• Sat, 26 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان میں فاسفورس گولہ بارود استعمال کیا: لبنانی میڈیا

Updated: September 26, 2026, 9:59 PM IST | Beirut

لبنانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان پر حملوں میں فاسفورس گولہ بارود استعمال کیا، اسرائیلی توپ خانے کی گولہ باری نے نبطیہ اور صور اضلاع کے علاقوں کو نشانہ بنایاجبکہ لبنانی فوج اسرائیلی نہ پھٹنے والے بموں کو ناکارہ بنانے میں مصروف ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی این این اے نے جمعہ کے روز رپورٹ کیا کہ، اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان کے کئی قصبوں پر گولہ باری کی ہے اور بعض حملوں میں فاسفورس گولہ بارود استعمال کیا۔اس توپ خانے کی گولہ باری نے نبطیہ ضلع میں زوتر الشرقیہ، میفدون اور نبطیہ الفوقا کے نواحی علاقوں کو نشانہ بنایا۔ایجنسی کے مطابق نبطیہ الفوقا اور زوتر الشرقیہ پر دوبارہ حملوں میں فاسفورس گولے استعمال کیے گئے۔توپ خانے کی گولہ باری نے وادی زبقین اور صور ضلع میں حارث اور حداتھا کے نواحی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا۔

یہ بھی پڑھئے: بن گویر کے دور میں ۲۸؍ فیصد اسرائیلی پولیس اہلکار فورس سے نکل گئے

دریں اثنا، لبنانی فوج کے ماہرین نے مرجعیون اور بنت جبیل اضلاع میں مجدل سلم اور الغندوریہ میں اسرائیلی نہ پھٹنے والے دو ہوائی بموں کو ناکارہ بنایا اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کیا۔لبنانی حکام کے مطابق یہ گولہ باری جاری اسرائیلی حملوں کا حصہ ہے جن میں مارچ کے آغاز سے اب تک کم از کم ۴۳۸۶؍افراد ہلاک،۱۲۴۰۷؍ زخمی اور۱۰؍ لاکھ سے زائد بے گھر ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ یہ حملے جون کے امن معاہدے کے باوجود جاری ہیں جس میں مقبوضہ لبنانی علاقے سے اسرائیل کے بتدریج انخلا کے بدلے وہاں لبنانی فوج کی تعیناتی اور حزب اللہ کی تخفیف اسلحہ کی تجویز دی گئی تھی۔ 

یہ بھی پڑھئے: یمن: ۳؍ ہفتوں کے دوران ۷۱؍ ہزار بچے بے گھر، یونیسف کا اظہارِ تشویش

واضح رہے کہ اسرائیل لبنان کے مزاحمتی گروہ حزب اللہ پر حملوں کی آڑ میں لبنانی شہری علاقوں کو نشانہ بنا رہاہے، اس کے علاوہ اس نے اپنی فوج کا بھی خطے سے انخلا موخر کردیا ہے، جو امن معاہدے کی اہم شرائط میں سے ایک ہے، جبکہ نام نہاد جنگ بندی نافذ ہے، اسرائیلی پیش قدمی مسلسل جاری ہے۔ اور اسرائیل کے ذریعے ممنوعہ فاسفورس جیسے جلد کو جلادینے والے کیمیائی مادے کا استعمال علاقے کے مکینوں کو اپنے علاقوں سے بے دخل کرنے کی ایک کوشش قرار دی جارہی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK