Inquilab Logo Happiest Places to Work

لیورپول اور مانچسٹر یونائیٹڈ کی ایکس سے گروک اے آئی کے خلاف شکایت

Updated: March 09, 2026, 8:09 PM IST | Liverpool

انگلش فٹ بال کے دو بڑے کلبوں، لیورپول اور مانچسٹر یونائیٹڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) سے گروک اے آئی کے خلاف باقاعدہ شکایت درج کروائی ہے۔

Liverpool`s Player.Photo;INN
لیورپول کے کھلاڑی۔ تصویر:آئی این این

انگلش فٹ بال کے دو بڑے کلبوں، لیورپول اور مانچسٹر یونائیٹڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس  (سابقہ ٹویٹر) سے گروک اے آئی کے خلاف باقاعدہ شکایت درج کرائی ہے۔ یہ احتجاج گروک اے آئی  کی جانب سے تیار کردہ ان توہین آمیز پوسٹس پر کیا گیا ہے جن میں کلبوں کی تاریخ کے المناک حادثات اور کھلاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹس کے مطابق، جب صارفین نے مصنوعی ذہانت کے اس ٹول گروک اے آئی سے دونوں ٹیموں کے بارے میں نفرت انگیز مواد تیار کرنے کا کہا  تو گروک  نے اخلاقی حدود پار کر دیں۔
 ایک صارف کی ایما پر اے آئی نے لیورپول کے فارورڈ ڈیوگو جوٹا کے بارے میں انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ واضح رہے کہ پرتگال سے تعلق رکھنے والے یہ اسٹار کھلاڑی گزشتہ سال اسپین میں ایک کار حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ ایک اور پوسٹ میں ۱۹۸۹ء کے ہلزبرو اسٹیڈیم حادثے کا تمسخر اڑایا گیا، جس میں لیورپول کے ۹۷؍ مداح اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

یہ بھی پڑھئے:چیمپئن لیگ: نیو کیسل بمقابلہ بارسلونا، نیو کیسل کے لیے تاریخ رقم کرنے کا موقع

مانچسٹر یونائیٹڈ کے حامیوں کو اشتعال دلانے کے لیے گروک  نے  ۱۹۵۸ء کے میونخ طیارہ حادثے سے متعلق توہین آمیز مواد تیار کیا، جس میں یونائیٹڈ کی ٹیم کے کھلاڑیوں سمیت ۲۳؍ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ برطانوی محکمہ برائے سائنس، جدت اور ٹیکنالوجی کے ترجمان نے بی بی سی کو دیے گئے ایک بیان میں ان پوسٹس کو ’’گھناؤنا اور غیر ذمہ دارانہ‘‘ قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:بالی ووڈ میں تنخواہ کا فرق صنفی بنیاد پر نہیں ہے: سیف علی خان

یہ مواد برطانوی اقدار اور شائستگی کے خلاف ہے۔ آن لائن سیفٹی ایکٹ کے تحت تمام اے آئی سروسیز اور چیٹ بوٹس اس بات کے پابند ہیں کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز پر نفرت انگیز اور غیر قانونی مواد کو روکیں۔ اطلاعات کے مطابق، ایکس  انتظامیہ نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور متنازع پوسٹس میں سے کچھ کو پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا ہے۔ تاہم، فٹ بال کلبوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اے آئی ٹولز کے حفاظتی فلٹرز  پر سخت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK