سپریم کورٹ کا موقف،کہا:ا س کی قانونی حیثیت پر ابھی فیصلہ باقی ہے۔
EPAPER
Updated: October 29, 2026, 12:38 PM IST | Agency | New Delhi
سپریم کورٹ کا موقف،کہا:ا س کی قانونی حیثیت پر ابھی فیصلہ باقی ہے۔
سپریم کورٹ نے بدھ کو زبانی طور پر کہا کہ اس نے ابھی تک ایس آئی آرکے عمل میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے استعمال کی جانے والی ’’منطقی تضاد‘‘ (لاجیکل ڈسکریپنسی) کیٹیگری کی قانونی حیثیت پر فیصلہ نہیں کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ مغربی بنگال میں اس کیٹیگری کے استعمال کی اجازت عبوری انتظام کے طور پر دی گئی تھی۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ بہار میں ایس آئی آر سے متعلق اس کے فیصلے کو ’’منطقی تضاد‘‘ کیٹیگری کی توثیق نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ بہار میں اس کیٹیگری کا استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ کے رکن جسٹس جوائے مالیہ باغچی نے یہ تبصرہ دہلی میں ایس آئی آر سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران کیا۔ عرضی گزاروں نے ووٹرس کو اس زمرہ میں شامل کیے جانے پر سوال اٹھائے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: جامعہ ملیہ پولیس چھائونی میں تبدیل، راہل کا پروگرام ملتوی
انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی کے عمل میں الیکشن کمیشن ’’منطقی تضاد‘‘ کے تحت ان ووٹروں کے ریکارڈ کی نشان دہی کرتا ہے جن میں تضادات یا بظاہر بے قاعدگیاں پائی جاتی ہیں اور جن کی مزید تصدیق ضروری ہوتی ہے۔ ان ووٹروں سے یہ معاملہ مختلف ہے جنہیں ’’اَن میپڈ‘‘ قرار دیا جاتا ہے یعنی جن کی تفصیلات کو۲۰۰۲ء کے ریکارڈ سے جوڑا نہیں جاسکا۔
~بہار میں ایس آئی آر کا فیصلہ نظیر نہیں ہے۔ وہاں الیکشن کمیشن نے منطقی تضاد کو الگ زمرہ کے طور پر استعمال نہیں کیا تھا۔ ہم نے مغربی بنگال میں عبوری انتظام کے طور پر اس کے استعمال کی اجازت دی تھی۔ ہم نے منطقی تضاد کی قانونی حیثیت پر حتمی فیصلہ نہیں دیا ہے۔ ‘‘
جسٹس جوائے مالیہ باغچی