• Sat, 26 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بن گویر کے دور میں ۲۸؍ فیصد اسرائیلی پولیس اہلکار فورس سے نکل گئے

Updated: September 26, 2026, 10:07 AM IST | Tel Aviv

ہاریٹز کے مطابق بھرتیوں میں اضافے کے باوجود پولیس اسٹیشنوں اور ٹریفک ڈویژن میں تقریباً ۲؍ ہزار اہلکاروں کی کمی برقرار، نئے بھرتی ہونے والوں کا بڑا حصہ بارڈر پولیس اور نیشنل گارڈ میں تعینات۔

Ben-Gvir. Picture: INN
بین گویر۔ تصویر: آئی این این

اسرائیلی اخبار ہاریٹز کی رپورٹ کے مطابق قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر کے دسمبر ۲۰۲۲ء میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اسرائیلی پولیس کے تقریباً ۲۸؍ فیصد اہلکار فورس سے نکل چکے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ اعداد و شمار پولیس میں افرادی قوت کی کمی کے پس منظر میں ہونے والے بند کمرہ اجلاسوں میں پیش اور دستاویزی شکل میں سامنے آئے۔ بھرتیوں میں اضافے کے باوجود اسرائیل کے پولیس اسٹیشنوں اور ٹریفک ڈویژن میں تقریباً ۲؍ ہزار اہلکاروں کی کمی برقرار ہے۔ ہاریٹز کے مطابق بن گویر کے دور میں پولیس میں نئی بھرتیوں کی تعداد بڑھی ہے، لیکن نئے آنے والے اہلکاروں میں سے ایک چوتھائی سے زیادہ کو باقاعدہ پولیس اسٹیشنوں کے بجائے بارڈر پولیس یا قومی سلامتی کی وزارت کے ماتحت قائم کیے گئے نیشنل گارڈ میں تعینات کیا گیا۔ اس وجہ سے مجموعی بھرتیوں میں اضافے کے باوجود عام پولیس اسٹیشنوں اور ٹریفک کے شعبے میں درکار افرادی قوت کی کمی پوری نہیں ہوسکی۔ 

یہ بھی پڑھئے: ترکی: حضرت نوح کی کشتی کی تلاش، زیر زمین ممکنہ ڈھانچوں نے پھر بڑھایا تجسس

رپورٹ کے مطابق پولیس کی افرادی قوت سے متعلق موجودہ بحران میں ایک طرف نئے اہلکاروں کی بھرتی ہوئی، جبکہ دوسری طرف فورس چھوڑنے والوں کی تعداد بھی نمایاں رہی۔ ہاریٹز نے اس صورتحال کو پولیس میں موجودہ تقریباً ۲؍ ہزار اہلکاروں کے خلا سے جوڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بعض پولیس اسٹیشن مقررہ افرادی معیار کے مطابق مطلوبہ تعداد پوری نہیں کرپارہے، جس سے مقامی پولیس اور ٹریفک انتظامیہ کے شعبوں پر دباؤ برقرار ہے۔ ایتمار بن گویر نے دسمبر ۲۰۲۲ء میں اسرائیل کی قومی سلامتی کے وزیر کا منصب سنبھالا تھا۔ ان کی وزارت اسرائیلی پولیس اور دیگر داخلی سلامتی سے متعلق اداروں کی نگرانی کرتی ہے۔ ۲۰۲۳ء میں اسرائیلی حکومت نے قومی سلامتی کی وزارت کے ماتحت نیشنل گارڈ کے قیام کی باضابطہ منظوری بھی دی تھی۔ اس فورس کے پولیس ڈھانچے میں کردار اور اسے کس اتھارٹی کے تحت رکھا جائے، اس پر اسرائیل میں سیاسی اور قانونی بحث ہوتی رہی ہے۔ 
نیشنل گارڈ کے معاملے پر اسرائیل میں سیاسی اختلاف بھی سامنے آیا ہے۔ ناقدین نے بن گویر کی وزارت کے ماتحت اس فورس کو رکھنے پر اعتراض کیا تھا اور بعض مخالفین نے اسے بن گویر کے لیے ایک الگ طاقت کے مرکز کے طور پر بیان کیا۔ تاہم یہ ناقدین کا سیاسی مؤقف ہے؛ حکومت نے نیشنل گارڈ کے قیام کو داخلی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ضروری انتظامی قدم کے طور پر پیش کیا ہے۔ پولیس کے افرادی بحران کا معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل میں پولیس کی ذمہ داریاں بھی کئی محاذوں پر بڑھ گئی ہیں۔ بارڈر پولیس اور نیشنل گارڈ کو الگ ذمہ داریوں کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، جبکہ عام پولیس اسٹیشنوں اور ٹریفک ڈویژن کو روزمرہ شہری خدمات انجام دینا ہوتی ہیں۔ ہاریٹز کی رپورٹ کے مطابق نئے اہلکاروں کی تعیناتی کے انداز نے اس بات کو متاثر کیا ہے کہ بھرتیوں کا کتنا حصہ براہ راست ان شعبوں تک پہنچ رہا ہے جہاں اہلکاروں کی کمی موجود ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: امریکی کمیشن کا ہندوستان پر UAPA کے غلط استعمال کا الزام

یہ اعداد و شمار بن گویر کے پولیس پر انتظامی اثر و رسوخ سے متعلق پہلے سے جاری بحث کے دوران سامنے آئے ہیں۔ ۲۰۲۲ء  میں پولیس آرڈیننس میں کی گئی ترمیم کے بعد وزیر قومی سلامتی کو پولیس کی عمومی پالیسی، بشمول تفتیش کے شعبے میں ترجیحات طے کرنے سے متعلق اضافی اختیارات دیے گئے، اگرچہ قانون میں پولیس کی قانونی ذمہ داریوں اور تفتیشی اختیارات کے حوالے سے کچھ حدود بھی برقرار رکھی گئیں۔ اس ترمیم کو اسرائیلی سپریم کورٹ میں بھی چیلنج کیا گیا تھا۔ ہاریٹز کی تازہ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پولیس میں بھرتی کے لیے مقررہ معیار اور اسٹیشنوں میں درکار اہلکاروں کی تعداد کے باوجود متعدد مقامات مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچ سکے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف بھرتیوں کی مجموعی تعداد کو دیکھنے سے پولیس کی افرادی صورتحال کی مکمل تصویر سامنے نہیں آتی؛ اہلکاروں کے فورس چھوڑنے اور مختلف یونٹس میں ان کی تعیناتی بھی مجموعی کمی کو سمجھنے کے لیے اہم عوامل ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK