پاکستان کے ایک صحافی نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی موت کا دھماکہ خیز دعویٰ کردیا ہے، جبکہ ان کی صحت کے تعلق سے غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوتا جارہاہے۔
EPAPER
Updated: August 12, 2026, 5:14 PM IST | Islamabad
پاکستان کے ایک صحافی نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی موت کا دھماکہ خیز دعویٰ کردیا ہے، جبکہ ان کی صحت کے تعلق سے غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوتا جارہاہے۔
پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت اور حفاظت کے بارے میں جاری غیر یقینی صورتحال کے درمیان، ایک پاکستانی صحافی کی جانب سے ایک تباہ کن مگر غیر مصدقہ دعویٰ سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ ’’جیل میں انتقال کر گئے ہوں گے۔‘‘پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی موت کی افواہیں مہینوں قبل سامنے آئی تھیں، اور ان کے خاندان کے متعدد افراد نے الزام لگایا تھا کہ انہیں خان سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔امریکہ میں مقیم صحافی وجاہت سعید خان نے سابق وزیراعظم کی صحت کے بارے میں ایک دھماکہ خیز دعویٰ کیا ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ’’تین سینئر فوجی ذرائع نے انہیں بتایا کہ عمران خان اب ہمارے درمیان نہیں ہیں۔‘‘یہی وجہ ہے کہ طویل عرصے سے ان کی کوئی عوامیجھلک نہیں دکھائی گئی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مذکورہ ذرائع اس معلومات کی آزادانہ تصدیق کرنے سے قاصر تھے اور انہوں نے یہ بات صرف غیر رسمی چینلز کے ذریعے سنی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’غزہ میں فلسطینیوں کی جانوں کو لاحق خطرہ بڑھ رہا ہے‘‘
واضح رہے کہ ۷۳؍ سالہ کرکٹر سے سیاستدان بننے والے عمران خان۲۰۲۳ء سے متعدد مقدمات کے ساتھ اڈیالہ جیل میں ہیں۔ ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے بارہا دعویٰ کیا ہے کہ حکام نے انہیں اپنے خاندان سے ملنے سے روکا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں صحت کے مسائل بشمول آنکھ کی بیماری کے لیے مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔بعد ازاں منگل، ۱۱؍اگست کو عمران خان کے اہل خانہ اور ان کی پارٹی کے ساتھیوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں سابق وزیراعظم سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، جبکہ ان کی صحت کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: لبنان اسرائیل کے ساتھ سرحدی نقشے پر براہِ راست مذاکرات روک دے: حزب اللہ
اس خبروں کے درمیان خیبر پختونخواہ کے وزیراعلیٰ اور پی ٹی آئی لیڈر سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ ’’بیس لاکھ سے زائد افراد سڑکوں پر نکلنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘ پاکستانی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ ’’پاکستان کے نوجوانوں میں غصہ قابو سے باہر ہو سکتا ہے۔‘‘آفریدی نے کہا کہ ’’ہم عمران خان کی صحت کو سیاست کا ذریعہ نہیں بناتے، اور نہ ہی عمران خان نے کبھی کسی قسم کی رعایت حاصل کرنے کے لیے اپنی صحت کا مسئلہ اٹھایا۔‘‘
دریں اثناء پی ٹی آئی نے۲۷؍ ستمبر کو اسلام آباد کی طرف طویل مارچ کا اعلان کیا ہے، جبکہ اس سے پہلے بھی احتجاج کی دھمکی دی ہے اگر عمران خان کے خاندان اور پارٹی کے ساتھیوں کو ان سے ملنے سے روکا گیا۔یاد رہے کہ عمران خان کی طویل قید اور صحت کے خدشات کی وجہ سے پاکستانی حکومت نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ممالک سے بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ امریکی کانگریس کے۱۳؍ اراکین پر مشتمل ایک دوطرفہ گروپ نے امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو کو خط لکھ کر ان سے مطالبہ کیا کہ وہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی حراستی شرائط کا معاملہ براہ راست اسلام آباد میں اٹھائیں۔ اس خط میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کی جانب سے سابق وزیراعظم کی طویل تنہائی قید اور ان کی صحت کے بارے میں کیے گئے خدشات کا حوالہ دیا گیا۔