Inquilab Logo Happiest Places to Work

لندن: یہ جمہوریت کی بھی لڑائی ہے؛ گریٹا تھنبرگ طلبہ کے احتجاج میں شریک

Updated: July 27, 2026, 4:04 PM IST | London

ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ نے لندن میں بھارتی طلبہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ یہ جدوجہد صرف تعلیمی اصلاحات تک محدود نہیں بلکہ جمہوریت، انصاف اور احتساب کی وسیع تر لڑائی بھی ہے۔ انہوں نے احتجاج کرنے والے نوجوانوں کی ہمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دنیا بھر کے لوگوں کو امید دی ہے اور عوامی طاقت کا حقیقی مطلب یاد دلایا ہے۔ احتجاج میں بھارتی تارکینِ وطن، طلبہ تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے بھی شرکت کی۔

Greta Thunberg addressing students. Photo: X
گریٹا تھنبرگ طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے ۔تصویر: ایکس

دنیا بھر میں ماحولیاتی تحریک کی نمایاں آواز سمجھی جانے والی گریٹا تھنبرگ نے لندن میں بھارتی طلبہ کے حق میں منعقدہ احتجاج میں شرکت کرتے ہوئے ان کی تحریک کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔ یہ مظاہرہ ٹرافلگر اسکوائر سے شروع ہو کر ہندوستانی ہائی کمیشن تک نکالے گئے مارچ کا حصہ تھا، جہاں برطانیہ میں مقیم ہندوستانی طلبہ، سماجی کارکنوں اور مختلف تنظیموں نے تعلیمی اصلاحات اور طلبہ کے حقوق کے حق میں آواز بلند کی۔ احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے گریٹا تھنبرگ نے کہا کہ ’’یہ صرف امتحانات یا تعلیمی نظام کی لڑائی نہیں بلکہ جمہوریت، انصاف اور جوابدہی کی وسیع تر جدوجہد ہے۔‘‘ ان کے مطابق جب نوجوان بہتر مستقبل کے لیے پرامن انداز میں آواز اٹھاتے ہیں تو دنیا بھر کے لوگوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان کے ساتھ کھڑے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی طلبہ نے ثابت کیا ہے کہ منظم، پرامن اور مسلسل جدوجہد تبدیلی کی امید پیدا کر سکتی ہے۔ 
گریٹا تھنبرگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستانی نوجوانوں نے ’’ہم سب کو امید دی ہے‘‘ اور ’’عوامی طاقت کا حقیقی مطلب‘‘ دنیا کے سامنے رکھا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کی آواز کو دبانے کے بجائے اسے سنا جانا چاہیے، کیونکہ جمہوری معاشروں کی مضبوطی شہریوں کی آزادانہ شرکت اور اظہارِ رائے سے وابستہ ہوتی ہے۔ احتجاج میں شریک طلبہ تنظیموں اور ہندوستانی تارکینِ وطن نے کہا کہ ان کا مقصد ہندوستان میں جاری طلبہ تحریک کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا اور تعلیمی نظام میں شفافیت، احتساب اور اصلاحات کے مطالبات کی حمایت کرنا ہے۔ منتظمین کے مطابق لندن کے علاوہ یورپ، شمالی امریکہ اور دیگر ممالک کے مختلف شہروں میں بھی یکجہتی کے مظاہرے منعقد کیے جا رہے ہیں، جن میں ہندوستانی برادری اور مقامی سماجی کارکن شریک ہو رہے ہیں۔ 
یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہندوستان میں NEET کے مبینہ پرچہ لیک اور امتحانی نظام میں اصلاحات کے مطالبات نے ایک وسیع تحریک کی شکل اختیار کر لی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں جنتر منتر پر کئی ہفتوں تک جاری دھرنے، حکومت اور احتجاجی قیادت کے درمیان مذاکرات، عدالتی کارروائیوں اور مختلف ریاستوں میں احتجاجی مظاہروں نے اس معاملے کو قومی بحث کا مرکز بنا دیا۔ اسی دوران بیرونِ ملک مقیم ہندوستانی طلبہ اور تارکینِ وطن نے بھی مختلف شہروں میں اظہارِ یکجہتی کی مہم شروع کی ہے۔ گریٹا تھنبرگ اس سے قبل بھی دنیا بھر میں مختلف سماجی اور انسانی حقوق سے متعلق تحریکوں میں اظہارِ یکجہتی کرتی رہی ہیں۔ لندن میں ان کی موجودگی نے بھارتی طلبہ کی اس تحریک کو بین الاقوامی سطح پر مزید توجہ دلائی، جبکہ ان کے بیان نے تعلیمی اصلاحات کی بحث کو جمہوریت، شہری آزادیوں اور نوجوانوں کی سیاسی شرکت جیسے وسیع موضوعات سے بھی جوڑ دیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK