Updated: September 11, 2026, 6:04 PM IST
| Seoul
جنوبی کوریا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایل جی نے اپنے اسمارٹ ٹی وی کے فیچرز سے متعلق سامنے آنے والے آڈیو نگرانی (Audio Surveillance) کے الزامات پر وضاحت پیش کرتے ہوئے اپنی ٹیکنالوجی کا دفاع کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق اسمارٹ ٹی وی میں موجود بعض جدید فیچرز کا مقصد صارفین کو بہتر اور ذاتی نوعیت کا تجربہ فراہم کرنا ہے، نہ کہ ان کی نجی گفتگو پر غیرضروری نظر رکھنا۔
جنوبی کوریا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایل جی نے اپنے اسمارٹ ٹی وی کے فیچرز سے متعلق سامنے آنے والے آڈیو نگرانی (Audio Surveillance) کے الزامات پر وضاحت پیش کرتے ہوئے اپنی ٹیکنالوجی کا دفاع کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق اسمارٹ ٹی وی میں موجود بعض جدید فیچرز کا مقصد صارفین کو بہتر اور ذاتی نوعیت کا تجربہ فراہم کرنا ہے، نہ کہ ان کی نجی گفتگو پر غیرضروری نظر رکھنا۔
یہ بھی پڑھئے:OpenAI کے نیویئر اسٹوکس مسئلہ کے حل میں ہندوستانی سائنسدانوں کا حوالہ شامل
رپورٹس میں اس حوالے سے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں کہ اسمارٹ ٹی وی کے کچھ فیچرز صارفین کے گھر میں ہونے والی آوازوں یا گفتگو کو سننے اور ان سے متعلق ڈیٹا جمع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس معاملے نے پرائیویسی اور ڈیٹا سیکوریٹی سے متعلق بحث کو ایک بار پھر تیز کر دیا ہے، کیونکہ اسمارٹ ڈیوائسز اب گھروں میں تیزی سے عام ہو رہی ہیں۔
ایل جی نے اپنے مؤقف میں واضح کیا ہے کہ اس کے اسمارٹ ٹی وی کے فیچرز مخصوص تکنیکی مقاصد کے لیے تیار کیے گئے ہیں اور کمپنی صارفین کی پرائیویسی کو اہمیت دیتی ہے۔ کمپنی کی جانب سے یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ صارفین کو دستیاب پرائیویسی سیٹنگز کے ذریعے بعض فیچرز کو اپنی ضرورت کے مطابق فعال یا غیر فعال کرنے کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ اس معاملے نے اس بات پر بھی توجہ مرکوز کی ہے کہ جدید اسمارٹ ٹی ویز صرف ٹی وی دیکھنے کے روایتی آلات نہیں رہے بلکہ ان میں وائس کمانڈ، اسٹریمنگ، انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی اور دیگر اسمارٹ فیچرز شامل ہو چکے ہیں۔ ان سہولیات کے باعث ڈیوائسز صارفین کے استعمال سے متعلق مختلف قسم کا ڈیٹا پروسیس کر سکتی ہیں، جس سے پرائیویسی کے حوالے سے نئے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:جیا بچن سے موازنہ میرے لیے اعزاز ہے: تاپسی پنو
ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کو اسمارٹ ٹی وی خریدنے یا استعمال کرنے سے قبل اس کی پرائیویسی پالیسی، ڈیٹا کلیکشن سیٹنگز اور وائس فیچرز کو سمجھنا چاہیے۔ خاص طور پر وائس سے متعلق فیچرز استعمال کرنے والے صارفین کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ کون سا ڈیٹا جمع کیا جا رہا ہے، اسے کس مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اسے کن حالات میں شیئر کیا جا سکتا ہے۔ ایل جی کی جانب سے وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کمپنیوں سے صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ اور شفافیت کے حوالے سے زیادہ سخت معیارات کی توقع کی جا رہی ہے۔ اسمارٹ ڈیوائسز کے بڑھتے استعمال کے ساتھ سہولت اور پرائیویسی کے درمیان توازن ایک اہم مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔