Inquilab Logo

پانچویں مرحلے کی پولنگ کے اعدادو شمار سے سیاسی پارٹیاں بے چین

Updated: May 22, 2024, 1:29 PM IST | Agency | New Delhi

۴۹؍ سیٹوں پر مجموعی پولنگ ۴۸ء۶۰؍ فیصد درج کی گئی جو ۲۰۱۹ء سے ۳۴ء۱؍ فیصد کم ہے البتہ ۲۴؍ مئی کو حتمی ڈیٹا جاری ہونے کے بعد یہ شرح بڑھ بھی سکتی ہے۔

During the fifth phase of polling, excitement was palpable in Muslim areas. Photo: Inquilab , Satij Shinde
پانچویں مرحلے کی پولنگ کے دوران مسلم علاقوں میں جوش و خروش قابل دید تھا۔ تصویر: انقلاب ، ستیج شندے

ایک دن قبل ۸؍ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی ۴۹؍ لوک سبھا سیٹوں پر ووٹ ڈالے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے اس کے اعداد وشمار منگل کو جاری کئے گئے۔ حالانکہ اس کے بعد بھی ان اعدادوشمار کو حتمی نہیں کہا جاسکتا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے دی گئی اطلاعات کے مطابق فائنل ٹرن آؤٹ ۲۴؍ مئی کو جاری کئے جائیں گے، اس کے بعد اس میں کچھ اضافہ ہونے کی گنجائش ہے۔ 
 الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کئے گئے اعدادوشمار کے مطابق پانچویں مرحلے میں کل ۶۰ء۴۸؍ فیصد پولنگ ہوئی ہے جوکہ ۲۰۱۹ء کے مقابلے محض۱ء۳۴؍فیصد کم ہے۔ خیال ہے کہ۲۴؍ مئی کو حتمی اعدادوشمار ظاہر ہونے کے بعد یہ فرق ختم بھی ہوسکتا ہے بلکہ سابقہ انتخابات کے مقابلے اس بار کا ٹرن آؤٹ بڑھ بھی سکتا ہے۔ ووٹنگ کی اس شرح نے سیاسی پارٹیوں کو بے چین کردیا ہے۔ اس کی وجہ سے حکمراں جماعت کی بھی نیند حرام ہے اور اپوزیشن کی بھی۔ سیاسی پارٹیاں اس بات کا حساب کتاب لگانے سے قاصر ہیں کہ پولنگ تک آنے والے یہ رائے دہندگان اپوزیشن جماعتوں کی باتیں سن کر آرہے ہیں یا حکمراں جماعتوں پر اپنے اعتماد کااظہار کرنے کیلئے۔ سیاسی جماعتوں میں سے کسی کو بھی اندازہ نہیں ہے کہ ووٹ کم یا زیادہ ہونے سے کسے نقصان ہوگا اور کسے فائدہ؟ 

یہ بھی پڑھئے: راجیو گاندھی کی شہادت کی ۳۳؍ ویں برسی پرمتعدد لیڈروں کی جانب سےخراج عقیدت

کمیشن کی طرف سے پیر کی رات دیر گئے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس مرحلے میں مغربی بنگال کی ۷؍ سیٹوں پر سب سے زیادہ۷۶ء۰۵؍ فیصد ووٹنگ ہوئی جبکہ سب سے کم ووٹنگ مہاراشٹر میں درج کی گئی جہاں ۵۴ء۳۳؍ فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ زیادہ پولنگ کے معاملے لداخ دوسرے نمبر پر رہا، جہاں ۶۹ء۶۲؍ فیصد ووٹنگ ہوئی۔ مہاراشٹر میں اگر ممبئی کی ۶؍ سیٹوں کی بات کریں تو اس بار ممبئی کے ۴۵ء۴؍ فیصد ووٹرس نے اپنے حق رائے دہی کااستعمال کیا۔ اگرچہ۲۰۱۹ء کے مقابلے میں ووٹنگ کی شرح کم ہی رہی ہے، لیکن یہ گزشتہ ۳۰؍ برسوں میں ووٹنگ کا دوسری بہترین شرح ہے۔ 
 اس مرحلے میں بہار کی کل۴۰؍ میں سے۵؍ سیٹوں کیلئے ۵۴ء۳۳؍ فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ اسی طرح جھارکھنڈ کی۱۴؍ میں سے۳؍ سیٹوں پر۶۳ء۰۹؍ فیصد ووٹنگ ہوئی۔ ادیشہ میں پانچویں مرحلے میں لوک سبھا کی۲۱؍ میں سے۵؍ سیٹوں پر پولنگ ہوئی جہاں ۶۹ء۳۴؍فیصد ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ اس مرحلے میں یوپی کی۸۰؍ میں سے۱۴؍ سیٹوں پر۵۷ء۷۹؍ فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ جموں کشمیر کی ۵؍ سیٹوں میں سے صرف ایک یعنی بارہمولہ کی سیٹ پر ووٹنگ ہوئی، جہاں ۵۸ء۱۷؍فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ یہ ٹرن آؤٹ ۱۹۸۴ء کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ 
 اس مرحلے میں بی ایس پی نے۴۶؍، بی جے پی نے ۴۰؍، کانگریس نے ۱۸؍، سماج وادی پارٹی نے ۱۰؍، شیوسینا (ادھو گروپ) نے ۷؍، ترنمول کانگریس نے ۷؍، شیوسینا (شندے) نے ۶؍، بیجو جنتا دل نے ۵؍، سی پی ایم نے ۵؍، سی پی آئی نے ۴؍، آر جے ڈی نے۴؍ اور ایم آئی ایم نے۴؍ سیٹوں پر امیدوار اُتارے تھے۔ اسی کے ساتھ ادیشہ اسمبلی کے دوسرے مرحلے کی۳۵؍ سیٹوں کیلئے بیجو جنتا دل اور بی جے پی نے ۳۵۔ ۳۵؍، کانگریس نے ۳۳؍ اور عام آدمی پارٹی نے ۱۰؍ امیدوارمیدان میں اتارے تھے۔ خیال رہے کہ لوک سبھا انتخابات کے پہلے مرحلے میں ۱۰۲؍ حلقوں، دوسرے میں ۸۸؍، تیسرے میں ۹۳؍، چوتھے میں ۹۶؍اور پانچویں مرحلے میں ۴۹؍ پارلیمانی حلقوں میں انتخابات ہو چکے ہیں ۔ 
بارہمولہ میں ۱۹۸۴ء کے بعد سب سے زیادہ پولنگ کا ریکارڈ
شمالی کشمیر کی پارلیمانی نشست پر۵۸ء۱۷؍فیصد ووٹنگ ریکارڈکی گئی ہے جو وہاں کی انتخابی تاریخ کی دوسری سب سے بڑی پولنگ ہے۔ چیف الیکٹورل آفیسر پی کے پول نے ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ جانکاری فراہم کی۔ انہوں نے بتایاکہ یہاں پر ۴۰؍سال قبل ۱۹۸۴ء میں ۶۱ء۰۹؍ فیصد پولنگ ہوئی تھی جو کہ آج تک کیلئے ریکارڈ ہے۔ خیال رہے کہ یہاں پر لوک سبھا کیلئے سب سے پہلا الیکشن ۱۹۶۷ء میں ہوا تھا۔ اُس وقت ۵۱ء۳۵؍ فیصد ووٹنگ درج کی گئی تھی۔ ۲۰۱۹ء میں انتخابات کے دوران یہاں پر۳۴ء۸۹؍ فیصد اور ۲۰۱۴ء میں ۳۹ء۱۳؍ فیصدرائے دہندگان نے اپنے حق رائے دہی کااستعمال کیا تھا۔ بارہمولہ میں ۲۰۱۹ء میں نیشنل کانفرنس اور ۲۰۱۴ء میں پی ڈی پی کے امیدوار کو کامیابی ملی تھی۔ اِ س مرتبہ وہاں سے عمر عبداللہ نیشنل کانفرنس کے امیدوار ہیں جنہیں کانگریس کی بھی حمایت حاصل ہے۔ 
کریڈٹ لینے کی ہوڑ
 بی جے پی نے اس ٹرن آؤٹ کاسہرا اپنے سر باندھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ دفعہ۳۷۰؍ کا خاتمہ ہے۔ نیشنل کانفرنس کے امیدوار عمرعبداللہ نے اس دعوےپر اعتراض کرتے ہوئے بی جے پی سے سوال کیا ہے کہ اگر یہ درست ہے توپھر ۱۹۸۴ء میں اس سے زیادہ پولنگ کیوں کر ہوئی تھی؟ 

مرحلہ وار پولنگ کا سرسری جائزہ
۱۹؍ اپریل کو پہلے مرحلے میں پولنگ کی شرح۶۶ء۱۴؍ فیصد تھی جبکہ ۲۰۱۹ء کے انتخابات میں انہی سیٹوں پر تقریباً۶۹ء۲۹؍ فیصد  ووٹنگ ہوئی تھی۔
۲۶؍ اپریل کو دوسرے مرحلے میں۶۶ء۷۱؍ فیصد ووٹنگ ہوئی تھی جبکہ ۲۰۱۹ء میں انہی سیٹوں پر یہ شرح۶۹ء۴۳؍ فیصد تھی۔
 ۷؍ مئی کو تیسرے مرحلے میں۶۵ء۶۸؍ فیصد ووٹنگ ہوئی تھی جبکہ ۲۰۱۹ء میں انہی سیٹوں پر۶۶ء۵۸؍ فیصد ووٹنگ ہوئی تھی۔
۱۳؍ مئی کو چوتھے مرحلے میں۶۹ء۱۶؍ فیصد ووٹنگ ہوئی جبکہ گزشتہ انتخابات میں ان تمام سیٹوں پر ووٹنگ کی شرح۶۸ء۸؍ فیصددرج کی گئی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK