محکمہ ریلوے نے خادم کو نوٹس جاری کرکے چار نکات پر ۱۵؍ دنوں میں جواب طلب کیا۔
EPAPER
Updated: June 20, 2026, 2:27 PM IST | Mohammed Nadeem Siddiqui | Bahraich
محکمہ ریلوے نے خادم کو نوٹس جاری کرکے چار نکات پر ۱۵؍ دنوں میں جواب طلب کیا۔
اترپردیش میں مساجد و مزارات کے تعلق سے روز افزوں کارروائیوں کے درمیان اب بہرائچ ریلوے کالونی کے نزدیک واقع آستانہ حضرت پنچ پیر رحمۃ اللہ علیہ کے خادم کو نوٹس دے کر محکمہ ریلوے نے مزار کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے نے چار نکات پر ۱۵؍دنوں میں جواب طلب کیا ہے۔ اگر مقررہ وقت میں جواب نہیں دیا گیا تو ریلوے انتظامیہ کی جانب سے مزار کو ہٹانے کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ مزار کے خادم کا کہنا ہے کہ یہ آستانہ ۱۹۳۵ء سے قائم ہے اور اس کی جانکاری محکمہ ریلوے کو بھی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، بہرائچ ریلوے اسٹیشن کے احاطے میں کالونی کے نزدیک پانی کی ٹنکی کے پاس آستانہ حضرت پنج پیر رحمۃ اللہ علیہ واقع ہے جہاں بلا تفریق مذہب و ملت عقیدت مند حاضری دے کر نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ یہاں ہر سال عرس کی تقریبات بھی منعقد ہوتی ہیں۔ عقیدت مندوں کی آستانہ عالیہ پر بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے ہندو تنظیم سے وابستہ افراد نے محکمہ ریلوے کے افسروں سے شکایت کرکے مسافروں کی حفاظت کا حوالہ دیتے ہوئے مزار کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا جس کے تناظر میں شمال مشرقی ریلوے، بہرائچ کے سیکشن انجینئر نیرج کمار نے مزار کے خادم سلیم احمد کو نوٹس جاری کیا ہے۔ جاری کردہ نوٹس میں وقف بورڈ میں رجسٹریشن کے دستاویزات پیش کرنے، مزار کے قیام سے متعلق کاغذات دکھانے، خادم کی حیثیت سے تقرری کا خط دینے اور وقف کمیٹی کی تشکیل سے متعلق تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ۱۲؍جون کو جاری نوٹس خادم سلیم احمد کو موصول بھی ہوچکا ہے۔ اگر جواب نہیں دیا گیا تو مزار کو غیر قانونی قرار دے کر کارروائی کی جا سکتی ہے۔مزار کے خادم، شہر کے محلہ بخشی پورہ چاند ماری کے رہائشی سلیم احمد کا کہنا ہے کہ یہ مزار ۱۹۳۵ء میں قائم تعمیر کیا گیا تھا اور اس کا ریکارڈ ریلوے کے پاس بھی موجود ہے۔ یہاں پر بلا تفریق مذہب و ملت عقیدت مند آتے ہیں ۔ کبھی کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوا ہے۔ ذرائع کی مانیں تو آر ٹی آئی کے تحت مانگی گئی اطلاعات میں محکمہ ریلوے نے بھی اس بات کو قبول کیا ہے کہ یہ آستانہ ملک کی آزادی سے پہلے سے قائم ہے۔