Inquilab Logo Happiest Places to Work

لبنان میں جاری تنازع کےباعث ۱۲ لاکھ سےزائد افراد شدید بھوک کا سامنا کررہے ہیں: اقوامِ متحدہ کی رپورٹ

Updated: April 30, 2026, 2:03 PM IST | New York

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مسلسل انسانی امداد اور ذریعہ معاش کیلئے تعاون کے بغیر خوراک کا عدم تحفظ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی ایجنسیوں نے حالات کو مستحکم کرنے اور آنے والے مہینوں میں گہرے انسانی بحران کو روکنے کیلئے فوری بین الاقوامی مدد کا مطالبہ کیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اقوامِ متحدہ کی حمایت یافتہ ایک تشخیصی رپورٹ کے مطابق، لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں اور تنازع کے باعث معاشی دباؤ کے گہرے اثرات کی وجہ سے آنے والے مہینوں میں ۱۲ لاکھ سے زائد افراد کو خوراک کے شدید عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او)، ورلڈ فوڈ پروگرام اور لبنان کی وزارتِ زراعت کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ مشترکہ رپورٹ میں تخمینہ لگایا گیا ہے کہ اپریل اور اگست ۲۰۲۶ء کے درمیان تقریباً ۴ء۱۲ لاکھ افراد بحرانی سطح یا اس سے بھی بدتر بھوک کا سامنا کریں گے۔ یہ نتائج ”انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن“ (آئی پی سی) کے اعدادوشمار پر مبنی ہیں، جو عالمی سطح پر خوراک کے عدم تحفظ اور غذائی قلت کے رجحانات کی نگرانی کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل پانی کواجتماعی سزا کے ہتھیارکے طور پراستعمال کررہا: ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈر

خوراک کے عدم تحفظ میں تیزی سے اضافہ

رپورٹ میں تنازع سے پہلے کے دور کے مقابلے میں حالات میں نمایاں بگاڑ کو اجاگر کیا گیا ہے۔ مارچ میں کشیدگی بڑھنے سے قبل، تقریباً ۸ لاکھ ۷۴ ہزار افراد (یعنی آبادی کا تقریباً ۱۷ فیصد حصہ)، خوراک کے شدید عدم تحفظ کا شکار تھے۔ تازہ ترین اعداد و شمار اس نمبر میں تیزی سے اضافے کی عکاسی کرتے ہیں، جس کی وجوہات نقل مکانی، ذریعہ معاش میں خلل اور بڑھتا ہوا معاشی دباؤ ہے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ”یہ ابتری تنازع، نقل مکانی اور معاشی دباؤ کی وجہ سے ہے۔“

جنگ بندی سے محدود راحت

۱۷ اپریل کو لبنان اور اسرائیل میں اعلان کردہ جنگ بندی نے ہفتوں سے جاری شدید لڑائی کو عارضی طور پر روک دیا ہے، لیکن لبنان میں انسانی صورتحال بدستور نازک ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس تنازع کے نتیجے میں ۲۵۰۰ سے زائد اموات اور پورے لبنان میں دس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔ جنگ بندی کے باوجود، سرحد کے قریب جنوبی علاقوں میں کشیدگی برقرار ہے، جہاں رہائشیوں کو مسلسل فوجی سرگرمیوں اور وقفے وقفے سے فائرنگ کے تبادلے کی وجہ سے واپس نہ لوٹنے کی وارننگ دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی سزا سے استثنیٰ کی روایت مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے خطرہ: ایرانی مندوب

بحران کے مزید بگڑنے کا انتباہ

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مسلسل انسانی امداد اور ذریعہ معاش کیلئے تعاون کے بغیر خوراک کا عدم تحفظ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ زراعت، سپلائی چین اور مقامی معیشتوں میں پیدا ہونے والے خلل کی وجہ سے جنگ سے متاثرہ آبادی کے بڑے حصے کیلئے خوراک تک رسائی بدستور محدود ہے۔ اقوامِ متحدہ کی ایجنسیوں نے حالات کو مستحکم کرنے اور آنے والے مہینوں میں گہرے انسانی بحران کو روکنے کیلئے فوری بین الاقوامی مدد کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK