Inquilab Logo Happiest Places to Work

لندن: عدالت کا نیرو مودی کو بینک آف انڈیا کو ۱۰۰؍ کروڑ روپے ادا کرنے کا حکم

Updated: June 24, 2026, 9:05 PM IST | London

برطانیہ کی لندن سرکٹ کمرشیل کورٹ نے مفرور ہندوستانی تاجر نیرو مودی کو بینک آف انڈیا کو تقریباً ۷ء۱۰؍ ملین ڈالر (۱۰۰؍ کروڑ روپے) ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ نیرو مودی نے ۲۰۱۲ء میں دبئی کی کمپنی فائر اسٹار ڈائمنڈ ایف زیڈ ای کو دیے گئے قرض کے لیے ذاتی ضمانت فراہم کی تھی، اس لیے وہ قرض کی ادائیگی کے ذمہ دار ہیں۔ عدالت نے مودی کے تمام اہم دفاعی دلائل مسترد کرتے ہوئے بینک کے حق میں فیصلہ سنایا۔

Fugitive Indian businessman Nirav Modi. Photo: INN
مفرور ہندوستانی کاروباری شخصیت نیرو مودی۔ تصویر: آئی این این

برطانیہ کی لندن سرکٹ کمرشیل کورٹ نے مفرور ہندوستانی کاروباری شخصیت نیرو مودی کے خلاف ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے انہیں بینک آف انڈیا کو تقریباً ۷ء۱۰؍ ملین امریکی ڈالر، یعنی تقریباً ۱۰۰؍ کروڑ روپے ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ نیرو مودی ۲۰۱۲ء میں دبئی میں قائم کمپنی فائر اسٹار ڈائمنڈ ایف زیڈ ای کو دیے گئے قرض کے سلسلے میں ذاتی ضامن تھے، لہٰذا قرض کی عدم ادائیگی کی صورت میں وہ براہِ راست ذمہ دار ہیں۔ عدالت کے جج سائمن ٹنکلر نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’’مسٹر مودی پرسنل گارنٹی کے تحت بینک کو ۱ء۴؍ ملین ڈالر (تقریباً ۹ء۳۸؍ کروڑ روپے) کی اصل رقم کے لیے ذمہ دار ہے۔ بینک کی طرف سے مقرر کردہ بنیاد پر حساب کیا گیا سود شامل کیا جانا ہے۔ مسٹر مودی نے یہ بتانے کے لیے کوئی دفاع فراہم نہیں کیا ہے کہ بینک اس رقم کا حقدار کیوں نہیں تھا۔‘‘ عدالتی دستاویزات کے مطابق ۲۰۱۲ء میں بینک آف انڈیا نے فائر اسٹار ڈائمنڈ ایف زیڈ ای کو قرض فراہم کیا تھا جس کے لیے نیرو مودی نے ذاتی ضمانت دی تھی۔ تاہم فروری ۲۰۱۸ء میں پنجاب نیشنل بینک کے تقریباً ۱۳؍ ہزار کروڑ روپے کے مبینہ فراڈ کے منظر عام پر آنے کے بعد فائر اسٹار گروپ شدید مالی بحران کا شکار ہو گیا۔

یہ بھی پڑھئے: گئو رکشکوں نے گاڑی روک کر باز پرس کی،ڈرائیور نے اپنے ساتھیوں کوبلالیا

اسی دوران نیرو مودی نے بینک آف انڈیا کو ایک ای میل بھیجا جس میں انہوں نے کہا کہ ان کے کاروباری اور مالیاتی آپریشنز منجمد ہو چکے ہیں، جس کے باعث وہ اپنی مالی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے قابل نہیں رہے۔ اس کے بعد اپریل ۲۰۱۸ء میں بینک آف انڈیا نے قرض کی سہولت ختم کرتے ہوئے ذاتی ضمانت کو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا اور ادائیگی کا مطالبہ کیا۔ بینک نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ متعدد یاد دہانیوں اور مطالبات کے باوجود قرض کی رقم ادا نہیں کی گئی۔ دوسری جانب نیرو مودی کے وکلا نے دلیل دی کہ بینک قرض کی واپسی کے لیے قانونی طور پر درست مطالبہ کرنے میں ناکام رہا اور اس لیے ذاتی ضمانت نافذ نہیں کی جا سکتی۔ مودی کے وکلاء نے یہ مؤقف بھی اپنایا کہ انہیں اپریل ۲۰۱۸ء اور اکتوبر ۲۰۲۵ء میں جاری کیے گئے نوٹس موصول نہیں ہوئے کیونکہ وہ اس دوران ہندوستان میں موجود نہیں تھے۔

یہ بھی پڑھئے: مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو پر مفادات کے ٹکراؤ کا سنگین الزام

تاہم عدالت نے یہ دلائل مسترد کر دیے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ خود نیرو مودی کی ای میل ان کی مالی مشکلات اور قرض ادا نہ کر سکنے کی صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔ مزید برآں، عدالت کے مطابق ۲۰۱۹ء میں ان کے قانونی نمائندے کو اپریل ۲۰۱۸ء کے نوٹس کی کاپی موصول ہو چکی تھی، جبکہ اکتوبر ۲۰۲۵ء کا نوٹس برطانیہ کی HMP Thameside جیل میں بھیجا گیا تھا جہاں اس وقت نیرو مودی قید تھے۔ عدالت نے تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد بینک آف انڈیا کے حق میں فیصلہ سنایا اور نیرو مودی کو اصل رقم کے ساتھ سود کی ادائیگی کا حکم دیا۔
واضح رہے کہ نیرو مودی اس وقت ہندوستان کے سب سے بڑے مالیاتی فراڈ مقدمات میں سے ایک کے مرکزی ملزم ہیں۔ فروری ۲۰۱۸ء میں پنجاب نیشنل بینک فراڈ کیس منظر عام پر آنے کے بعد وہ ملک چھوڑ کر برطانیہ فرار ہو گئے تھے اور بعد ازاں ہندوستان نے ان کی حوالگی کی درخواست دائر کی تھی۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران برطانیہ کی مختلف عدالتیں ان کی حوالگی کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کر چکی ہیں۔ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ دونوں نے ان کی درخواستیں خارج کر دی تھیں۔ عدالتوں نے ان کے ذہنی صحت، خودکشی کے خدشات اور ہندوستانی جیلوں کے حالات سے متعلق دلائل کو بھی تسلیم نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھئے: لکھنؤ آتشزدگی معاملے میں ۴؍ گرفتار،۴؍ افسران معطل، جانچ کیلئے ایس آئی ٹی تشکیل

ہندوستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے حال ہی میں کہا تھا کہ ’’ہم حوالگی کی درخواست کے معاملے پر برطانوی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ ہماری معلومات کے مطابق اس کیس میں قانونی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔‘‘ ذرائع کے مطابق نیرو مودی اب بھی اپنی حوالگی روکنے کے لیے یورپی عدالت برائے انسانی حقوق (ECHR) سے رجوع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے پاس دستیاب قانونی راستے اب انتہائی محدود رہ گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK