شکتی پیٹھ ہائی وے پروجیکٹ سے متاثر ہونیوالے کسانوں نے اس پروجیکٹ کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔
کسانوں کا وفد ضلع کلکٹر کو مکتوب دیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این
شکتی پیٹھ ہائی وے پروجیکٹ کی مخالفت میں کچھ کسانوںنے وزیراعلیٰ کے نام خون سے خط لکھا ہے۔ اس پروجیکٹ سے متاثر ہونے والے کسانوں نے اپنے خون سے تحریر کردہ عرضداشت ضلع کلکٹر کو سونپی ہے، جو ریاست کے وزیراعلیٰ دیویندر فرنویس کے نام لکھی گئی ہے۔ اس میں کسانوں نے اجتماعی موت کی اجازت چاہی ہے۔
’نوراشٹر‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ مکتوب یکم جنوری کے دن ضلع انتظامیہ کو سونپا گیا ہے۔ خیال رہے کہ ناندیڑ ضلع میں شکتی پیٹھ ہائی وے سے متاثر کسان گزشتہ ڈھائی سال سے پوری اور اپر پین گنگا منصوبے کے تحت آنے والی اپنی زرخیز و باغاتی زمین بچانے کے لیے سخت جدوجہد کر رہے ہیں۔ اردھا پور تعلقہ کی ان زرعی زمینوں میں کیلا اور ہلدی کی کاشت کی جاتی ہے ، یہ فصلیں بیرونِ ملک برآمد ہوتی ہیں۔ ایسے میں شکتی پیٹھ پروجیکٹ کے سبب زرخیز علاقے کی زراعت اور کسانوں کے تباہ ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے اور مقامی روزگار پر بھی سنگین خطرہ منڈلا رہا ہے۔ اسی شدید بحران کے سبب کسانوں نے انتہائی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
۲۰۰؍ سے زائد کسانوں کے دستخط والے اس مطالباتی مکتوب میں تحریر ہے کہ’’ مجوزہ ہائی وے کیلئے نقشہ بندی اور پیمائش کے مقصد سے آنے والی سرکاری ٹیم کو کسانوں نے بارہا منظم طریقے سے روک کر واپس بھیجا ہے ،اس کے باوجود حکومت اب بھی دباؤ ڈال کر پیمائش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘ اس عرضداشت پر شکتی پیٹھ ہائی وے وِرودھی کریتی سمیتی کے کنوینر سُبھاش مورلوار، ستیش کلکرنی، گجانن تیمیوار، پرمود انگولے، کچرو مدھل سمیت افسروں اور کسانوں کے دستخط موجود ہیں۔ اسی طرح وٹھل راو گڑھ، پراگ اڈکینے، پردیپ گوونڈے، گیانوبا ہاکے، انیل چوہان، باپورا و دھورے، ایشور ساونڈکر، دلیپ کرا لے، دھوندی رام کلینکر، ستیش دیسائی، بالاجی انگولے، سُبھاش قدم، تُکارام خوردہ موجے، سوناجی بٹے، مادھو انگولے، شنکر تیمیوار، سورج مالیوار، آنندراؤ نا درے، دلیپ بھیسےو دیگر نے بھی دستخط کئے ہیں۔