Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا لبنان جنگ بندی میں شامل ہوگا؟ صدر جوزف عون کی سفارتی کوششیں تیز

Updated: April 08, 2026, 9:58 PM IST | Beirut

لبنان کے صدر جوزف عون امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی میں لبنان کو شامل کرانے کے لیے سرگرم سفارتی رابطے کر رہے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ابھی تک لبنان کی شمولیت سے متعلق کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا، جبکہ مختلف متضاد اطلاعات گردش کر رہی ہیں۔ دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان ہو چکا ہے، تاہم اسرائیل کے بیانات اور زمینی صورتحال کے سبب غیر یقینی برقرار ہے۔

A scene of destruction from the Israeli attack in Beirut. Photo: PTI
بیروت میں اسرائیلی حملے سے تباہی کا ایک منظر۔ تصویر: پی ٹی آئی

لبنان کے صدر جوزف عون نے ملک کو امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی معاہدے میں شامل کرانے کے لیے سفارتی سطح پر رابطوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ ایک اعلیٰ سطحی سرکاری ذریعے نے بدھ کوبتایا کہ اس حوالے سے مختلف سطحوں پر کوششیں جاری ہیں، تاہم ابھی تک لبنان کی شمولیت کے بارے میں کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔ ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ’’ہمیں ابھی تک جنگ بندی معاہدے میں (لبنان کی شمولیت) کے حوالے سے کسی واضح موقف کے بارے میں مطلع نہیں کیا گیا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’مختلف سطحوں پر رابطے جاری ہیں، اور صدر عون اس بات کو یقینی بنانے کی کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں کہ لبنان کو جنگ بندی کے کسی بھی معاہدے میں شامل کیا جائے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایران نے اسے اپنی فتح قرار دیا

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر متضاد اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں، خاص طور پر اسرائیل کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ لبنان اس جنگ بندی کا حصہ نہیں ہے۔ اس حوالے سے ذریعے نے کہا کہ ’’متضاد اطلاعات گردش کر رہی ہیں،‘‘ اور مزید بتایا کہ امریکی جانب سے بھی تاحال کوئی واضح یا حتمی مؤقف جاری نہیں کیا گیا۔ واضح رہے کہ امریکہ اور ایران نے منگل کو دو ہفتوں پر مشتمل جنگ بندی کا اعلان کیا، جس کا مقصد ۲۸؍ فروری کو شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد ایک حتمی امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔ اس تنازعے کے دوران ہزاروں افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
دوسری جانب پاکستانی ثالثوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے، تاہم بنجامن نیتن یاہو نے اس مؤقف کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان اس معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔ اس متضاد صورتحال نے خطے میں غیر یقینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ میدانی صورتحال بھی کشیدہ ہے۔ لبنانی میڈیا کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے باوجود بدھ کے روز جنوبی لبنان کے شہر سدون کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی حملے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور ۲۲؍ زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی کی پاسداری کی اطلاعات دی جا رہی تھیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسلام آباد میں جمعہ کوامریکہ کے ساتھ ایران مذاکرات کا آغاز کرے گا

یاد رہے کہ نومبر ۲۰۲۴ء میں بھی ایک جنگ بندی نافذ کی گئی تھی، تاہم ۲؍ مارچ کو حزب اللہ کے سرحد پار مبینہ حملے کے بعد اسرائیل نے جنوبی لبنان میں فضائی حملے اور زمینی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی تھیں۔ لبنانی حکام کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم ۱۵۳۰؍ افراد ہلاک جبکہ ۴۸۱۲؍ زخمی ہو چکے ہیں، جس سے انسانی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔ موجودہ حالات میں لبنان کی جنگ بندی میں شمولیت یا عدم شمولیت خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک اہم معاملہ بن چکی ہے، جبکہ سفارتی سطح پر کوششیں تاحال جاری ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK