Inquilab Logo Happiest Places to Work

چینی کی قیمتوں میں اضافے کو ایتھنول سے جوڑنا درست نہیں : حکومت

Updated: August 21, 2026, 10:08 PM IST | New Delhi

مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ چینی کی قیمتوں میں اضافے پر قابو پانے اور تہواروں کے دنوں میں چینی کی وافر دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ذخیرہ اندوزی روکنے اور سپلائی بڑھانے کے لیے کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔

Sugar Mills.Photo:INN
شکرکی مل۔ تصویر:آئی این این

مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ چینی کی قیمتوں میں اضافے پر قابو پانے اور تہواروں کے دنوں میں چینی کی وافر دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ذخیرہ اندوزی روکنے اور سپلائی بڑھانے کے لیے کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس نے یہ بھی کہا ہے کہ قیمتوں میں حال ہی میں ہونے والے اضافے کو ایتھنول کی پیداوار سے جوڑنا صحیح نہیں ہے۔صارفین کے امور، خوراک اور عوامی نظام تقسیم کی وزارت کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ ایک ریلیز میں کہا گیا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور حکومت صورتحال پر باریک بینی سے نظر رکھے ہوئے ہے اور صارفین کے لیے چینی کی وافر دستیابی اور قیمتوں میں استحکام یقینی بنانے کے لیے کئی اقدامات کر رہی ہے۔ چینی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو ایتھنول کی پیداوار کے لیے چینی کے استعمال سے جوڑنا درست نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے:بیڈمنٹن ورلڈ چیمپئن شپ: ساتوک-چراغ کوارٹر فائنل میں ہار گئے

وزارت نے کہا ہے کہ موجودہ سیزن میں چینی کی پیداوار پہلے کے تخمینے سے کم ہوئی ہے، اس کے باوجود ملک میں چینی کا وافر اسٹاک دستیاب ہے، جس سے اکتوبر میں پرائی  کا نیا سیزن شروع ہونے تک گھریلو مانگ پوری کی جا سکے گی۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے ذخیرہ اندوزی کو روکنے کے لیے اسٹاک کنٹرول آرڈر، گنے کی پرائی  جلد شروع کرنے کا مشورہ جاری کرنے اور ۱۰؍ لاکھ ٹن خام چینی کی ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت جیسے اقدامات کیے ہیں۔
پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ چینی کی قیمت ۲۰؍ جولائی کے ۴۸ء۱۸؍ روپے فی کلوگرام سے بڑھ کر ۲۰؍ اگست کو  ۷۰ء۵۵؍روپے فی کلوگرام ہو گئی۔ یہ اضافہ کئی عوامل کی وجہ سے ہوا ہے۔ ان میں گھریلو پیداوار کا تخمینے سے کم رہنا، تہواروں کے سیزن سے پہلے مانگ میں اضافہ، موسمی وجوہات سے گنے کی فصل کو نقصان، عالمی سطح پر چینی کی سپلائی میں کمی نیز انڈسٹری کے کچھ طبقوں کے ذریعہ سٹے بازی اور ذخیرہ اندوزی شامل ہیں۔
وزارت نے کہا ہے’’واقعی، ایتھنول کی پیداوار کے لیے چینی کے استعمال کا حصہ ۲۳۔۲۰۲۲ءمیں تقریباً ۱۲؍ فیصد سے گھٹ کر ۲۶۔۲۰۲۵ءمیں تقریباً نو فیصد رہ گیا ہے۔ اس کے علاوہ، اب ملک میں تیار ہونے والے ایتھنول کا تقریباً تین چوتھائی حصہ اناج، خاص طور پر مکئی سے آتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:فلم ’’مونسٹر ‘ ‘ کے رول کی خاطر سلمان خان نے وزن کم کیا

وزارت نے کہا ہے کہ موجودہ سیزن میں چینی کی پیداوار تقریباً ۳۰۶؍ لاکھ ٹن رہنے کا تخمینہ ہے، جبکہ پہلے ریاستوں نے اس کے تقریباً ۳۴۳؍ لاکھ ٹن تک رہنے کا تخمینہ لگایا تھا۔ وزارت کے مطابق ریڈ راٹ اور ٹاپ بورر بیماریوں کے ساتھ ساتھ کئی علاقوں میں شدید بارش کے باعث پانی جمع ہونے سے گنے کی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔ ریلیز میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر چینی مہنگی ہوئی ہے اور اس کی سپلائی میں کمی ایک عالمی واقعہ ہے اور یہ صرف ہندوستان تک محدود نہیں ہے۔ سال ۲۷۔۲۰۲۶ء میں عالمی منڈی میں چینی کی مانگ کے مقابلے میں سپلائی تقریباً ۳۳؍ لاکھ ٹن کم رہنے کا تخمینہ ہے۔ موسمی خدشات نے بھی عالمی منڈی کے تخمینے کو متاثر کیا ہے۔
وزارت نے واضح کیا ہے کہ ایتھنول پروگرام سے کسانوں کو فائدہ اور چینی ملوں کی مالی حالت مضبوط ہوئی ہے۔ ملک میں عام طور پر ہر سال تقریباً  ۳۲۰؍ سے ۳۴۰؍ لاکھ ٹن چینی پیدا ہوتی ہے  جبکہ گھریلو کھپت تقریباً ۲۸۰؍ سے ۲۹۰؍ لاکھ ٹن ہے۔ زیادہ پیداوار والے سال میں اضافی چینی کا اسٹاک شوگر ملوں کے سرمائے کو بلاک کر دیتا ہے اور اس سے گنا کسانوں کی ادائیگی میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ اضافی چینی کو ایتھنول کی پیداوار کی طرف موڑنے سے اس مسئلہ سے نمٹنے میں مدد ملی ہے اور شوگر ملوں کی مالی حالت بہتر ہوئی ہے۔ اس سال ۲۰؍ اگست تک ۲۶۔۲۰۲۵ء کے شوگر سیزن کے گنا کسانوں کے ۹۷؍ فیصد بقایا جات کی ادائیگی کی جا چکی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK