پولیس کےموقع پر پہنچ جانے سے بڑا تصادم ٹل گیا ، بی جے پی رکن اسمبلی کا پولیس پر’ گئو اسمگلروں ‘ کا ساتھ دینے کا الزام، پولیس کی تردید۔
جبراً گاڑی روکنے کا کیا مطلب ہے؟تصویر:آئی این این
گئورکشکوں کے ذریعے مویشیوں سے بھری ایک گاڑی کو روکے جانے پر اکولہ میں ماحول کشیدہ ہوتے ہوتے رہ گیا۔ گاڑی میں سوار نوجوان نے فون کرکے اپنے ساتھیوں کو بلالیا اور دونوں گروہوں میںتصادم کی صورتحال پیدا ہو گئی لیکن پولیس نے عین موقع پر پہنچ کر حالات کو قابول میں کر لیا۔
اطلاع کےم طابق اکولہ ضلع کے بارشی ٹاکلی تعلقے میں واقع سندھ کھیڑ گاؤں میں نام نہاد گئو رکشکوں نے ایک گاڑی کو روکا اور اس کے ڈرائیور کو اتار لیااور اس سے باز پرس کرنے لگے۔اس نوجوان نے فون کرکے اپنے ساتھیوں کو موقع پر بلایا۔ کچھ ہی دیر میں ۲۰؍ تا ۲۵؍ لوگوں کا ایک گروپ وہاں آگیا اور گئو رکشکوں سے لڑنے لگا۔ قریب تھا کہ کوئی بڑا تصادم ہو جاتا بارشی ٹاکلی پولیس کے اہلکار بھی وہاں پہنچ گئے۔انہوں نے دونوں گروہوں کو الگ کیا اور وہاں سے جانے دیا۔
اس پر بی جے پی سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی ہریش پمپل نے الزام لگایا کہ پولیس کی موجودگی میں اتنا بڑا جھگڑا ہونے کے باوجود متعلقہ نوجوانوں کے خلاف فوری کارروائی نہیں کی گئی۔ اسکے برعکس، پولیس نے گئو رکشکوںکو کارروائی کی دھمکی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے گائے کا گوشت لے جانے والے نوجوانوں کو جانے دیا اور ان کا سامان واپس کر دیا۔حالانکہ ان کا ویڈیو بھی سامنے آیا ہے جس میں دکھائی دے رہا ہے کہ وہ لوگ لوہے کے پائپ پکڑے ہوئے ہیں اور غنڈہ گردی کر رہے ہیں۔ جبکہ پولیس صرف تماشہ دیکھ رہی ہے۔ رکن اسمبلی نے معاملے کی مکمل تحقیقات کروانے اور خاطیوںکے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ نیز انہوں نے پولیس سپرنٹنڈنٹ سے غفلت برتنے والے پولیس اہلکاروں کو معطل کرنے کی مانگ کی۔دریں اثنا، اکولہ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ ارچیت چانڈک نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ متعلقہ نوجوانوں کو جانے نہیں دیا گیا بلکہ امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پولیس کی نگرانی میںوہاں سے بھیج دیا گیا کیونکہ جائے وقوعہ پر ۱۵۰؍ سے زیادہ لوگوں کا ہجوم جمع تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ متعلقہ نوجوان کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور اس کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے۔