Inquilab Logo Happiest Places to Work

لندن: فلسطین ایکشن کی حمایت کرنے والے۵۲۳؍ مظاہرین گرفتار

Updated: April 12, 2026, 9:05 PM IST | London

لندن پولیس نے فلسطین ایکشن کی حمایت کرنے والے۵۲۳؍ مظاہرین کو گرفتار کر لیا، ایمنسٹی یوکے نے بڑے پیمانے ان گرفتاریوں کو ’’شہری آزادی پر ضرب‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ پہلے ہی اس گروپ پر پابندی کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔

A pro-Palestinian protester is arrested and taken away by police. Photo: X
فلسطین حامی مظاہرے میں شامل ایک کارکن کوپولیس گرفتار کرکے لے جاتے ہوئے۔ تصویر: ایکس

برطانوی پولیس نے بتایا کہ لندن میں ممنوعہ کارکن گروپ’’ فلسطین ایکشن‘‘ کی حمایت میں ہونے والے مظاہرے میں کم از کم۵۲۳؍ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔میٹروپولیٹن پولیس نے ایک بیان میں کہا، ’’آج۵۲۳؍ افراد کو ایک ممنوعہ تنظیم کے لیے حمایت کا مظاہر کرنے پر گرفتار کیا گیا۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ گرفتار افراد کی عمریں۱۸؍ سے ۸۷؍ سال کے درمیان ہیں۔پولیس نے یہ بھی کہا کہ یہ گرفتاریاں ڈیفینڈ آور جیوریز کی طرف سے منعقد کردہ ایک ممنوعہ تنظیم کے لیے حمایت ظاہر کرنے  کے سلسلے میں کی گئی ہیں۔ جس سے مراد فلسطین ایکشن ہے۔بعد ازاں یہ مظاہرہ ختم ہو گیا اور اس میں ملوث افراد نے مرکزی لندن کے ٹریفالگر اسکوائر کو خالی کردیا ہے۔پولیس نے کہا، ’’افسران گرفتار افراد کی کارروائی مکمل کر رہے ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: غزہ اور لبنان پر اسرائیلی حملوں کیخلاف برلن اور میلان میں ہزاروں افراد کا احتجاج

ڈیفینڈ آور جیوریز گروپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ پولیس "جان بوجھ کرپرامن مظاہرین کو  غیر قانونی طور پر  گرفتار کر رہی ہے کیونکہ وہ تختیاں اٹھائے ہوئے ہیں جن پر لکھا ہے، ’’میں نسل کشی کے خلاف ہوں ، ‘‘’’میں فلسطین ایکشن کی حمایت کرتا ہوں۔‘‘دریں اثناء ایمنسٹی یوکے نے ان گرفتاریوں کو ’’اس ملک میں شہری آزادی پر ایک اور ضرب‘‘ قرار دیا، اور فروری میں ہائی کورٹ کے اس فیصلے کی طرف اشارہ کیا جس میں فلسطین ایکشن پر پابندی کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔ساتھ ہی ایمنسٹی نے لکھا، ’’یہ پولیسنگ نہیں ہے۔ یہ ریاست کی طرف سے اختلاف رائے کو جرم قرار دینا ہے۔‘‘تاہم میٹروپولیٹن پولیس نے اعلان کیا کہ اس نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے باوجود بھی فلسطین ایکشن کی حمایت کرنے والے کسی بھی شخص کو گرفتار کرنا دوبارہ شروع کر دیا ہے۔واضح رہے کہ اس گروپ پر گزشتہ جولائی میں ٹیررازم ایکٹ کے تحت اس وقت پابندی عائد کی گئی تھی، جب اس کے ارکان نے ایک رائل ایئر فورس بیس میں داخل ہو کر دو طیاروں پرا سپرے پینٹ سے نقاشی کی، جس سے۹؍ اعشاریہ ۴؍ ملین ڈالر کا نقصان ہوا۔اس کے علاوہ برطانیہ بھر میں سینکڑوں فلسطین حامی  کارکن گرفتار کیے گئے۔جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بڑھتی ہوئی کارروائی  پر تنقید کرتے ہوئے حکومت سے پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK