور سیاسی جماعتوں کے لیے ووٹر لسٹوں تک رسائی آسان بنانے پر زور دیا۔

کانگریس کا طنزیہ ویڈیو:’’گیانیش غدار کا ڈر‘‘

کانگریس نے ’ووٹ چوری‘ اور ’انتخابی دھاندلیوں‘ کے متعلق جاری اپنی مہم کے تحت مودی حکومت اور الیکشن کمیشن کے خلاف اتوار کو ایک نیا طنزیہ ویڈیو جاری کیا ہے۔ یہ ویڈیو اے آئی سے بنایا گیا ہے، جس میں وزیراعظم ، وزیرداخلہ اور چیف الیکشن کمشنرکے کرداروں کو ڈرے سہمےتاثرات کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ کانگریس کے ایکس ہینڈل سے اس ویڈیو کو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا گیا’’ڈر کا ماحول ہے‘‘ جس میں گیانیش کمار کا کردار کہتے ہوئے نظر آرہا ہے کہ ’’میں نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ ہماری ووٹ چوری ،ایک دن پکڑی جائے گی۔‘‘ اس پردوسرا کردارکہتا ہے’’ سوچا تھا ووٹ چوری کرکے پی ایم بنوں گا، جنتا کو لوٹتا رہوں گا، دوستوں کو سب بیچ دوں گا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK